@AthSal01 خود بیٹھی ہے مرضی سے مجرم بھی یہ لڑکے تھے لیکن ماں باپ اسکےکیسے آرام سے بیٹھ سکتے ہیں کہ یہ ایک ہفتے سے غائب تھی نا کوئی ایف آئی آر نہ کو تلاش کیسے ماں باپ تھے
حضرت عیسی گرمیوں کے موسم میں (جولائی-ستمبر) کے درمیان بیت الحم Bethlehem میں پیدا ہوۓ۔ جس درخت کے نیچے پیدا ہوۓ وہ کھجور کا درخت تھا۔تاریخی ، سائینسی اور جغرافیائی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انکی رنگت سانولی اور بال گھنگریالے تھے۔
میں نے آج تک دیسی فیمنسٹس اور ملحدین کو کرسمس کے موقع پر یہ شور مچاتے نہیں دیکھا
کہ عیسائی حضرت عیٰسی کی ولادت دسمبر میں کیوں مناتے ہیں ؟
کھجور کے بجاۓ صنوبر دیودار یا چیڑ کا درخت کیوں سجاتے ہیں؟
حضرت عیسی کو گورا سیدھے لمبے بالوں والا کیوں دکھایا جاتا ہے ؟
بس ہیپی کرسمس ہیپی کرسمس کرتے ہوں ٹرکی روسٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوشیوں کا تہوار ہے خوشیاں منانی چاہیں
لیکن جب جب اسلامی تہوار ہوں تو انکے اوپر کوئی ایسا شرارتی اور بھٹکا ہوا جن وارد ہوتا ہے کہ رمضان آۓ تو روزوں پر تنقید عید الالضحی ہو تو قربانی اور حج پر تنقید ضرور کریں گے۔ یہاں تک تنقید کریں گے کہ پوچھ رہے ہیں کہ شیطان تو چھوٹا سا تھا اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟ اور ہمنوا واہ واہ کرتے ہیں واہ کیا سوال کیا ہے۔
#کدو_دماغ
@Kaashif999 میں عورت کے پردے کے حق میں ہوں اب اس پے جو مرضی فتویٰ لگے پروا نہیں جو اللّٰہ اور حدیث نبوی ہے وہ سچ اسلئے ہے کہ آپ شیطانی نظروں سے بچ سکے اسکے علاؤہ آپکے توجہ دلانے پے ہی سب غور کررہے ہیں ورنہ قابلِ غور کوئی خاص چیز نہیں ہے
@AthSal01 کچھ بھی نہیں ہو گا دو دن کا شورو غوغا ہے پھر اسکی فائل ٹنوں من مٹی میں دب جائے گی نچانے والے بیچوانے والے بچانے بھی جائے گا سارا مدعا قربانی کے بکرے پر ڈال دیا جائے گا
پورا علاقہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرنے والے پیرمہر علی شاہ ٹاؤن کے 17 سالہ محنتی اور بااخلاق لڑکے زین شاہ اور اُس کے خاندان کی شرافت کا گواہ ہے. نہ جانے اصل معاملہ کیا ہے ؟
کیا واقعی صرف 1300 روپے کی معمولی رقم کے لئے سراج محسود اُس کے بھائی اور کئی خواتین و حضرات زین شاہ کے گھر پہنچتے ہیں ، شدید تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے .
بڑوں کی موجودگی میں کچھ دن پہلے معاملہ ختم ہوجانے کے بعد سراج محسود دوبارہ زین کے گھر جا کر جھگڑا کیوں شروع کرتا ھے اور ایسی کیا وجہ بنتی ہے کہ زین کو بچانے کی خاطر اُس کا دوست عون چوہدری فائر ہی مار دیتا ہے ؟
اس کے بعد سراج کے گھر والوں اور دیگر محسود قبیلے کے لوگوں کا عون چوہدری کی بجائے زین شاہ کے گھر پر چڑھائی کرنا. خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زین شاہ کو اُٹھا کر لے جانا، کئی گھنٹے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اُسے قتل کر کے لاش کی بے حُزمتی کرنا ؟
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زین کے گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم ، ٹوٹی انگلیاں جسم پر سگریٹ اور دیگر چیزوں سے جلانے اور رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے کے نشانات پیشہ ور قاتلوں کی سفاکی کے گواہ ہیں .
سراج محسود کے قاتل کو قانون اور عدالتوں کے ذریعے سزا ہونی چاہیے تھی زین نے تو کسی کو قتل نہیں کیا تھا اُسے جتھے نے اغواء، تشدد اور قتل کیوں کیا؟
منشیات فروشوں، سمگلروں ،قاتلوں ، چوروں اور دہشت گردوں کو بچانے کے لئے معاملات کو لسانی ، قومی اور قبائلی رنگ دے کر کب تک ریاستی اداروں اور قانون کی عملداری چیلنج کیا جاتا رھے گا ؟
اس بار سی سی ڈی کو سر عام انصاف کرنے دیں پلیز .
#JusticeforZainShah
ایک خبر سوشل میڈیا پر گھوم رہی ابھی کوئی تصدیق حکومتی ذرایع سے نہی آئی اس کے مطابق وفاقی وصوبائی ملازمین کو یکمشت پنشن دے کر فارغ کرنے کا فیصلہ تمام وفاقی وصوبائی ملازمین جس میں تمام ادارے مالیاتی اداروں کے ملازمین گولڈن شیک کے ذریعے پینشن دیکر ملک بھر میں ماہانہ پینشن سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حکومت پر مالیاتی بوجھ کم ہو
بجٹ سے پہلے ایسی تجاویز سامنے آتی ہیں مگر ججوں کی مراعات پچاس فیصد بڑھانے سے خزانے پر بوجھ نہی غریب کی پینشن کا بوجھ ہے سمجھ سے باہر بات ہے اللہ کرے ایسا نا کریں
@RShahzaddk مجھے یہ شخص بہت چھوڑو لگتا تھا اسکی پوسٹس دیکھ کے لگتا تھا کہ پاکستان یہی صاحب چلا رہے ہیں ہر بندہ بس انکے انڈر تھا جب پی ٹی آئی تھی تو خان کے گن گاتے تھے جیسے ہی حکومت چینج ہوئی تو بھائی صاحب فورا فیلڈ مارشل کے ہم نوالہ وپیالہ بن گئے اب بھی انکاری ہیں فراڈ سے
🚨بھائیو اور بہنو! دل دہلا دینے والا ظلم ہو رہا ہے بجلی کے بل دینے والوں کے ساتھ!
اویس لغاری صاحب نے پہلے تو نیٹ میٹرنگ کو عملاً ختم کر کے گراس میٹرنگ (نیٹ بلنگ) تھوپ دیا۔
اب آسان الفاظ میں سمجھ لو:
جب آپ واپڈا سے بجلی خریدیں گے تو 50-55 روپے فی یونٹ دیں گے۔ جب آپ اپنی سولر بجلی گرڈ کو دیں گے تو صرف 10 روپے فی یونٹ ملیں گے!
یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ ختم! 2016-17 کی پرانی پالیسی میں ایسا ظلم نہیں تھا۔
پھر میاں نواز شریف کے نوٹس پر کہا گیا “پرانے صارفین متاثر نہیں ہوں گے” حالانکہ وہ تو پہلے ہی نیپرا کے 5-7 سالہ کنٹریکٹس میں محفوظ تھے۔
اصل کھیل یہ ہے: جیسے جیسے ان کے کنٹریکٹس ختم ہوں گے، انہیں ایک ایک کرکے 10 روپے والے نئے جال میں ڈال دیا جائے گا۔ بالآخر ہر سولر والا اسی مہنگے خریدنے اور سستے بیچنے کے چکر میں پھنس جائے گا۔
اب اویس لغاری نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ٹیکس لگا دیے اور لائسنسنگ کی شرط ڈال دی کہ عام آدمی سولر سسٹم لگا ہی نہ سکے!
نتیجہ صاف ہے:
سولر سسٹم ختم ہو جائیں گے، لوڈشیڈنگ بڑھے گی، اور پھر مہنگی بجلی گھروں سے خریدنے کا راستہ کھلے گا جہاں کمیشن بھی بنے گا، کیونکہ سولر سے تو کوئی کمیشن نہیں بنتا تھا۔
یہ سیدھا نون لیگ کے ووٹ بینک اور متوسط طبقے پر کاری وار ہے۔
میاں نواز شریف صاحب!
وزیراعظم شہباز شریف صاحب!
فوری نوٹس لیں، اس ناقابلِ تلافی نقصان کو روکیں۔
ورنہ لوگ سولر لگانے کا خواب بھی چھوڑ دیں گے اور مہنگی بجلی کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے اور ووٹ تو آپ بھول ہی جائیں بدعائیں روز ملیں گی