“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
شعور کبھی مہنگی سٹوڈیو لائٹس، مہنگے مائیک اور مہنگے برینڈڈ سوٹ اور مہنگے ترین کیمروں کا محتاج نہیں ہوتا۔
میں نہیں جانتا یہ لڑکا کون ہے۔
لیکن یہ ہزاروں حسن ایوب، منیب فاروق، جاوید چوہدری، سہیل وڑائچ اور ریحان طارق جیسوں سے زیادہ باشعور ہے اور اس کی باتیں سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
��واتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
اس روز اس کا بدلہ ہوا سا لہجہ سب نے محسوس کیا۔ عین ان لمحات میں جب اس نے جیب سے کاغذ کا یہ ٹکڑا نکالا تو اسکی آواز میں کچھ ایسا سنا جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ یہ ملکی آزادی ، خودمختاری اور ترقی کی پکار تھی۔ اسکے بعد سے سب جیسے رک گیا۔
27 مارچ پریڈ گراونڈ اسلام آباد
دنیا عمران خان کو پکار رہی ہے سابق کرکٹرز سے اہلِ علم تک اور فلسطین کے بچوں تک دنیا بھر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ترک شاعر @turgayEvren1 کا نغمہ پوری دنیا میں گونج رہا ہے، اُس عمران خان کی آزادی کے لئے جس کی آواز غزہ، کشمیر اور انصاف کی ہر جدوجہدِ میں اہم ہے۔
"دنیا کو عمران خان کی ضرورت ہے
آپ سلاخوں کے پیچھے کیوں ہیں؟"
یہ محض ایک اپیل نہیں ایک تحریک ہے
#WhatAreTheyHiding
ایک ٹاؤٹ نے سینیٹر مشتاق سے سوال کیا
کہ
“عمران خان نے اسرائیل کی مزمت نہیں کی
کیا
آپ عمران خان کی بھی مذمت کریں گے”
۔۔
“سینیٹر مشتاق نے جو جواب دیا ہے اسے سن کر ڈوب مرنا چاہیے اگر واقعی حلالی ہوا تو”
اقرار الحسن شرم کرو
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو ��ود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ ��س ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا ��ارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈ��تھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کے غنڈوں کی عمران خان صاحب کی بہنوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ خود کو فرعون سمجھنے والے مرد سے مقابلہ نہیں کر پا رہے ��و گھر کی عورتوں پر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان صاحب کی اہلیہ پر بھی گھٹیا ترین الزامات لگا کر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ یہ سب بزدلی اور بغیرتی کی اعلیٰ مثال ہے۔
آج ایک صوبائی وزیر مینا خان پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔ قومی اسمبلی کے رُکن شاہد خٹک اور باقی صوبائی و قومی اسمبلی ممبران کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ مُلک میں جمہوریت اور آئین و قانون کا جنازہ نکل چُکا ہے۔
یاد رکھنا کہ یہ سب لکھا جا رہا ہے۔ پھر نا کوئی عورت کارڈ کام آئےگا، نا جمہوری اقدار اور نا ہی اخلاقیات۔ اب یہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے اور حالات کو زبردستی اُس طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔القرآن ترجمہ
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
Absolutely Not
@ImranKhanPTI
اڈیالہ کی خاموش دیواروں میں سے عمران خان کی آواز گونجی۔
میں بتاتا ہوں کہ یہ واقع کب پیش آیا۔
عمران خان نے دنیا کے سٹیج پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ کر ٹرمپ اور بین الاقوامی گلوبل آرڈر کو چیلنج کر دیا تھا۔ مگر مجھ سے بھی ایک بڑے انکار کے لیے خان صاحب نے انہی الفاظ کا انتخاب کیا۔
گرفتاری کے چند ماہ بعد کی بات ہے۔ قیدی نمبر ۸۰۴ کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔ اُس وقت یہ امکان پیدا ہوا کہ خان صاحب کو جو سزائیں دھاندلی سے دی جا چکی ہیں، انہیں عوام اور عمران خان کے دیے ہوئے صدارتی آئینی اختیارات استعمال کر کے ایمنیسٹی یا معافی کا اعلان کر کے معطل کردوں۔
اُن حالات میں اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹوں کے باوجود میرا خان صاحب سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ میری کئی بار استعفیٰ کی درخواست کو عمران خان یکسر مسترد کر چکے تھے۔ ہر معاملے میں مشاورت ہوتی تھی جس میں کچھ دوست بشمول محترم رؤف حسن اور سینیٹر علی ظفر معاونت کرتے رہتے تھے۔
میں نے اپنے لیڈر کو پیغام بھیجا کہ جن مقدمات میں انہیں سزا ہو چکی ہے، ان میں پارڈن یا معافی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ پیغام کے ساتھ اپنی رائے بھی ظاہر کی کہ
۱) میں چار مقدمات میں تو پارڈن کر سکتا ہوں، باقی ۱۹۶ جو چل رہے ہیں انکا کیا ہوگا؟
۲) خان صاحب نے جب کوئی جرم ہی نہیں کیا، تو کس بات کی معافی؟
۳) عدلیہ کو انصاف کرنا چاہیئے اور حکومت جھوٹے ایف آئی آر واپس لے۔
دوستوں سے گزارش کی کہ عمران خان کو میری رائے مت بتائیں جب تک وہ خود فیصلہ نہ کر لیں۔چنانچہ یہی ہوا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے خان صاحب نے اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میں پوچھا کہ علوی کیا کہتا ہے۔ رفقاء نے جواب دیا کہ پہلے آپ فیصلہ کریں۔ عمران خان نے کہا کہ
Absolutely Not
اور وہی منطق دی جو خاکسار نے پیش کی تھی کہ جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو کس بات کی پارڈن۔
جو لوگ دنیا میں “لا إله إلا الله” سے بات شروع کریں اور ��رعونوں کے آگے انکار اور نفی کی بساط بچھائیں، اُن سے اقتدار چھین لیا جاتا ہے۔ مگر یہی للکار ہے میرے نبیﷺ کی سنت پھر سونے پر سہاگہ کہ اکیسویں صدی میں عمران خان کا اسرار ہے کہ إياك نعبد وإياك نستعين۔
یہ اعلان جنگ ہے جھوٹے خداوں کے خلاف جو دنیا کے قوانین میں استثنٰی تلاش کر رہے ہیں۔ معصوم انبیاء کے علاوہ کسی کو بھی کوئی استثنٰی نہیں۔ صحابہؓ اور خلفاءِ راشدینؓ نے بھی دنیا میں استثنٰی نہیں لی۔
قیامت تو قیامت ہوگی۔ اس دن صرف اللہ کا رحم کام آئے گا، نبی ﷺ کی شفاعت ہوگی، ورنہ ہم اور آپ تو بے یار و مددگار ہوں گے۔ دنیا میں بھی اللہ کا قانون چلتا ہے اور قیامت میں تو کاینات اُس کا جلال دیکھے گی۔
ایک مرتبہ اور اڈیالہ سے آواز گونجے گی جب قیدی نمبر ۸۰۴ کو پتہ لے گا کہ آئین کی فاتحہ پڑھی جا چکی ہے۔
Absolutely Not
#ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا
“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
کہاں ہیں ٹرمپ کے خوشامد کرنے والے پاکستانی حکمران؟؟؟
غزہ میں آگ اور خون کی بارش نہ تھمی۔
غزہ میں 13 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے فائربندی کی 80 خلاف ورزیاں کی ہیں یعنی 13 سے زیادہ حملے اور فائرنگ روزانہ۔
ان حملوں می�� 97 فلسطینی جاں بحق اور 230 شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیل مصر غزہ سرحد پر رفح پھاٹک کو بھی بند کردیاہے جو کہ انسانی امداد کا یہ سب سے تیز اور آسان راستہ ہے۔
عالمی برادری غزہ میں امریکی سرپرستی میں دوباری شروع ہونے والے اس قتل عام کیخلاف اٹھیں ۔
@Pak_PalForum
بالکل غلط بات ہے مجھے خود عمران خان صاحب نے گورنر ہاؤس لاھور میں بلا کر تحریکُ لبیک سے مذاکرات کے لئیے بھیجا تھا جس کے بعد میں دو دفعہ سعد رضوی سے جیل میں ملا اور دھرنے میں ٹی ایل پی کی قیادت سے مذاکرات کئے جو رات گئے فائینل ہو گئے تھے ، جنہیں رات ایک بجے اعجاز چوھدری صاحب کے موبائل سے عمران خان کو مطلع کر دیا گیا تھا جنہوں اگلے دن لاھور آکراس کا اعلان کرنا تھا ، وہ لاھور آئے لیکن پھر جنرل فیض وغیرہ کے کچل دو کے مشورے مانے گئے اور انہیں شاھد رہ میں ٹریپ کر لیا گیا جہاں بہت خونریزی ہوئی ۔ اس کے بعد جب ان کا دھرنا دریائے چناب پہنچ گیا تو حالات مزید بگڑنے سے بچانے کے لئیے سعد رضوی کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا ، اس دوران جنرل باجوہ کی مجھ سے چالیس منٹ بات ہوئی ، اس نے کہاکہ رانا ثناء اللہ نے دھرنے میں اپنے دوسو لوگ بھیجے ہیں اور وہ میرے خلاف قادیانی کا نعرہ لگا رہے ہی�� اور رخ میری جانب موڑ رہے ہیں ،پھر مفتی منیب ، عقیل ڈھینڈی اور سیلانی والے فاروقی صاحب کو کراچی سے بلایا گیا تھا اور عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کو بھیجا تھا تاکہ حالات کو بگڑنے سے روکا جائے۔اس رات ایک بجے پریس کانفرنس میں معاھدے کااعلان ہوا
حافظ نعیم الرحمٰن کے عمران خان سے متعلق ریمارکس پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل:
ریموٹ کنٹرول سیاستدانوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف حافظ نعیم الرحمٰن کے حالیہ بیان کو مضحکہ خیز، بد نیتی پر مبنی اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کی ایک اور کوشش قرار دیتی ہے۔
حافظ نعیم جیل ��یں قید ایک عوامی لیڈر کے ایمان، غیرت اور جذبۂ فلسطین پر تبصرہ کر رہے ہیں یہ ان کی سیاسی بدنیتی اور فکری غلامی کی انتہا ہے۔
چند ماہ قبل حافظ نعیم خود فلسطین مارچ کے سلسلے میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ملے تھے اور تحریکِ انصاف نے اُس وقت جماعتِ اسلامی کے مارچ کی غیر مشروط حمایت اور بھرپور شرکت کی تھی۔
عمران خان وہ واحد پاکستانی رہنما ہیں جنہوں نے اسرائیل اور مقامی غلام حکمرانوں کے خلاف ہمیشہ دوٹوک موقف اپنایا۔
جتنا واضح اور جرات مندانہ مؤقف عمران خان کا فلسطین پر ہے، اتنا کسی اور سیاستدان کا نہیں رہا۔
تحریکِ انصاف کے جاری بیانات دراصل عمران خان ہی کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔
حافظ نعیم صاحب!
کیا آپ کو سینیٹر مشتاق احمد کے لیے بولنے کی اجازت نہیں ملی؟
جو اسرائیلی قید میں ہیں، اُن کے لیے آپ کی زبان کیوں بند ہے؟
کیا اُن کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے “ہدایات” موصول نہیں ہوئیں؟
نواز شریف کی خاموشی پر بھی کبھی سوال کر لیجیے، یا وہ موضوع اجازت نامے سے باہر ہے؟
قوم جانتی ہے کہ ریموٹ کنٹرول سیاستدان کب، کہاں اور کس کے اشارے پر بولتے ہیں۔
لہٰذا حافظ نعیم اداروں کی خدمت جاری رکھیں، مگر اُس رہنما پر زبان نہ چلا��یں جو قوم کے ضمیر، حریت اور خودداری کی علامت بن چکا ہے۔
منجانب:
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریکِ انصاف