Chinese researchers just published a paper with a brutal title: "The End of Software Engineering."
The core point is that writing code is completely finished as a skill.
Your brain can only hold so much state and so many dependencies before it hits a wall.
An agent doesn't have that ceiling, and its capacity only grows with compute.
So the human stops being the one who writes the code.
You become the intent architect, the one who directs the agents and audits the result.
Code becomes the throwaway, and judgment becomes the job.
That's exactly why i wrote the guide below on how to build your own agent system from scratch.
You can also find the full paper this is based on below.
This Google drive is a gold mine of resources on:
➡️ Project Manag
➡️ Product Manag
➡️ Software Eng
➡️Scrum
➡️PMP certification
➡️SQL
➡️UI/UX Design
➡️ Interview Documents
➡️ Data Analytics
➡️ Business Analysis
➡️Data Visualization
➡️Big Data
https://t.co/CFBHaoTQ9g
آج اسمبلی کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس تھا۔ میں بھی حسب عادت رپورٹنگ کے لیے گیا ہوا تھا۔ آج کل جس طرح سائبر فراڈ ہورہے ہیں۔ واٹس ایپ اور بنک اکاونٹس ہیک ہورہے ہیں ان پر بریفنگ دی جارہی تھی۔
این سی سی اے نے انکشاف کیا کہ ایک جگہ چھاپہ مارا تو وہاں سے چھ لاکھ فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا ملا جس سے فراڈ ہورہے تھے۔ یہ ڈیٹا ان کے پاس کہاں سے آیا، ارکان حیران اور ششدر رہ گئے۔
اس طرح فیصل آباد میں ایک ��ندے کو نیشنل کرائمز ایجنسی نے گرفتار کیا ہے جس نے ایک عورت سے بنک اکاونٹ سے 33 لاکھ نکلوائے تھے۔ اس سے 195 ایکٹو سمز برامد ہوئیں، 16 موبائل فونز نکلے اور 81 بنک کے اے ٹی ایم کارڈ نکلے۔
ایک ممبر نے پوچھا ان فون کمپنیوں اور پی ٹی اے سے پوچھیں کہ ایک بندے کے پاس 95 سمز کیسے ایشوز کیں ۔۔
جس پر چیرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا اب تک ایک کروڑ اسی لاکھ جعلی سمز بلاک کی ہیں جو دوسروں کے ناموں پر جاری کرائی گئی تھی۔ ہم نے ٹیلی کام کمپنیوں پر چار ارب روپے کا جرمانہ کیا۔ وہ ہم سے ناراض ہیں۔ ٹیلی کمپنیوں اور دیگر اداروں کے اہلکار بھی ڈیٹا لیک میں ملوث ہیں جو یہ ڈیٹا ان فراڈیوں کو دے رہے ہیں۔
تاہم بڑا انکشاف وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کیا یہاں تو پاکستان میں رینٹ اے بنک اکاونٹ بھی کھلتے ہیں۔ جس کے نام پر بنک اکاونٹ کھلتا ہے اسے بھی علم ہے ہم کہ پکڑے گئے تو اسے دو ماہ جیل بھی جانا ہے۔ وہ پہلے سے یہ ڈیل کرتا ہے اور اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔
اس اجلاس کی کاروائی سن کر لگ رہا ہے آدھا ملک فراڈی ہے اور آدھے کے ساتھ فراڈ ہورہا ہے۔ 😂
تحریر/رئوف کلاسرا
@TallalPMLN @CMShehbaz @MohsinnaqviC42 @NCCIAOFFICIAL @SyedAghaPPP @A_Qadir_Patel @PTAofficialpk @RajakhurramNA48
جنکے بچے چھوٹے وہ یہ دیکھ لیں بنٹی ، بسکٹ ، ٹافیاں کسی حال میں بچوں کو نا دیں ان کی فیکٹری کا حال چیک کر لیں بچوں کو زہر کھلا رہے وہ بھی پیسے لے کر
مشکل کام ہے ناممکن نہی بچوں کو ہیلدی سنیک جیسے پھل سبزیاں دیں یا پھر گھر پر کچھ بنا دین ۔زندگی کا معاملہ ہے
تصویر میں ڈنمارک 🇩🇰 کی وزیراعظم دفتر میں بیٹھی ہے۔۔۔ ڈنمارک کی کل آبادی صرف 60 لاکھ ہے اور ان کے پاس 2،260 ارب ڈالرز کی بڑی دولت موجود ہے۔
وہ عوام کے پیسے سے عیاشی نہیں کرسکتے، دوپہر کا کھانا بھی اپنے گھر سے بنوا کر لانا پڑتا ہے اور بطور وزیراعظم ایک ملازم کی طرح کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ان کی جاب ہے اور اسی کی انہیں تنخواہ ملے گی۔۔
👈🏻 تصویر کی دوسری سائیڈ پر پاکستان 🇵🇰 کے صوبہ پنجاب کے ایک محکمے کے تحصیل یا ضلعی لیول صاحبان کے دفاتر کی ہے، ان جیسے دفاتر ملک بھر تحصیل کی سطح پر 30 سے 40 محکموں کے ہزاروں کی تعداد میں ہیں جہاں پر یہ چھوٹے چھوٹے شہنشاہان معظم لاکھوں ماتحت عملی فرعونوں کیساتھ بیٹھتے ہیں۔ وفاقی محکمے اور عظیم فوج کے افسران شامل نہیں۔۔
ایک ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا افسر بھی پروٹوکول اور محافظوں کے حصار میں دفتر جاتے ہیں، اگر اس لیول پر بھی وہ اپنی ذات کو محفوظ نہیں کر پاتے تو اس ضلع کے عوام کو خاک تحفظ دیں گے۔۔
جبکہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے، اس پر ایک لاکھ ارب روپیہ قرض چڑھ چکا ہے جو اس کے تقریبا 5 بجٹ کے برابر ہے۔
جو قومیں باشعور ہیں اور ترقی کرنا چاہتی ہوں انہیں اپنی ترجیحات بدلنا پڑتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے مسائل اس وقت تک حل ہو ہی نہیں سکتے ہیں جب تک اس افسرشاہی، سامراجی اور شہنشاہی والے سسٹم کو چھوڑ نہ دیں۔۔۔ عالیشان دفاتر، بنگلے، گاڑیاں، نوکروں کی فوج ظفر موج اور پھر ان کو پالنے کے لیے قرضے؟
ایسے زیادہ دیر نہی چل سکتے کیسے چلے گا پاکستان، آئیندہ نسلوں کیلئے کیا ماحول بنا رہے ہیں؟
Ibn Mariam
یہاں بجلی کی تاروں کا جال نہی ہوتا
یہاں بجلی کی لوڈ شیدنگ کا کمال نہی ہوتا
یقین کریں ، یہاں قیمتی جانوں کے محفوظ رہنے کی پھر وجہ بھی نہی ہوتی 👇
شکریہ 😂 واپڈا
واپڈا کی عظمت کو سلام
خیال آیا کہ دراصل شیخ بار بار اپنے مرغے کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ انہیں کسی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے انہیں بنیاد کو درست کرنے اور خرابی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے قبیلے والوں کو ترغیب دے رہا تھا۔*
*اس حکایت کا پس منظر تو یقینا عرب ہے لیکن اس کا سبق عالمگیر ہے‘ جو اسی طرح
🏎️ تنخواہ 55 لاکھ، گھر کا کرایہ الگ! OGDCL کی سینئر قیادت کی عیاشیوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے! 🚨
مفت گاڑیاں، مفت پیٹرول اور تنخواہ کے علاوہ 45 فیصد گھر کا کرایہ... عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر شاہانہ ڈکیتی کا ننگا سچ!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ پر پیٹرول، بجلی اور راشن پر جا بجا ٹیکس لگا کر آپ کا خون کیوں نچوڑا جا رہا ہے؟ کیوں دو وقت کی روٹی حاصل کرنا غریب کے لیے ع��اب بنا دیا گیا ہے؟
جواب سینیٹ کے اجلاس میں او جی ڈی سی ایل (OGDCL) کی سینئر قیادت کی تنخواہوں اور مراعات کا کچا چٹھہ کھلنے پر سامنے آ گیا ہے! یہ صرف سرکاری تنخواہیں ہیں، جبکہ دیگر مفت سہولیات اور آف دی ریکارڈ کروڑوں اربوں روپے کے 'کھانچے' اس کے علاوہ ہیں:
💸 ایم ڈی (MD) احمد حیات لاک: بنیادی تنخواہ 55 لاکھ 64 ہزار روپے ماہانہ!
💸 چیف فنانشل آفیسر محمد انس فاروق: تنخواہ 28 لاکھ 37 ہزار روپے ماہانہ!
💸 ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر سلیم: تنخواہ 22 لاکھ روپے ماہانہ!
💸 ایگزیکٹو ڈائریکٹرز (شہزاد صفدر، ضیاء صلاح الدین، عاطف غفور): ہر ایک کی تنخواہ 18، 18 لاکھ روپے ماہانہ!
💸 جی ایم خرم شیراز: 11 لاکھ روپے ماہانہ!
💸 جی ایم ڈاکٹر خالد امین خان: 9 لاکھ روپے ماہانہ!
💸 جی ایم حبیب اللہ چوہان: 7 لاکھ روپے ماہانہ!
💸 کمپنی سیکریٹری وسیم احمد: 6 لاکھ روپے ماہانہ!
ان لاکھوں اور کروڑوں کی تنخواہوں پر ہی بس نہیں! ان تمام شاہی بابوؤں کو بنیادی تنخواہ کا 45 فیصد اضافی رقم صرف گھر کے کرائے کی مد میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ چمکتی ہوئی سرکاری گاڑیاں، مفت پیٹرول اور دیگر مراعات کا سارا بوجھ آپ کی جیب پر ڈالا جاتا ہے۔
جب عوام کا پیسہ یوں بے دردی سے چند افسران کے معدے میں انڈیل دیا جائے گا، تو پھر مہنگائی اور ٹیکسوں کے طوفان ہی آئیں گے! ک
شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کو��ٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چ�� گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪