A person is doing too good,
but still nation blaming him.
One day after limits crosses.
he may loose interest....
I think we all understand
what I mean to say,
This is exactly what's happening in Pakistan. Let Pakistan come back on track. Be Patient and don't spread despair.
عمران خان کے دور حکومت میں بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک بیرل پیٹرول کی قیمت 117 ڈالر تھی اور پاکستان میں 149 روپے فی لیٹر۔ آج بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک بیرل 75 ڈالر کا ہے اور پاکستان میں فی لیٹر 300 روپے۔
بس یہی بتانا تھا!
🚨🚨Bushra Bibi’s family agreed not to publicly discuss details of their meetings with her, nor politicise them, on the understanding that they would be granted regular access. However, it has now been four weeks since they were last allowed to see her.
During their last meeting, the family were deeply distressed by her condition and cried for days afterwards. They described significant weight loss and serious eye-health concerns. One of her eyes is stitched closed, while the sight in the other is deteriorating. They also stated that there have been serious delays in receiving medical attention and that prison conditions, as well as the treatment of certain staff members—particularly a woman named MARIAM—have contributed to her mental suffering. A gutter outside her cell is deliberately kept open, making her cell unbearable and infested with insects.
Bushra Bibi has also reportedly said that Imran Khan’s conditions are similarly concerning and that he continues to suffer from ongoing eye and health problems. According to her, he refuses to complain because of the man that he is.
Regardless of political views, all detainees are entitled to proper medical care, humane treatment, and regular access to their families. This is a serious violation of basic human dignity and internationally recognised human rights standards. This situation requires urgent attention, transparency, and accountability.
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
اسے کہتے ہیں، ڈپلومیسی کے ذریعے طاقت کا اظہار
ایران اور امریکہ نے فارسی اور انگریزی زبان میں لکھے گئے معاہدے پر دستخط کر دئیے
ایران نے فارسی زبان میں معاہدے پر دستخط کیلئے اصرار کیا اور ٹرمپ نے فارسی معاہدے پر بھی دستخط کیے
امریکہ جینیوا میں دونوں صدور کے درمیان دستخط چاہتا تھا، ایران نے ڈیجیٹل دستخط پر اصرار کیا اور امریکہ کو ڈیجیٹل دستخط پر راضی ہونا پڑا
اسے کہتے ہیں، اپنی طاقت کا کامیاب ڈپلومیٹک مظاہرہ
اسلامی ممالک اور باقی دُنیا ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned to International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
بدلتی سوچ
میری سیاسی پشین گوئ ہے کہ امریکہ کے اندر اینٹی اسرائیل سوچ کسی نئے سیاسی گروپ یا سیاسی لیڈرشپ کا شاخسانہ ہوگی،
ہیلری کلنٹن ریپلکن پارٹی سے ہے اور سیکرٹری آف سٹیٹ رہ چکی ہے، شوہر کلنٹن دو دفعہ امریکہ کا صدر رہ چکا ہے، ہیلری کلنٹن کا بیان آ گیا ہے کہ نیتن یاہو اور اُسکی ٹیم 2009 سے ہر وقت ہمیں ایران پر حملہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے تھے،
ہیلری کا کہنا ہے کہ کئی کئی گھنٹے نیتن یاہو فون پر تلقین کرتا تھا کہ ایران پر حملہ کیا جاۓ
اس سے مسلمانوں کو اس حقیقت کا اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اسرائیل کو اپنے وجود کے خلاف سب سے بڑا خطرہ ایران سے تھا
یہ اسرائیل ہی تھا جسنے عرب ممالک کو احساس دلایا کہ ایران عرب ممالک کیلئے خطرہ ہے، حلانکہ پچھلے سو سال میں ایران سے کبھی عرب ممالک پر حملہ نہیں ہوا، بلکہ امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے ایما پر عراق نے ایران پر حملہ کیا اور ایران نے زبردست دفاع کیا
ایران اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ تھا اور اسرائیل نے عرب ممالک کو ایران کے خلاف تیار کیا، اس خطرے کے پیش نظر عرب ممالک میں 16 امریکی اڈے بناۓ گئے، امریکہ نے عرب ممالک سے مال بنایا اور جب ایران اسرائیل جنگ چھڑی تو عرب ممالک کے امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال ہوۓ
ایران نے عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو تباہ کرکے یہ پیغام دیا کہ امریکہ کا اس خطے میں کوئ کام نہیں، عرب ممالک کو احساس ہوا کہ امریکی اڈے ہمارے تحفظ کیلئے نہیں، بلکہ ہماری سلامتی کیلئے خطرہ ہیں
اس جنگ کے بعد خلیجی ممالک سے امریکی اڈے بتدریج ختم ہو نگے، اسرائیل کا اکیلا پن شروع ہوگا،
تمام مسلمان ممالک کو شیعہ حزب اللہ اور سُنی حماس کی اسلئے مدد کرنی چاہیے کہ یہ تنظیمیں سُنی فلسطینی ریاست کیلئے جہاد کر رہی ہیں، اسی لیے اسرائیل ان تنظیموں کو دہشت گرد کہتا ہے، یہ تنظیمیں ایران کی پراکسی نہیں بلکہ سُنی فلسطینی ریاست کی آزادی کی واحد اُمید ہیں، اور ان دو تنظیموں کی حمایت اور مدد اب تک صرف ایران کرتا آیا ہے
مستقبل میں ایران، ترکیہ اور پاکستان کا اتحاد دُنیا کا مضبوط ترین فوجی اور معاشی اتحاد بن سکتا ہے جسکے پیچھے چین اور روس کی طاقت ہو گی، یہ اتحاد امریکہ سے زیادہ مضبوط اور طاقتور اتحاد بن سکتا ہے
یہاں سے اسرائیل کے خاتمے کا آغاز ہو سکتا ہے، بیت المقدس پر فلسطین کا پرچم لہرا سکتا ہے، ہر حاجی مکہ، مدینہ کے بعد بیت المقدس کی بھی زیارت کر سکے گا، سلطان صلاح الدین ایوبی کا دور واپس آ سکتا ہے؟ ایران نے بنیاد رکھ دی ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned to International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
بھٹو پھانسی لگنے سے پہلے کہہ کے گیا تھا، کہ اگر مجھے تختہ دار پر لٹکایا گیا تو آپ اگلے سو سال پچھتائیں گے، ابھی تو صرف پچاس سال ہوئے ہیں،
وہ ایک شخص جو مزاحمت کی علامت بن کر جیل کاٹ رہا ہے، ہم نے اسے واپس کیا لٹایا؟
ہم تو اس کے لیے ایک دن کی بھوک نہیں کاٹ سکے، خلیل الرحمٰن قمر
پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین رات جب سب کچھ بدل گیا
نو اور دس اپریل کی درمیانی رات میں 75 سال کی محبت شدید نفرت میں بدل گئی اور ہر دن اس نفرت میں اضافہ ہوا اور جاری ہے
اگر اس ایک لائین کی سمجھ آ جاۓ تو اسی میں پاکستان کا حل موجود ہے
ملک کے واحد منتخب وزیرِاعلیٰ، اُسکی کابینہ اور کارکنان کو 26 نمبر چونگی پر روک دیا گیا ہے۔ ایک صوبے کا منتخب وزیرِاعلیٰ اپنے ہی ملک کے دارالحکومت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ایسی شرمناک حرکات نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہیں، ان شرمناک حرکتوں سے وہ عوام کی نظروں میں مزید گر رہے ہیں اور اپنا خوف خود ظاہر کر رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
کشمیری آگے بڑھ رہے ہیں بہت سی شہادتیں ہو گئیں SP شہزاد جو اپنی نفری کے ساتھ ان کو روک رہے تھے جب ہسپتال پہنچے تو دیکھا ان کا اپنا بھتیجا گولی لگنے سے شہید ہو چکا ہے یہ میرے گھر کا بچہ ہے SP شہزاد کی چیخ و پکار سن سکتے ہیں
کے ایم سی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور ٹھیکے دار نے کراچی کی عوام کو موئے موئے کر دیا
ڈسٹرکٹ سینٹرل سخی حسن قبرستان کے قریب نالے اور سڑک کی ازسرِ نو تعمیر میں سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئی گئی۔ نالے کے پرانے اور خستہ حال اسٹرکچر کو مسمار کیے بغیر اسی پر نئی دیواریں اور نئی سڑک کی تعمیر کی جا رہی ہے جو کہ پہلی ہی برسات میں بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ کشمیری عوام گولیاں کھا کر بھی پرامن ہے اور پرامن انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور اپنے جائز حقوق مانگ رہی ہے
اس پرامن عوام پر اگر کسی نے ظلم کیا تو پھر دراصل وہ حقیقی کالعدم اور غدار ہوگا
مقبوضہ کشمیر سے میرواعظ عمر فاروق نے پاکستان سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کیا ہے۔یہ بیان پاکستان کی سات عشروں کی جھوٹی سچی کشمیر پالیسی کی موت ہے۔کبھی یہ بیانات آزادکشمیر کے لوگ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حوالے سے دیا کرتے تھے۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
گلگت میں پیپلز پارٹی کو حکومت دے کر سلیکٹ کیا گیا اور ن لیگ کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا
جبکہ دوسری طرف کشمیر میں ن لیگ کو حکومت دے کر پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا۔
یہ دونوں برائے نام کی سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی لونڈیاں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد عوام کو مایوس کرنا ہے کہ آپکے ووٹ سے کوئی تبدیلی نہیں انی لیکن مایوس نہیں ہونا انشااللہ وقت ائے گا جب عوامی مینڈیٹ کی ہی جیت ہو گی۔
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے ایک کنڈیڈیٹ کے لئیے ایک پولنگ سٹیشن میں 80 فیصد ووٹ پول کیا گیا- اک پولنگ بوکس سے 800 سے ذائد ووٹ برآمد ہوئے باقی پولنگ سٹیشنز میں بھی بوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش جاری ہے - ابھی پی ٹی آئی آگے ہے لیکن یہی عمل جاری رہا تو نہ اس الیکشن کو مانیگے اور نہ ہی کسی کو سکون سے رہنے دینگے- اگر عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، اور گلگت بلتستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
— سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
@AbdulKhalidPTI