کئی اور ملکوں میں ہیں بہاریں لگی ہوئیں
باغات لگے ہوۓ ، آبشاریں سجی ہوئیں
مگر ملک کا اپنے جب موازنہ کیجئے
بیروزگاروں کی ہیں قطاریں لگی ہوئیں
وہاں قیمت بڑھے تو ہوتا ہے احتجاج
یہاں پٹرول پمپس پر ہیں کاریں لگی ہوئیں۔
محسن محمدی
اہل ایماں ہے بہت سے فرقوں میں بٹے ہوۓ
اور ان کے ایماں کی حالتیں بھی کئی ہیں
یوں تو صنم پرستی مٹ چکی زمانے سے
پر دور جدید میں اس کی صورتیں نئی ہیں۔
محسن محمدی
چہرے کو اپنے نہ آنسوؤں سے دھوۓ
تمنا ہے میری نہ کوئی بھوک سے روۓ
بے بسی ہے اس قدر لا الہ کے دیس میں
اس درد کو کوئی کیسے لفظوں میں پروۓ
مرنا تو حرام تھا ،جینا بھی کیا حرام
مجبور خود کو نہ روۓ حاکم وقت کو روۓ۔
محسن محمدی