رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا:
" کیا گنہگار کی توبہ قبول ہوتی ہے؟"
فرمایا :
"انسان اس وقت تک توبہ کر ہی نہیں سکتا جب تک اللہ توفیق نہ دے ، اور جب توفیق مل جائے تو پھر قبولیت میں کوئی شک نہیں رہتا۔"
چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟
کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں
👇
چیتا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا؟؟
کتا: ہاں
چیتا: انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟
کتا: وہ اسے چیتا کہتے ہیں
چیتا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ چیتا بن کر رہو مگر تم نے انسانوں کے تحفظ کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا۔ میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں،
👇
ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں، اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو چیتے کے طور پر بیان کرتے ہیں
تمہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ “انسان اپنے جلادوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہیں اور اپنے وفاداروں اور ہمدردوں کی توہین کرتے ہیں..!
نکاح کے بعد شوہر کی وہ عادات جو اسکا ازدواجی رشتہ کھوکھلا کر دیتی ہیں.....!
شادی صرف دو لوگوں کا ساتھ نہیں، دو ذہنوں کا، دو احساسات کا اور دو لاشعوروں کا ملاپ بھی ہوتا ہے۔ ایک عورت جب گھر بسانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو وہ صرف بیوی نہیں بنتی، ایک ساتھی، ایک دوست اور ایک نفسیاتی پناہ گاہ بھی بن جاتی ہے۔
مردوں کی بیس مہلک عادات، رویے اور اعمال:
1.👈بیوی کو نوکرانی سمجھنا: بیوی شراکت دار ہے، خدمتگار نہیں۔ اگر ہر وقت حکم ہی دیتے رہو گے تو محبت کب کرو گے؟
2.👈بیوی کے جذبات کا مذاق اُڑانا: "تم تو بس روتی ہی رہتی ہو"، "بے وجہ ڈرامہ کرتی ہو", یہ جملے دل زخمی کرتے ہیں۔
3.👈بیوی کے ماضی کی تفتیش: شادی کے بعد بار بار پوچھنا کہ "کسی اور سے محبت تو نہیں تھی؟", یہ مردانگی نہیں، بیماری ہے۔
4.👈بیوی کے خاندان کی توہین: "تمھاری ماں نے تمھیں کچھ نہیں سکھایا"، "تمھارا باپ بھی ایسا ہی ہے", یہ جملے بیوی کی ذات پر حملہ ہوتے ہیں۔
5.👈بیوی پر ہاتھ اٹھانا: جو مرد عورت کو مارتا ہے، وہ فقط اپنی کمزوری کی گواہی دیتا ہے۔
6.👈بیوی کی بات نہ سننا: ہر بات پر کٹ کر دینا، نظرانداز کرنا، جواب نہ دینا, یہ رشتہ کھوکھلا کر دیتا ہے۔
7.👈مالی ظلم: بیوی کے خرچے روک دینا، یا کمزور کرنا, یہ مردانگی نہیں، کنجوسی ہے۔
8.👈بیوی کے جسمانی حق کو نظرانداز کرنا: اگر شوہر بار بار بیوی کو ٹالتا ہے، تو بیوی کے جذبات مر جاتے ہیں۔
9.👈بیوی کو غیر عورتوں سے تقابل کرنا: "وہ دیکھو کتنا سمارٹ کپڑے پہنتی ہے"، "فلاں کتنی بولڈ ہے", یہ بے غیرتی کی علامت ہے۔
10.👈بہت زیادہ ممی ڈیڈی ہونا: ہر بات پر ماں بہن کی طرف دوڑنا, اور بیوی کو نظرانداز کرنا, توازن تباہ کرتا ہے۔
11.👈سوشل میڈیا پر بے لگام رویہ: بیوی کو چھوڑ کر انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک پر مشغول, رشتہ ٹائم لائن پر نہیں ٹکتا۔
12.👈دوسری عورتوں میں دلچسپی: بیوی کو نظرانداز کر کے دیگر عورتوں سے دوستی, یہ خیانت کی پہلی سیڑھی ہے۔
13.👈بیوی کو "مجبور" کر دینا: ہر بات پر بوجھ ڈالنا: "بس تمھیں برداشت کرنا ہو گا", یہ رشتہ نہیں، غلامی ہے۔
14.👈بیوی کے لباس، بالوں، یا وزن پر طعنہ زنی: وہ سجے یا نہ سجے، پسند اور نرمی سے بات کرو۔ تنقید نہیں، ترغیب دو۔
15.👈بیوی کے میکے سے نفرت: "بس تمھارا دماغ تمھاری ماں کے ساتھ ہے", ایسے جملے رشتوں کو کاٹ دیتے ہیں۔
16.👈ہر وقت طنز کرنا: "تم سے کچھ نہیں ہو سکتا"، "تمھارا دماغ نہیں ہے", بیوی کھلتی نہیں، مرجھا جاتی ہے۔
17.👈بیوی کی ناکامی پر خوش ہونا: اگر وہ کوئی کام نہ کر پائے تو مذاق اُڑانا, یہ دشمنی ہے، محبت نہیں۔
18.👈بیوی کو ہر وقت آزمانا: وفاداری، نرمی، برداشت, سب پر شک کرنا, یہ اعتماد کو مار دیتا ہے۔
19.👈طلاق کی دھمکیاں دینا: "چلی جاؤ"، "رخصتی کرا لیتا ہوں", بار بار یہ کہنا مردانگی نہیں، بزدلی ہے۔
خیر یہ عادات صرف عمل نہیں، طرزِ فکر کا عکس ہیں۔ جب عورت یا مرد خود کو ہمیشہ درست سمجھنے لگے اور دوسرے کو کمتر، تب رشتہ فنا ہوتا ہے۔ نکاح ایک پُل ہے, اگر دونوں جانب سے برابر نہ چلا جائے تو بیچ میں گرنا طے ہے۔ یہ نہ صرف دو دلوں کا معاملہ ہے بلکہ نسلوں کا بھی۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو ماں باپ کرتے ہیں۔ اگر میاں بیوی میں تلخی ہو، تو نسلیں زہریلی ہوتی ہیں۔
یاد رہے, نکاح نعمت ہے, مگر آزمائش بھی۔ یہ ہنسی خوشی رہنے کا فارمولا نہیں، بلکہ خود کو بدلنے کا عہد ہے۔ جو اپنے لیے جیتا ہے، وہ رشتے نہیں نبھاتا۔ جو دوسرے کے لیے جیتا ہے، وہ نسلیں بنا جاتا ہے۔
آج آپ سوچیں… آپ کے رشتے میں اگر تلخی ہے,
تو کیا اس کی جڑ ان بیس عادات میں چھپی ہے؟
کیا آپ واقعی محبت کرنا چاہتے ہیں, یا صرف قابو پانا؟
کیا آپ رشتہ نبھانا چاہتے ہیں, یا فقط زندہ رکھنا؟
کیونکہ یاد رکھیں,
محبت گُل کی طرح ہوتی ہے، جسے ہر روز پانی دینا ہوتا ہے۔ اور اگر آپ نے اسے نظرانداز کیا, تو کانٹے ہی کانٹے رہ جائیں گے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کے لکھنے اور پڑھنے والوں کو عمل کی
توفیق عطا فرمائے آمیین یارب العالمیین
بلال شوکت آزاد
#موناسکندر
چند روز قبل گیٹ نمبر 4 کے ترجمان اعزاز سید نے ایک خبر لیک کی ہے کہ صدر زرداری کو فارغ کرنے پر کام شروع ہو چکا ہے
لیکن جمہوریت دشمن یاد رکھیں
ضیاء تھا، زرداری ہے
اسلم بیگ تھا، زرداری ہے
کا کڑ تھا، زرداری ہے
جہانگیر کرامت تھا، زرداری ہے
مشرف تھا، زرداری ہے
کیانی تھا، زرداری ہے
راحیل شریف تھا، زرداری ہے
باجوہ تھا، زرداری ہے
اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا
@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ@NadeemAfzalChan
Excoriating piece from Ronan Bennett- On @Keir_Starmer "But let’s not waste any more time on this pathetic, cringe-inducing little man who can see red paint sprayed on warplanes and government buildings, but apparently not the blood gushing from tens of thousands of Palestinians. Who can hear chanting at Glastonbury, but not the screams of the maimed and incinerated, or the howls of grief and rage from survivors. Who is offended by Kneecap but not by the genocidal statements of senior Israeli politicians and cabinet ministers." https://t.co/4mUkMjgVd0