مولانا قاری تنویر صاحب گوجرانوالہ میں ایک مدرسہ کے مہتمم اور دینی تعلم سے طالب علموں کو روشناس کروانے کا اہم فریضہ سر انجام دے رہے تھے لیکن ساتھ ساتھ قاری صاحب مدرسے کے اندر ہی چھوٹے چھوٹے معصوم طالب علموں جنکی عمریں آٹھ نو دس سال ہیں انکو ریپ بھی کرتے رہے
قاری صآحب کا بطور عالم دین اکرام اپنی جگہ پر لیکن معصوم بچوں کو ریپ کرنے جیسا قبیح فعل کرنے پر قاری صاحب کی جتنی مذمت اور مرمت کی جاے وہ کم ہے
گو مسلمانوں کے جذبات اس بات مجروح ہوں گے کہ ایک عالم دین کے بارے میں ایسی بات لیکن عالم دین کا فعل بھی تو دیکھیں کتنا انسانیت سوز ہے
اپنے بچوں کو ایسے درندہ صفت قاری کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں انکی حفاظت کریں
@asadnasir2000 Distorted audio means Total BLACKMAILING.
@suneelmunj must approach the @NCCIAOFFICIAL because his call was recorded without his permission, floated on social media and a negative campaign hurt his goodwill and his business. A fit case .
یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ تاریک ترین لمحہ تھا جب انصاف کے ایوانوں نے خونخوار انتہا پسندی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ قانون کا مذاق اس سے بڑا اور کیا ہوگا کہ توہین کے حساس ترین مقدمات انہی کے حوالے کیے جاتے رہے جن کی اپنی سوچ ہی تعصب اور انتہا پسندی سے آلودہ تھی۔