خڑ قمر کے واقعہ پر جب مراد سعید نے اسمبلی میں ہمیں گالیاں دی اور ہمارے شہداء کو مزاق بنایا ۔ تو ہمیں بھی جواب تو دینا تھا ۔ ❤️🖤
@mjdawar ہمیں آپ پر فخر ہے
بونیر: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین محسن داوڑ نے بونیر کا دورہ کیا۔ چیئرمین محسن داوڑ نے مشکل اور غم کی اس گھڑی میں بونیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔
چیئرمین محسن داوڑ نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پیر بابا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔
اس موقع پر این ڈی ایم کے رحیم داوڑ اور نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عاطف رشید بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔
Went to Buner to express solidarity with our people who suffered immensely and lost so much. Many dead bodies remain trapped under the rubble of collapsed buildings. We appeal to international orgs, provincial, federal govts to provide every assistance possible to affected areas.
Devastating floods ravage Malakand Division, leaving destruction in their wake. Urgent support needed to help those affected. This video shows the devastation in Saidu Sharif, Swat. Very distressing and concerning.
The so called military operation in Bajuar has resulted in civilians being martyred and injured. There has never been any accountability for military operations in Pakhtunkhwa. Innocent Pashtuns are killed in military operations just as they are killed in terrorist attacks.
We strongly condemn the security forces for opening fire indiscriminately on civilians in Tirah, Khyber Pakhtunkhwa, resulting in numerous locals being martyred and injured - another egregious act of Pashtun genocide.
مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت
یہودیوں میں:
یہودی عورت کو آدم کے جنت سے نکالے جانے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عورت حیض کے دوران ناپاک ہوتی ہے اور ان کے پاس اسے بیچنے اور وراثت سے محروم کرنے کا حق تھا۔ انہوں نے عورت پر انتہائی ظلم کیا اور اسے حقوق سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق عورت ایک لعنت ہے کیونکہ اس نے آدم کو ورغلایا۔ تورات میں آیا ہے: "عورت موت سے بھی زیادہ تلخ ہے، اور جو اللہ کے سامنے نیک ہے وہ اس سے بچ جائے گا۔"
مسیحیوں میں:
عورت انسان ہے لیکن اسے مرد کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کی روح جہنم کے عذاب سے بچنے والی روح سے خالی ہے، سوائے "مسیح کی ماں" کے۔
قدیم ہندوؤں میں:
ہندو عورتیں اگر ان کے شوہر مر جاتے تو انہیں شوہر کی لاش کے ساتھ آگ میں جلا دیا جاتا تھا، اور بعض اوقات انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔
چینی اور جاپانیوں میں:
چینیوں کے نزدیک عورت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی اور اسے "دردناک پانی" کہتے تھے۔ عورت کو مرد کے گھر میں برائی سمجھا جاتا تھا جسے وہ جب چاہے نکال سکتا تھا۔ شوہر کے مرنے پر اسے گھر میں جانوروں کی طرح خدمت کے لیے رکھا جاتا تھا۔ جاپانیوں میں بھی سخت باپ کے نظام کا رواج تھا جہاں باپ کو بیٹی یا بیٹے کی بیوی کو خاندان سے نکالنے کا حق تھا، یہاں تک کہ اپنی بیٹی کو قتل کرنے اور بیٹیوں کو بیچنے کا حق بھی حاصل تھا۔
فارسیوں میں:
عورت کو فارسیوں میں ذلیل کیا جاتا تھا اور اسے فساد کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے وہ ظلم و ستم کے تحت زندگی گزارتی تھی اور شوہر کے مکمل اختیار میں ہوتی تھی۔
یونانیوں میں:
یونانی عورت کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور اسے "شیطان کا عمل" کہا جاتا تھا۔ وہ بازار میں بیچی اور خریدی جاتی تھی، حقوق سے محروم اور وراثت اور مال کے استعمال کے حق سے محروم تھی۔ مشہور یونانی فلسفی ارسطو نے کہا: "عورت مرد کا غیر مکمل حصہ ہے، اور فطرت نے اسے تخلیق کی نچلی سطح پر چھوڑ دیا ہے۔" سقراط نے کہا: "عورت دنیا میں بحران کا سب سے بڑا سبب ہے، عورت زہریلے درخت کی مانند ہے جس کا ظاہری حصہ خوبصورت ہے لیکن اس کے پھل سے پرندے مر جاتے ہیں۔"
رومیوں میں:
رومی عورت کی حالت یونانیوں جیسی ہی تھی، بلکہ زیادہ خراب۔ اسے غوا کی چیز سمجھا جاتا تھا، خریدی اور بیچی جاتی تھی، اور اس کے شوہر کے پاس اس کی زندگی اور موت کا حق ہوتا تھا۔ عورت کی کوئی روح نہیں سمجھی جاتی تھی اور اسے آخرت کی زندگی کا وارث نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جاگنے، ہنسنے، اور بولنے کی ممانعت تھی، اور اس کا وقت خدمت اور اطاعت میں گزارنا تھا۔ "جاگوس" نے کہا: "ہماری عادت یہ ہے کہ عورتوں کو اپنے کم عقلی کی وجہ سے زیر نگرانی رکھا جائے۔" انہیں بات کرنے سے روکنے کے لیے ان کے منہ میں لوہے کے قفل ڈالے جاتے تھے۔
جاہلیہ عرب میں:
جاہلیہ عرب میں عورت کو ایک متاع سمجھا جاتا تھا اور اسے مال اور جانوروں کی طرح تصرف میں رکھا جاتا تھا۔ انہیں وراثت کا حق نہیں دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا: "ہمیں صرف وہی وارث ہو سکتا ہے جو تلوار اٹھا سکے اور قبیلے کی حفاظت کرے۔" وہ بیٹیوں کو ذلیل سمجھتے تھے اور انہیں زندہ دفن کر دیتے تھے۔
جدید مغربی تہذیب میں:
انگلینڈ میں عورت کو بازار میں شلنین کے عوض بیچا جاتا تھا کیونکہ وہ چرچ پر بوجھ بن گئی تھی۔ 1882 تک عورت کو جائداد کی ملکیت اور خرید و فروخت کی مکمل آزادی نہیں ملی تھی۔ بلغراد میں عورتیں ترازو میں بیچی جاتی تھیں۔ آج کی مغربی تہذیب میں عورت کو اشتہارات اور مصنوعات کی فروخت کے لیے غوا کی چیز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جنسی صنعت میں عورت کا استحصال ہوتا ہے اور اسے ایک متاع سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ "سفید غلامی" کا کاروبار بھی پایا جاتا ہے۔
اسلام میں:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورتیں مردوں کی شریک ہیں۔" اسلام جسے بہت سے لوگ عورت کے ظلم کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، واحد مذہب ہے جس نے عورت کو عزت اور حقوق دیے ہیں۔ تمام شرعی نصوص عورت کے احترام پر زور دیتی ہیں اور اس پر ظلم و ستم کی سخت سزا تجویز کرتی ہیں۔ سورہ نساء میں عورت کے حقوق اور اس کے امور کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسلام میں عورت کو مکمل حقوق اور آزادی حاصل ہے جو اس کی عزت و حرمت کو محفوظ رکھتے ہیں۔
فرانسیسی مورخ "گوستاو لوبون" کہتے ہیں: "یورپیوں نے مسلمانوں سے عورت کی عزت کے اصول سیکھے جو عورت کو پست حالت سے بلند کر گئے۔"
ان سب کے باوجود، کچھ لوگ اسلام پر عورت کے حقوق کی پامالی کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کی حقیقی خواہش عورت کو اپنا آلہ کار بنانا ہوتا ہے۔ جنہوں نے ان کی بات مانی، ان کا استحصال ہوا اور وہ کھیل تماشا بن گئیں۔
Copy
( بلا عنوان )
آج تو سوشل میڈیا ایک بہادر بلوچ لڑکی کی باتوں سے بھرا پڑا ہے ۔ لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کس نے اُس لڑکی کو قتل کیا ؟ کیا کسی کو علم ہے کہ اصل کہانی کیا ہے ؟
خیر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو اِس سے کیا کام ۔ سب کو فلوورز چاہیے ۔ اور سوشل میڈیا پر خود کو ایک آزاد خیال بندے کے طور پر پیش کرنا ہے ، اور اُس کے لئے ایسی سٹوریز سے بڑکر کیا ہو سکتا ہے ۔ ہم سب لگے ہیں افسوس بھرے پوسٹ کرنے میں اور لڑکی کی بہادری کے قصیدے پڑھنے اور لکھنے میں ، ایک بات کا پتا تو سب کو ہو گا ہی ، کہ اِس لڑکی کے قاتل کون ہیں ؟ اگر نہیں ہے تو میں بتاتا ہوں ۔ لڑکی کے قاتل آپ ہو، میں ہوں ، بلکہ ہم سب ہیں ، کیونکہ ہم سب انسان ہیں ! میں سمجھتا ہوں کہ لڑکی کے پیچھے درجنوں لوگ ، سب کے سب جانور تو نہیں ہو سکتے اور نا ہی پاگل ۔ ہماری طرح انسان تھے ۔ اُن میں بہت سے پڑھے لکھے مہذب انسان ہو نگے ۔ ہماری ہی دنیا میں رہتے ہیں تو اس کا مطلب کہ وہ بھی ہم میں سے ہیں ۔ اب تو سمجھ ہی گئے ہو نگے کہ قاتل ہم سب ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم میں سے کوئی بھی اُن لوگوں میں شامل ہوتا تو اُس کے جذبات اور احساسات بھی ویسے ہی ہوتے جیسے اُن درجنوں لوگوں کے تھے ۔ کیونکہ انسان کو دوسروں کا ظلم تو ظلم لگتا ہے مگر خود کرتا ظلم انصاف لگتا ہے ۔ یہی سچائی ہے ۔ اور ایسی کو معاشرہ کہتے ہیں ۔
اب آتے ہیں ایک اہم سوال کی طرف ! ایک ایسا سوال جو ہم سب خود اپنے آپ سے کر سکتے ہیں ۔
کہ اگر یہ لڑکی ہم میں سے کسی کی سگی بہن یا بیٹی ہوتی ، تب ہمارے کیا احساسات ہوتے ؟ تب ہم کیا کرتے ؟ کیا اُس وقت ہم اِس قانون کو اِس رواج کو لات مار سکتے ہیں۔ کیا ہم اپنی بہن بیٹی کے حق میں آواز بلند کر سکتے ہیں ۔ اور ایسی پوسٹیں کر سکتے ہیں ۔ جیسے کہ
( دو محبت کے دیوانوں کو گولی مار دی )
( عشق میں جینا ساتھ ساتھ تو مرنا بھی ساتھ ساتھ )
( ایک بہادر لڑکی نے سب مردوں کو للکار کر کہا کہ صرف گولی مارنے کی اجازت ہے ) وغیرہ وغیرہ !!
کوئی جواب دے سکتا ہے ؟ ہے کسی میں اتنی جرات کہ سرِعام کہے ۔ کہ میری بہن بیٹی کے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔ اگر اتنی ہمت نہیں ہے تو بند کر دو یہ فلوورز کی دوکان ۔
بند کر دو اپنا منافقت سے بھرا سوشل میڈیا ۔
توبہ کر دو ایسے پوسٹوں سے جس میں دوسروں کی بہن بیٹی کے لئے تو آواز بن رہے ہو مگر اپنی بہن بیٹی کے لئے ایک غیرت مند پشتون بلوچ بن جاتے ہو اور سر عام گولی مارتے ہو ۔
دوسروں کی کہانیوں سے مزے لینا آسان ہے دوسروں کے غم پر جھوٹ کے دو آنسو بہانا آسان ہے ، مگر اپنی کہانی پر آواز اُٹھانا اتنا بھی آسان نہیں جتنا آپ لوگوں نے بنا رکھا ہے ۔ خود سے سوال کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال ضرور رکھنا اور خود سے یہ نا کہنا کہ چھوڑوں یار میری کہانی تو نہیں ، یا استغفار پڑھ کر توبہ نکال کر کہ اللہ ہم کو ایسے حالات سے بچائے ! سوال کا جواب خود کو ضرور دینا اور اتنے ہی خود اعتمادی کے ساتھ دینا جتنا اعتماد بلوچ لڑکی کے حق میں پوسٹ پر دیکھایا ہے ۔ تاکہ دوبارہ ایسا نہ ہو ، تاکہ دوبارہ کوئی سیتل نا مرے ، تاکہ یہ جھوٹی انا ختم ہو سکے ، تاکہ ہم بھی بھائی بن سکے ، تاکہ ہم بھی انسان کہلانے کے لائق بن سکے ۔
شرمندہ ہے ہم سیتل! شرمندہ ہے ہم سیتل!
تیرے بارے میں پوسٹ میں جذباتی غم بھرے الفاظ تو لکھ سکتے ہیں لیکن تیرے بھائی نہیں بن سکتے ،
کیونکہ بھائی غیرت مند ہوتے ہیں ،
بھائی عزت کی خاطر بہن کو گولی مرتے ہیں آواز نہیں اُٹھاتے ۔
شرمندہ ہیں ہم سیتل
شرمندہ ہیں ہم ۔
زرین خان المعسودوی 🕊️❤️
اسلام آباد: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ابراہیم وزیر اور دیگر ساتھیوں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ طلباء اور بلوچ مسنگ پرسنز کی فیملیز کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائ سی کے رہنماؤں کی رہائی اور جبری طور پر گمشدہ کیے گئے بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی۔