متفقہ ہونا کسی فیصلے کے درست یا عادلانہ ہونے کی دلیل نہیں۔ تاریخ میں بہت سے ناانصافی کے فیصلے اکثریت کے ووٹ سے ہوئے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی آیا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کے ایمان کی تعریف کرے اور ایک مذہبی جماعت کو آئینی طور پر اس کی شناخت سے محروم کر دے؟
7 ستمبر 1974 صرف ایک آئینی ترمیم کی تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کے شہریوں کے مذہبی حقوق کے زوال کا ایک فیصلہ کن دن بھی ہے۔
جب سے ایکس ( ٹویٹر) پر پوسٹ ویوز کے پیسے ملنا شروع ہوئے ہیں اور ایکس کو سیاست کا گڑھ بنایا گیا ہے یقین کریں معیاری تحریریں ناپید ہو گئی ہیں۔۔۔
ورنہ ایکس ہمیشہ سے ایک بہترین استاد رہا جس پر شاعری، فلسفہ، ادب، علم و تحقیق اور دلیل ملتی تھی۔۔۔
سیاست، مذہب اور معاشرے پر تعمیراتی گفتگو ہوتی تھی اور دلائل دیئے اور سنے جاتے تھے۔۔۔
اب صرف جھوٹ ، بے جا تنقید، گالیاں، نفرت فتوے رہ گئے ہیں۔۔
This morning, a Toronto Police Officer, Constable Marc Pinizzotto, was killed in the line of duty. This tragedy follows the death of OPP Constable Tarun Bali on Tuesday. Canada mourns the loss of these brave officers who dedicated their lives to protecting their communities.
My prayers are with their loved ones, their fellow officers, and their communities in this time of grief.
When ma visited Bangalore in April, I gave her a sipper for her water intake as I did not like her getting up, going to the kitchen every time she wanted water. Best part was the water was kept cool for long period of time. She loved it so much that for the first time in life she said “ek mere liye order kar do, main ghar le kar jaaungi”
I told her I will order one when she is home and I started looking for the best sippers. I couldn’t find the perfect one and then it slipped my mind. Came back home, saw her drinking water and it clicked my mind instantly. Scrolled through all of the internet again to find her an aesthetic sipper as like me she loves Pinteresty stuff.
It arrived today. I gave it to her and went to my room to work. Entered her room right now to ask for chai and this is how she is sleeping. The guilt of not getting this for her the moment she asked me is engulfing me and at the same time, seeing her like this is making me smile.
This made me realise that while we want to give all of the world’s luxuries to our parents, our parents happiness lies in all the little things we do for them. Listening to them and understanding what they want instead of booking another international trip they have been saying no to is important.
1-جب چھوٹے بچے کے گلے میں کچھ پھنس جائے تو وہاں گھبرانے کی بجائے حوصلے اور سمجھداری سے کام لیں اور بچے کو ایک ہاتھ میں اس پوزیشن میں رکھ کر دوسرے ہاتھ کا استعمال اس طرح 👇 کریں۔
2- جب کسی بڑے شخص کے گلے میں کچھ پھنس جائے تو تب اس طرح کرنا چاہئیے 👇
ان سب پروسیجر کےلیے نہ ڈاکٹر بننے کی ضرورت ہے نہ نرس۔
یہ سب کچھ آپ سب سیکھ سکتے ہیں اور مشکل
وقت میں کسی کی جان بچا سکتے ہیں۔
کچھ دن پہلے اپنے گائوں گیا۔ جائوں تو اجنبی لوگوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جو ملنے آئے ہوتے ہیں۔ اپنے رشتہ دار دوستوں سے تو محفل جمی رہتی ہے۔
تاہم گائوں کی نئی نسل کے بارے پوچھنا پڑتا ہے کہ یہ کس کابچہ ہے۔ ایک عجیب سی شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ جس گائوں میں پلے بڑھے وہاں کے اب بچوں کا علم نہیں کہ کون کس کا بچہ ہے۔
خیر اس دفعہ گیا تو میں گھر سے باہر نکلا تو ایک باریش بزرگ میری طرف بڑھے۔ میں رک گیا۔ پیار محبت سے ملا تو کہنے لگے آپ سے ایک کام ہے۔
میں نے کہ جی بتائیں۔ کہنے لگے میری بیٹی کچھ پڑھی لکھی ہے۔ اسے کسی کو کہہ کر کہیں سرکاری نوکری لگوا دیں بے شک کہیں درجہ چہارم ہی کیوں نہ ہو۔ پھر کہا چپڑاسی لگوا دیں۔
مجھے جھٹکا سا لگا کہ پہلی دفعہ کس بندے نے کہا کہ بیٹی کو نوکری لگوا دیں اور بھی چپڑاسی کی۔ ورنہ تو ہر لڑکا/لڑکی براہ راست گریڈ سترہ افسر سے کم کی نوکری کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔ پہلا بندہ ملا جو قناعت پرست تھا کہ وہ چیز مانگیں جو شاید مل جائے۔
میں نے ان کے ہاتھوں میں پکڑے کاغذات لیے۔ میرا خیال تھا اس کی بیٹی شاید مڈل پاس ہوگی یا میڑک پاس۔
میں نے سی وی پڑھنی شروع کی تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں چونکا اور نظر اٹھا کر اس باپ کو پھر دیکھا جس کی بیٹی نے میٹرک، ایف اے، بی اے، سے ایم اے، ایم ایڈ تک فرسٹ ڈویزن نمبرز لے رکھے تھے اور آج بوڑھا باپ بیٹی کے لیے درجہ چہارم کی نوکری مانگ رہا تھا۔
میڑک فرسٹ ڈویزن، ایف اے فرسٹ ڈویزن، بی اے فرسٹ ڈویزن، ایم اے اردو ( بہاء الدین زکریا یونیورسٹی) سکینڈ ڈویزن اور بی ایڈ فرسٹ ڈویزن۔۔
میں اسلام آباد لوٹ آیا ہوں لیکن ابھی تک اس جھٹکے سے نہیں سنبھل سکا ہوں کہ ایک باپ نے ہمارے جیسے علاقوں میں پہلے بیٹی کو پڑھایا، قابل بیٹی نے بھی مایوس نہیں کیا اور ہر کلاس میں بہترین پرفارم کیا۔ پتہ نہیں کتنے جواز اور دلائل دے کر بیٹی کو راضی کیا ہوگا یا بیٹی نے خود کو تسلی دی ہوگی کہ چلیں چپڑاسی ہی سہی۔۔
زندگی میں بہت لوگ ملے لیکن جس سادگی اور بغیر تمہید باندھے اس باریش انسان نے مجھے کہا کہ بیٹی کو کہیں چپڑاسی لگوا دیں، ایسا تجربہ کبھی نہ ہوا تھا۔
وہ منظر آنکھوں سے نہیں جاتا کہ ایک بوڑھا باپ ہمارے گائوں گھر کے باہر اپنی قابل بیٹی کی ڈگریاں پکڑے کھڑا تھا کہ زیادہ نہیں مانگ رہا کہیں درجہ چہارم ہی لگوا دیں۔
ایسی قابل بچی زیادہ ڈیزرو کرتی تھی۔ اس سے زیادہ عزت وہ باپ ڈیزرو کرتا ہے جس نے اپنی بیٹی کو ملتان یونیورسٹی تک تعلیم دلوائی دی تھی۔
تحریر/رئوف کلاسرا
@MaryamNSharif@DCLayyah0606@GovtofPunjabPK@RanaSikandarH
میں یہ پوسٹ بار بار کرتا ہوں یاددہانی کے لیے, بُرا مت منائیے گا, اور اگر بُرا لگے تو اگنور کر دیا کریں, پلیز۔
اپنی استطاعت کے مُطابق, صدقہ باقاعدگی سے کیا کریں, یہ بلاؤں کو ٹالتا ہے!
آج سعید بکس جانا ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ میں بیٹھا کچھ بکس دیکھ رہا تھا کہ ایک خاتون کی کاونٹر سے آواز آئی کہ میں نے آپ کو دو ہزار روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔
کاونٹر پر کھڑا نوجوان پختون اختر کچھ حیران ہوا کہ کس چیز کی ؟
وہ خاتون جن کی عمر شاید پینتس چھتس ہوگی کہنے لگی ایک سال پہلے میں نے یہاں سے کچھ بکس لی تھیں۔ میں پشاور سے ہوں ۔ واپس جاتے وقت راستے میں چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی کتابوں کی قیمت تو ادا کر دی تھی لیکن ایک کتاب اس بل میں شامل نہ تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ جب چکر لگے گا تو وہ میں پیسے دوں گی۔
کہنے لگیں وہ اب حج پر جارہی پیں اور نہیں چاہتیں اپنے پیچھے کچھ ایسا قرض چھوڑ جائیں۔ کتاب کا نام Power of Now تھا۔
اختر نے کتاب ڈھونڈ کر اس کی قیمت نکالی تو تین ہزار روپے بنی۔ وہ کہنے لگیں اس وقت اس پر دو ہزار لکھی تھی۔
شاید ڈالر ریٹ کم ہوگا۔
احمد سعید نے اپنے کیبن سے اختر کو اشارہ کیا کہ دو ہزار ہی لے لو۔
اس خاتون نے دو ہزار کی ادائیگی کی اور مطمئن ہو کر چلی گئی۔
احمد سعید بتانے لگے جب ان کے والد سعید صاحب کی وفات ہوئی تو بہت سارے نوجوان لڑکے اور کچھ لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے۔ گلے لگے اور جاتے وقت وہ ایک لفافہ ان کی جیب میں ڈال جاتے۔ انہیں اس وقت تو اندازہ نہ ہوا کہ ان لفافوں میں کیا تھا کہ بہت رش تھا اور وہ سمجھے شاید وہ سب تعریت کرنے آئے تھے۔ بعد میں ان لفافوں کو کھولا تو پیسوں کے ساتھ نوٹ تھا کہ ہم نے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں سعید بکس سے بکس چرائی تھیں۔ اب ہم کماتے ہیں تو ضمیر پر دبائو بڑھا جب ان کی وفات کا سنا۔ ہم اس کتاب کے پیسے چھوڑ کر جارہے پیں جو چرائی تھیں۔
احمد سعید کہنے لگا رئوف صاحب جو لوگ لٹریچر پڑھتے پیں ان میں دوسروں سے ہٹ کر کچھ خاص ہوتا ہے۔
مجھے اپنے دوست شعیب بٹھل کی بات یاد آئی کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ادب پڑھا/کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے نہیں پڑھیں۔ تیسرے کوئی نہیں ہوتے۔
احمد سعید جن کرداروں کی کہانیاں سنا رہے تھے جو ان کے باپ کی وفات پر لفافے ان کے جیب میں چھوڑ گئے تھے یا پشاور کی وہ نوجوان خاتون جو حج پر جانے سے پہلے چند سال پہلے کی کتاب کا بل چکانے آئی تھی ، وہ سب اس دنیا کی پہلی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra #bookstore #booksbooksbooks #literature
Saw this in Brussels at a store owned by a Pakistani. Notified mall security about what it said & they made me fill out a form. Got an update from them that the Police gave him a warning & got the sign removed as it was hate speech. That's how civilized countries deal with bigots
Jang has now removed the misleading news item about Ahmadis from its website. It would also be nice if the newspaper apologised and also fired the subeditor responsible for the publication of that baseless, libellous and shameful allegation against a law abiding and peace loving community. That is the least you can do @jang_akhbar
Shukriya, Pakistan! It was truly an honor to come here, meet you all, bring you the news and dive into your culture. I head back to the USA with a full heart and lifetime of memories. Until next time!
Giving a talk at Imperial today, home of one of the greatest scientists of our time
Nobel laureate, he helped build “the standard model” in Physics - worked tirelessly to promote science for the least fortunate - setting up ICTP
He lived his name “servant of peace”. Every student should learn about his life.