خان کی ہسپتال منتقلی کے شور میں کل جو نیا ڈیفینس بل پاس کروایا گیا اس پر تحفظات کی ایک طویل قطار ہے
اس ایکٹ کو 13 نومبر 2025ء سے اس لئے لاگو کیا گیا کہ تب 27ویں ترمیم کے تحت CDF کا عہدہ وجود میں آیا تھا یوں بیک ڈیٹ سے CDF آفس سے جاری تمام نوٹیفیکیشنز، ریٹائرمنٹس، ترقیاں اور کمانڈ کی تبدیلیوں کو قانونی کور دینے کا بندوبست کیا گیا تاکہ اسے آئینی عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے
یہ ایکٹ سابقہ تمام عسکری قوانین پاکستان آرمی ایکٹ 1952، ایئر فورس ایکٹ 1953، نیوی آرڈیننس 1961 پر غالب رہے گا۔ کسی بھی پرانے قانون یا اصول کا اگر اس نئے ایکٹ سے ٹکراؤ ہوگا تو نیا ایکٹ ہی معتبر مانا جائے گا۔
CDF اب قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج کے تمام امور میں وزیر اعظم کا واحد اور اعلیٰ ترین عسکری مشیر ہوگا جس کے بعد وزارت دفاع بس نام کی رہ جائے گی
CDF کو فورسز کے اندر کسی بھی شخص (سوائے آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت تقرریوں کے) کو برطرف کرنے، ریٹائر کرنے، ایکسٹینشن دینے یا ریٹائرمنٹ کی عمر اور حد میں نرمی کرنے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے۔ جس کے بعد کسی کو ایکسٹینشن دینے یا کسی بھی خدشے کے تحت ریٹائر کرنے کیلئے فری ہینڈ دے دیا گیا ہے
ایکٹ کی شق 5، 6، 7 کے تحت حکومت کے ساتھ ساتھ CDF کو خود بھی Rules بنانے کا اختیار حاصل ہوگا، اور کسی رکاوٹ کی صورت میں صدر کے ایک Executive Order کو قانون کا درجہ حاصل ہوگا۔ یعنی اسمبلی کا لچ نہیں رہے گا
سب سے قابل توجہ شق 2 ہے جس کے تحت تمام پرانے قوانین کو منسوخ/ماتحت کرنے اور دفعہ 5' 6 کے تحت CDF کو براہِ راست بائی لاز بنانے کا اختیار دینے سے پارلیمنٹ کی قانون سازی کی نگرانی کا دائرہ محدود ہو جائے گا۔
سروس کی حد میں نرمی یا برطرفی جیسے فیصلوں کا مکمل اختیار ایک عہدے کے پاس ہونے سے افواج کے اندرونی "چیک اینڈ بیلنس" کے نظام پر سیاسی اور آئینی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھانے بنتے ہیں
عمران خان کو جائز قانونی ریلیف کیسے اور کیوں ملا ؟؟؟
پڑھ لیں میں آسان کردیتا ہوں۔۔۔۔ چھوڑو صحافی فیاض راجہ
16 اکتوبر کو علیمہ خان کی عمران خان سے آخری ملاقات ہوئی، اس کے بعد آج کی تاریخ 18 اگست تک ان کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، کیوں؟؟؟ انہوں نے عمران خان کے موقف والی 100 فیصد ہارڈ لائن اختیار کر رکھی تھی
ڈاکٹر عظمی خان کی 28 اکتوبر، 4 نومبر اور 2 دسمبر کو عمران خان سے ملاقاتیں کروائی گئیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں انہوں نے پہلی ملاقات ہی میں عمران خان کی صحت کے مسائل آبزرو کرنا شروع کئے۔ اگلی 2 ملاقاتوں میں عمران خان کو قائل کرنا شروع کردیا کہ کہ صحت ہے تو سب کچھ ہے آپ ہمیں کوئی راستہ نکالنے دیں جس سے آپ پہلے اسپتال پھر بنی گالہ منتقل ہوجائیں، عمران خان نہیں مانے۔ ملاقاتوں پر پابندی مزید سخت ہوگئی
عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو 20 دسممبر کو صرف 7 منٹ ملاقات کی اجازت دی گئی۔ ایک قانونی معاملہ تھا
دسمبر کے آخری ہفتے سے عمران خان کی صحت کے مسائل بڑھنا شروع ہوئے۔ یہ بات ڈاکٹر عظمی خان اپنی 3 ملاقاتوں میں آبزرو کرچکی تھیں۔ انہوں نے نورین اور علیمہ کو عمران خان کو کسی مفاہمت کے ذریعے جیل سے باہر نکالنے کے لئے قائل کرنا شروع کیا، نورین خانم مان گئیں ، علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے نظریئے کو نقصان پہنچے گا۔ تینوں بہنوں کا موقف نیک نیتی سے بھرپور اور بھائی کی محبت میں تھا اس کا یہ مطلب نہیں کہ 2 بہنیں خدانخواستہ ٹاوٹ ہوگئیں یا ایک بہن خدانخواستہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتی تھی، ہرگز نہیں۔۔ مگر نیلے نشان والے بڑے غیر ملکی ڈالر اکاونٹس بدنیت نہیں ان کی سمجھدانی کمزور ہے۔
جنوری میں عمران خان کی صحت کے مسائل ، آنکھوں کی بینائی اور بلڈ پریشر کا معاملہ مزید گھمبیر ہوا۔ یہاں تک کہ راتوں رات اسپتال شفٹ کرنے اور اڈیالہ جیل واپس منتقل کرنے کی خبریں آئیں، شور مچ گیا۔
پھر 10 فروری 2026 کو سپریم کورٹ کے حکم پر بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے ایک طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد عمران خان کے جیل میں حالات، صحت اور سہولیات کا جائزہ لینا تھا اور سلمان صفدر کو عدالت کے لیے رپورٹ تیار کرنی تھی۔ یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔
عمراں خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ ہوچکا تھا۔فیصلہ ساز، حکومت اور عدلیہ اپنے لئے تھوڑی سی گارنٹی چاہتے تھے کہ اس منتقلی کئ دوران چاہے چند ہفتے ہیں سہی، کوئی سیاسی بیان نہ کہتان نہ نہ پارٹی نہ فیلمی کی جانب سے آئے
اس دوران جمائما خان، قاسم سلیمان کے ذریعے بیرون ملک برطانیہ علاج اور 3 ماہ خاموشی کی آفر کی گئی مگر عمراں خان نے انکار کردیا۔ عظمی اور نورین بھی قائل کرتی رہیں مگر اڈیالہ کے اندر عمران خان اور اڈیالہ کے باہر، علیمہ خان انکاری تھیں
6 ماہ مزید گزر گئے، عمران خان کو تین سے چار مرتبہ اڈیالہ سے پمز لایا جاتا رہا۔ بینائی کی صورتحال تو بہتر ہوئی مگر قید تنہائی جوکہ ذہنی اور نفسیاتی تشدد تھا اس سے ائنگزائٹی اور بلڈ پریشر کے مسائل بڑھ گئے
اس دوران 8 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سلمان صفدر کو دوبارہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی۔ اس مرتبہ ملاقات قانونی معاملات، خصوصاً القادر ٹرسٹ اور متعلقہ مقدمات کے حوالے سے مشاورت کے لیے ہوئی اور تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔
یاد رہے عمران خان نے عظمی خان کو ملاقاتوں میں بتایا تھا کہ یہ مجھے توڑنے کے لئے ہر حربہ آزما رہے ہیں، نئے کیسز بنا کر، میری صحت کے مسائل سے تمہیں میری فیملی بہنوں کو ڈرا کر مجھے کمزور کرنا چاہتے ہیں مگر میں ڈیل نہیں کرونگا اور علیمہ خان تک یہ پیغام پہنچانے کا بھی کہا، عظمی نے پیغام تو پہنچا دیا مگر بھائی کی محبت میں نورین سمیت خود اس بات کی قائل تھیں کہ عمران خان کو کسی نہ کسی طرح باہر آنا چاہیئے، علیمہ کا اپنا موقف تھا، ان کی اپنی محبت تھی، راستہ الگ تھا۔
اسی دوران فیصلہ سازوں نے عدلیہ کا محاذ فتح کرلیا، بظاہر اپنے بندے لگالئے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ میں بھی اہم ترین تعیناتیاں ہوگئیں۔ 2029 تک فیصلہ سازوں نے خود کو سیو کرلیا۔ وجہ خوف تھا کہ عمران خان آگیا تو نہیں چھوڑے گا
اسی دوران پتہ چلا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ایک بل پاکستانی ڈیموکریسی ایکٹ کے نام سے آیا تھا۔ اس میں عمران خان اور سیاسی قیدیوں کا ذکر تھا اور پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت پر پابندیوں کی بات کی گئی تھی۔ یہ بل بحث کے لئے خارجی اور دفاعی کمیٹیوں کے پاس چلا گیا تھا۔ امریکی سفارتی ذارئع نے بتایا کہ اندر ٹرمپ پر دباو بڑھ رہا ہے۔ ایران سے پاکستان نے امریکہ کو وہ حاصل نہیں کرکے دیا جو امریکہ کی خواہش تھی۔ عمران خان کے نام کو جیسے پاکستان کی مقتدرہ اور روایتی سیاسی جماعتیں ن لیگ پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرتی رہیں، وہی کام اب امریکی فیصلہ ساز اور پاکستانی فیصلہ ساز کر رہے تھے
یہ ذہن میں رہے کہ کچھ عرصے سے امریکی اسٹیبلشمنٹ کا بدلتا رویہ، سفارتی، معاشی، سیکورٹی مسائل، ۔۔ معاشی، سیاسی عدم استحکام، پاکستان کے معروضی حالات یوں پاکستان فیصلہ سازوں کی مجبوریاں بڑھ گئیں۔ سسٹم کی ناکامی کا بیان، 28 ویں ترمیم کی کوششیں، محسن نقوی کی بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی سے ملاقاتیں اور پھر لانگ مارچ کے لئے 52 دن لمبی تاریخ ایک ہی پیٹرن کی جانب اشارہ کر رہی تھیں
دوسری طرف اگست کے مہینے کے آغاز پر عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں جو بعد میں درست ثابت ہوئیں۔ آئینی عدالت میں بشری بی بی کی رہائی کا کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کے کیسز۔۔۔۔اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی فیملی اور پی ٹی آئی کو گرین سگنل دینا شروع کردیے ۔ اس دوران بشری بی بی کی فیملی سے بشری بی بی کی مسلسل ملاقاتیں کروائی گئیں۔ اور ان ملاقاتوں کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کی کانفرنس روم میں لمبی لمبی ملاقاتیں کروائیں گئیں۔
عمران خان کے ساتھ ساتھ بشری بی بی بھی صحت کے مسائل کا شکار تھیں۔ مگر شوہر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ مگر پھر اس ساری صورتحال میں اس وقت بڑا ٹوسٹ ایا جب بشری بی بی نے بھی عمران خان کو اس بات پر قائل کرنا شروع کردیا کہ آپ کی صحت خراب ہے، چند ہفتوں ہی کے لئے سہی ، علاج کے لئے اسپتال پھر بنی گالہ شفٹ ہوجائیں۔ دس ماہ سے آپ کا کوئی بیان عوام تک نہیں پہنچا، ایک دو ماہ اور سہی۔ آپ صحت کا خیال کریں
عمران خان نے لندن جلا وطنی کی طرح بنی گالہ نظر بندی کی آفر بھی ماننے سے انکار کردیا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ کپتان بشری بی بی کی آخری ملاقات میں عمران خان کے اس انکار کی آڈیو، فیصلہ سازوں تک بھی پہنچی ۔ اب یہ آڈیو محفوظ ہاتھوں میں ہے
بریک تھرو اس وقت ہوا جب 18 اگست کے سپریم کورٹ کیس سے پہلے 17 اگست کو عمران خان کی 2 بہنوں عظمی خان اور نورین خان نے علیمہ خان کو منا لیا کہ ہم عمران خان کا کوئی سیاسی پیغام میڈیا تک نہیں پہنچائیں گے۔ پارٹی قیادت تو پہلے ہی یہ بات مان چکی تھی، عظمی، نورین بھی مان چکی تھیں، بشری بی بی بھی قائل ہوچکی تھیں، بشری بی بی کی فیملی بھی کوئی میڈیا ٹالک نہ کرنے پر راضی تھی۔ اب علیمہ خان کو بھی منا لیا گیا، ظاہر سی بات ہے عمران خان تو راضی نہیں ہوئے کہ وہ میڈیا یا عوام تک بیان نہیں پہنچائیں گے یا عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ ، حکومت پر تنقید نہیں کرینگے۔ مگر جب ان کو اسپتال میں سیکورٹی میں رکھا جائے گا۔ نہ میڈیا ہوگا اور نہ عوام تو بھلا عمران خان کس سے بات کرینگے اور کیسے پیغام باہر پہنچے گا اور کیسے عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ یا حکومت پر تنقید ہوگی
عمران خان اگر بات کرینگے بھی تو ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عظمی سے۔۔۔۔ یا پھر علیمہ اور نورین سے۔۔۔ مگر وہ تو میڈیا ٹالک نہ کرنے پر راضی ہیں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، خیبر پختونخوا کے وزیراعلی سہیل آفریدی دونوں راضی کے اس معاملے پر کوئی میڈیا ٹالک نہیں ہوگی
میری معلومات کے مطابق، جوکچھ گزشتہ دن چند دنوں میں پی ٹی آئی قیادت، وکلا، بہنوں اور حکومت فیصلہ سازوں اور عدلیہ کے دمریان جوکچھ ہوا اس کا 1 فیصد علم بھی عمران خان کو نہیں آج کی ملاقات میں نورین خان نے عمران خان کو صرف اتنا بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آپ کی صحت کے مسائل کی وجہ سے آپ کو 1 ماہ کے لئے اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ آگے کیا ہوگا یہ ابھی ہونا باقی ہے
عمران خان آج بھی اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہے، اس نے کوئی ڈیل نہیں کی ۔ میری معلومات کے مطابق ، گزشتہ 4 برسوں میں ، اس کی قید سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ان تین برسوں میں، عمران خان سے 19 بار رابطے کئے گئے،،، ڈیل کے لئے۔۔ جی ہاں پورے گن کر 19بار رابطے
پارٹی رہنما، اہل خانہ، وکلا، سیاست دانوں، جرنیلوں، میڈیا پرسنز، کھلاڑیوں، غیر ملکی پی ٹی آئی رہنماوں، دوستوں سب کے ذریعے رابطہ کہا گیا مگر عمران خان نے کہا کہ نو ڈیل ۔ جیل کاٹوں گا۔ نہ جلاو طنی نہ نظر بندی کچھ قبول نہیں، اس لئے آج بھی کہوں گا کہ ۔۔۔۔۔ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان
ایک بات ذہن میں رہے کہ اس تحریر میں موجود تمام معلومات، ڈیلز کے لئے رابطے اور پیغامات، عمران خان کے جواب،،،،، سب کسی نی کسی طریقے سے گزشتہ کچھ عرصے سے میں یوٹیوب پر اپنے وی لاگز اور ٹویٹر اپر اپنے ٹویٹس کے ذریعے آپ تک پہنچا چکا ہوں۔ اور بدلے میں فیاض راجہ لمبی لمبی چھوڑنے والے صحافی کا اعزاز بھی حاصل کرچکا ہوں اور ساتھ میں یہ کلمات بھی۔
"فیاض راجہ کے تھمب نیل ایسے ہوتے ہیں، جھوٹ بولتا ہے، لمبی لمبی چھوڑتا ہے۔ پوری دنیا کچھ اور بات کرتی ہے فیاض راجہ کی فرضی دنیا کچھ اور ہے۔ یہ ٹاوٹ ہے، یہ ایجنٹ ہے وغیرہ وغیرہ"
اللہ کا شکر ہے کہ مزدور صحافی ہوں،25 برس سے صحافت میرا پیشہ ہے، آنکھیں اور کان کھلے رکھتا ہوں، تاریخ پڑھتا ہوں، پھر حال کا تجزیہ کرتا ہوں۔۔ کسی کا ایک ٹکے کا روادار بھی نہیں۔ الحمد اللہ
اور ہاں بڑے بڑے طرم خان سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی آج ایک بار پھر گالیاں کھانے اور الزامات سننے کو تیار ہوں۔ مگر میں خوش ہوں کہ پاکستان آج آگے بڑھا ہے۔ راستے نکلیں گے انشا اللہ
پی ٹی آئی کے کروڑوں ووٹرز کو بالخصوص اور پاکستان کے 25 کروڑ عوم کو بالعموم عمران خان کی 1 ماہ کی رہائی مبارک ہو۔ آگے بھی اللہ بہتر کرے گا انشا اللہ
شہباز شریف نے نیا لطیفہ جاری کر دیا۔
"قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو قرضےلیتی ہیں"
ماشاءﷲ۔ پوری بات بتائیں کہ عظیم حکومتیں عوام کے نام پر بھاری قرضے لے کر 11 ارب روپے کے جہاز اور اربوں روپے کے اشتہار چلاتی ہیں۔ 👏👏👏
جب تھک ہار کر کبھی معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں تو پھر اللہ اور اس معاملے کے بیچ سے نکل بھی جایا کریں ۔ٹھہر ٹھہر کر اپنی خواہش ' اپنی شرائط اور اپنی ٹائمنگ اسے مت سنایا کریں۔
😄 واقعی، اب تو ہر چیز ڈیجیٹل ہوتی جا رہی ہے!
"لو جی، اب بیعت بھی QR کوڈ سے! بس اسکین کریں، نیت کریں، اور بیعت ہو جائیں! 😂" بیعت کی رسید بھی فوراً موبائل پر دستیاب! 🤭دوسرے لوگوں تک بھی پہنچائیں، تاکہ سب لوگ بیعت کی پرچی حاصل کریں۔😂😅
امریکی ایوان نمائندگان کا وفد جنرل عاصم منیر سے ملنے جی ایچ کیو پہنچ گیا
ایوان نمائندگان کے وفد کا براہ راست GHQ جانا کس پروٹوکول کے تحت ہے ؟
کیا ہمارا کوئی پارلیمنٹری وفد کبھی پینٹاگون جا سکا ہے ؟
سورۃ التوبہ کی آیت 80 میں زیادہ واضح ہے
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
"(اے نبی!) آپ ان (منافقوں) کے لیے استغفار کریں یا ان کے لئے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
اللہ نے فرمایا :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ :
"یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے
(سورۂ احزاب )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ :
جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کا علی مولا ہے
#حق_علی_مولا
روزانہ پٹرولیم کی قیمتیں بدلنے کیخلاف پٹرول پمپس کی آج رات 12 بجے سے مکمل ہڑتال کا اعلان۔
روز کا یہ ڈرامہ جہاں حسب ضرورت فوری ڈکیتی کیلئے ہے وہیں اس سے اور بھی مسائل ہیں۔
رات 12 بجے قیمتیں بدلنے سے پیٹرول پمپس کے لوکیشن کے حساب سے قیمت کا فرق کون ایڈجسٹ کرے۔ ابھی پہلی ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے کہ اگلا ردوبدل آ چکا ہوتا ہے
رات بجے کونسی اتھارٹی ٹرانسپورٹ کے کرائے اور آن لائن ٹرانسپورٹ کے کرائے اور چارجز سیٹ کرتی اور اڈوں تک پہنچاتی ہے۔
منڈیوں تک سامان پہنچانے والے شام کو کچھ پلان کرتے ہیں رات 12 بجے حالات کچھ کا کچھ ہو جاتے ہیں
تیل کی قیمتیں ہر 12 گھنٹے بعد بدلتی ہیں نہ ہر روز تیل امپورٹ کیا جاتا ہے جو اس خنجر خانہ کی ضرورت ہو ۔ یہ رجیم سب کو لمحہ بہ لمحہ ٹینشن میں رکھ کر ٹینشن سے بچنا چاہتی ہے حالانکہ یہی حرکتیں بالآخر اس کیلئے گلاٹی دینے والی ٹینشن بنیں گی
ایک وضاحت ضروری ہے چونکہ یہ قرآن کا معاملہ ہے۔
سورہ النمل کی اس آیت نمبر 88 کا تعلق موجودہ دنیا سے نہیں، بلکہ قیامت کے دن کے ہولناک مناظر سے ہے۔ کیونکہ یہ پچھلی آیت 87 کا تسلسل ہے
"اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے..."
اس کے فوراً بعد اگلی آیت 88 میں پہاڑوں کے بادلوں کی طرح چلنے کا ذکر ہے۔
مفسرین کے مطابق، قیامت کے دن جب یہ عظیم الشان پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ کر روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، تو اپنی وسعت کی وجہ سے دیکھنے والے کو لگے گا کہ ساکن ہیں، مگر وہ حقیقت میں تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ اسلئے اسے Tectonic Plates یا زمین کی حرکت یا گردشِ پر محمول کرنا درست نہیں ہو گا
"رواسی" اور "سحاب" میں زمانے کا فرق ہے
"رواسی" (مضبوطی سے گاڑے ہوئے) انکی زمین پر کیفیت کا نام ہے جو زمین کو ڈگمگانے سے روکنے والی کیلیں ہیں۔ لیکن قیامت کے دن یہی نظامِ کائنات بدل جائے گا اور یہ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔
ایک ہی وقت میں ایک چیز کا زمین کو ساکن رکھنا اور خود بادلوں کی طرح اڑنا سائنسی اور عقلی طور پر متصادم ہو جاتا ہے۔
استاد بھاگ کسی زمانے میں یار کے نام کا سکہ چلتا تھا کراچی میں صرف الطاف بھائی کہو تو پورا شہر پانچ منٹ میں بند ہو جاتا تھا لندن سے ٹی وی پر خطاب کرتا تھا تو لوگ کانپتے ہوئے اس کے ٹی وی والے خطاب کے سامنے ایسے بیٹھتے تھے جیسے قرآن سننے آئے ہوں قربانی کی کھالوں پر صرف بھاؤ کے نام کا اسٹامپ لگا کر جاؤ تو پورا کراچی چھان مارو وہ کھال تم سے کوئی نہیں لے گا صاحب کراچی کو اپنی مرضی سے چلانے کے لیے لندن سے صرف ایک حکم جاری کرتا تھا اور آج لاش کی مانند اسپتال میں اپنوں کا انتظار کر رہا ہے کسی کو یاد ہی نہیں کہ کراچی میں کوئی الطاف حسین بھی تھا کیا
یہ ہے دنیا کی وقعت نہ آنے کی کوئی خبر نہ جانے کی خبر نہ عروج میں دیر نہ زوال کی کوئی جلدی صبح کے بادشاہ شام کے فقیر
استاد یہ دنیا عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے۔
بیرون ملک کام کرنے والو! خدارا بچوں سے دور رہو۔
سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی نے اپنے دوست کے ساتھ پیش آنے والا ایک سبق آموز واقعہ بیان کیا۔
ان کے مطابق چند ہفتے قبل سعودی عرب میں بطور رائیڈر کام کرنے والا ایک پاکستانی پیزا ڈیلیور کرنے ایک عرب خاندان کے گھر گیا۔ دروازہ تقریباً 6،7 سالہ ایک ننھی بچی نے کھولا۔ رائیڈر نے پاکستانی معاشرے کی عام روایت کے مطابق بچی کو "سو کیوٹ" کہتے ہوئے اس کے گال پر ہلکا سا پیار کر دیا۔
لیکن گھر کے اندر موجود والدین سی سی ٹی وی پر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ فوراً باہر آئے، پولیس کو بلایا اور الزام لگایا کہ اس شخص نے ان کی بچی کو بغیر اجازت چھوا ہے، جو وہاں کے قوانین کے مطابق نامناسب عمل سمجھا جاتا ہے۔
رائیڈر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر اسے 4 سال قید اور 15 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
**اس واقعے سے ایک اہم سبق ملتا ہے کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنے ملک کی روایات کے بجائے وہاں کے قوانین اور معاشرتی اقدار کو مقدم رکھیں۔**
اپنے کام سے کام رکھیں، کسی بچے یا اجنبی کو بلا اجازت ہاتھ نہ لگائیں، اور جذبات پر قابو رکھیں۔ ایک معمولی سی غلطی بھی پردیس میں بڑی قانونی مشکل کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان کیلئے قطر کا ویزہ آن ارئیول تھا
فن لینڈ اور کچھ دیگر ممالک کہ جن کی ایمبیسیز پاکستان میں نہیں تھیں
سٹوڈنٹ ویزا کیلئے طلباء قطر جا کر آسانی سے بائیو میٹرک کروا کر ویزا لگوا لیتے تھے
نامعلوم وجوہات کی بنا پر قطر نے یہ سہولت ہی ختم کر دی ہے
اب صورتحال یہ ہے کہ قطر کا ویزہ ہی نہیں مل رہا
آن لائن اپلائی کریں تو دو دو مہینے جواب ہی نہیں آتا ہے
جبکہ جن بچوں نے ستمبر ان ٹیک میں کلاسز لینی ہیں وہ پریشان بیٹھے ہیں
اور کوئی حل نہیں ہے
وزارت خارجہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے
@ForeignOfficePk@Qatar_Edu@VFSGlobal@Ulkoministerio
ابو جہل اور حضرت ابو طالب کا آپس میں کوئی قریبی خونی رشتہ نہیں تھا دونوں قریش قبیلہ کے مختلف ذیلی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ابو طالب بنو ہاشم سے تھے عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی ﷺ کے حقیقی چچا اور حضرت علی رضی الله عن کے والد تھے، جبکہ ابو جہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا اور وہ بنو مخزوم سے تھا یہ دونوں صرف ایک ہی بڑے قبیلے قریش کے افراد تھے، یعنی دور کے قبائلی ساتھی، لیکن چچا، بھائی یا قریبی رشتہ دار نہیں تھے
حضور ﷺ کے ایک چچا ابو لہب تھا مگر وہ بھی سوتیلا چچا تھا ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب تھا نبی ﷺ کے سگے چچا نہیں تھا وہ عبد المطلب کا بیٹا تو تھا، مگر ماں مختلف تھیں
ابو طالب اور نبی ﷺ کے والد عبد اللہ کی ماں فاطمہ بنت عمرو تھیں ابو لہب کی ماں لبنیٰ بنت ہاجر بنی خزاعہ سے تھیں
🚨ستھرا پنجاب گوجرانوالہ کے ورکر ذیشان نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی
ذیشان کو کبھی پوری تنخواہ نہیں دی گئی تھی ہر مہینے ٹھیکیدار 21000 روپیہ تنخواہ میں کھا جاتا تھا ذیشان کے بچے بھوکے مر رہے تھے ذیشان کو تنخواہ مانگنے پر تشدد کر کے نوکری سے ہی نکال دیا گیا تھا
آج کل کے نوجوانوں میں نشے کی ایک قسم کا خطرناک رجحان تیزی سےرواج پا رہا ھے۔جس میں لڑکے مختلف موقعوں پر اکٹھے ہو کر گبیکا (پری گیبالین) کو سٹینگ کی بوتل میں ڈال کر پیتے ہیں۔یہ گولیاں وقتی سکون اور خوشی دیتی ھیں لیکن اصل میں یہ جسم اور دماغ کو تباہ کر دینے والا وہ زہر ھے جس کی لت لگ جاتی ھے اور پھر پئیے بغیر گزارہ نہیں ھے۔
یہ فارمولا دل،دماغ، اعصابی نظام،گردے اور جگر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ھے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ھے جس سے موڈ سونگ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوتا ھے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل پر کڑی نظر رکھی جائے اور اس طرح کی بوتل کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا جائے، ہمیں عام حالات میں بھی رنگ دار بوتل کے پینے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔۔۔
اللہ میرے ملک کے سب بچوں کو اس طرح کی خرافات سے محفوظ رکھے۔۔۔آمین
نکاح صرف فزیکل ریلیشنز کیلئے نہیں ہوتا
یہ عورت اور مرد دونوں کو سماجی تحفظ بھی فراہم کرتا ہے
نبی کریم ﷺ نے صرف پہلی شادی جوانی میں کی،
باقی ساری شادیاں پچاس سال کی عمر کے بعد کیں، رسول اللہ ﷺ نے آخری نکاح حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے 57 برس کی عمر میں کیا
بابا فرید الدین گنج شکر رضی اللہ عنہ نے پہلی شادی تریسٹھ برس کی عمر میں کی
اور ان کے پانچ بیٹے ہوئے
پیر پگاڑا نے نوے سال کی عمر میں جوان لڑکی سے شادی کی اور ان کے اولاد پیدا ہوئی۔
یہ دور حاضر کا اور خصوصاً اس خطے کے غریب عوام کا مسئلہ ہے کہ جہاں مسائل سے لڑتے لڑتے چالیس سال کی عمر تک صحت ہی جواب دے جاتی ہے
جاپان میں آج بھی پچانوے چھیانوے سال کے بابے سیدھے چلتے ہیں
اور ازدواجی فرائض بھی ادا کرتے ہیں
عرب ممالک میں جہاں خوشحالی ہے
ستر پچھتر سال کے عربی بابے چار چار بیگمات کے ساتھ ڈنر کرنے آتے ہیں
ہمیں تو کمپنی نے لوٹا
غیروں میں کہاں دم تھا
اس ملک کی بدحال اور غلام مخلوق کے دماغ بلوں نے جکڑے ہوئے ہیں
انہیں کیا معلوم صحت کیا ہے
اور ازدواجی خوشیاں کیا ہوتی ہیں
بہر حال مولانا شیرانی کو نکاح مبارک ہو
مولانا نے حلال طریقہ اپنایا
ورنہ اٹھارہ نمبر بنگلے والا مولوی تو اتنا عیاش رہا کہ آخر علاج کیلئے بنکاک جانا پڑا
#پاکستان
🇨🇭 سویٹزرلینڈ سے آئے سیاح گلگت بلتستان اور سوات کی خوبصورتی کے دیوانے ہوگئے، مگر صفائی کی حالت دیکھ کر خود ہاتھوں میں تھیلا اٹھا لیا۔
سیاحوں کا کہنا تھا: “ یہ علاقے تو سویٹزرلینڈ سے بھی زیادہ حسین ہے، بس یہاں لوگ صفائی کا خود خیال رکھیں”
سویٹزرلینڈ سے آئے مہمان پاکستانیوں کا گند صاف کرتے ہوئے 👇