پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
مراد سعید @MuradSaeedPTI کا پیغام:
- 10 اکتوبر 2025
“بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!”
#ملٹری_آپریشن_بند_کرو
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تحریک انصاف کا ردعمل
آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس کے تناظر میں تحریکِ انصاف سمجھتی ہے کہ عوام کو اصل صورتحال بتانے کے لیے چند بنیادی نکات واضح کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان میں طالبان کی واپسی کا معاملہ ایک مخصوص سوچ کے تحت پیش کیا گیا تھا جس میں آئین و قانون کی بالادستی کو نظرانداز کرنے کا تاثر تھا۔ یہ منصوبہ پہلی مرتبہ 2021 میں اُس وقت کی فوجی قیادت کی جانب سے سامنے آیا۔ تجویز یہ تھی کہ ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کو واپس لا کر پاکستان میں بسایا جائے۔ جب یہ تجویز اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے فوری طور پر کابینہ، خیبر پختونخوا کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت کی۔ سب نے متفقہ طور پر اس منصوبے کو مسترد کیا۔ بعدازاں یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں بھی زیرِ بحث آیا، جہاں تجویز دی گئی کہ طالبان کو آبادکاری کا موقع دیا جائے، ان کے قیدی رہا کیے جائیں اور فاٹا کے انضمام پر نظرِ ثانی کی جائے۔ تاہم عمران خان کی کابینہ نے اسے مکمل طور پر رد کر دیا اور واضح مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کو دہشت گرد عناصر کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے۔
تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے اس وقت بھی سوالات اٹھائے کہ ایسے فیصلوں کے نتائج کیا ہوں گے، مگر افسوس کہ ان سوالات کے جوابات آج تک نہیں دیے گئے۔ اس کے برعکس جن رہنماؤں نے یہ سوال اٹھائے، اُنہیں دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں جب پی ڈی ایم حکومت برسرِ اقتدار آئی تو 6 جولائی 2022 کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اُس وقت تحریکِ انصاف کے ارکان اسمبلی مستعفی ہو چکے تھے، لہٰذا اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ لیکن اجلاس میں شریک جماعتوں—مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اور دیگرنے متفقہ طور پر طالبان سے مذاکرات کی توثیق کی۔ اسی فیصلے کے اگلے روز، یعنی 7 جولائی 2022 کو اُس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ یعنی حقیقت بالکل واضح ہے کہ تحریکِ انصاف کے دور میں یہ تجویز آئی ضرور تھی، مگر مسترد کر دی گئی۔ بعد میں پی ڈی ایم حکومت نے اسی منصوبے کو منظور کر کے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ تحریکِ انصاف کا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کے بطور وزیراعظم دور میں ہونے والی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے منٹس پبلک کیے جائیں تاکہ قوم جان سکے کہ طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کا اصل محرک کون تھا۔ اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے خود 7 جولائی 2022 کی ٹویٹ میں اسی اجلاس کا حوالہ دیا تھا—لہٰذا حقائق کو چھپانے کے بجائے قوم کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ تحریکِ انصاف کا اصولی موقف رہا ہے کہ ملک کے اندرونی امن و امان کے معاملات میں مسلح افواج کا استعمال نہ کیا جائے — یہ سبق ملک کے ٹوٹنے کے بعد واضح ہوا اور 1972 سے بلوچستان کا بحران اس کا زندہ ثبوت ہے۔ ریاست کے خلاف کارروائی کرنے والے عناصر کے جائز تحفظات اور شکایات کو دبانے کے بجائے عوام کے سامنے لانا چاہیے تاکہ عوام خود ان کے غیر منصفانہ مطالبات یا زور و زبردستی کے عمل کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کریں۔ تاہم مسلح گروہوں کو باقی آبادی پر حاوی ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی اور جب عوام خوش اور مطمئن ہوں تو ریاستی پالیسیاں ایسے عناصر کو معاشرتی پناہ دینے کی گنجائش نہیں رہنے دیتی۔ہمیں خطے میں افغان حکومت کے ساتھ تعاون کو تقویت دینی چاہیے تاکہ مسلح باغی اور دہشت گرد افغانستان میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہ بنا سکیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیشتر افغان عوام پاکستان سے محبت اور احترام رکھتے ہیں، جیسا کہ پاکستان نے 1980 کی دہائی میں افغان بھائیوں کے لیے اپنی دروازے اور دل کھول دیے تھے۔ اس کے باوجود ہماری خارجہ پالیسی میں کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے افغان حکومت اور عوام کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکامی رہی — اسے درست کرنا ضروری ہے۔ تحریکِ انصاف کا اصولی موقف یہ ہے کہ دہشت گردی ہر شکل میں ناقابلِ قبول ہے اور اسے ہر سطح پر ختم کیا جائے۔ سیاست یا الزام تراشی کو اس معاملے میں جگہ نہیں دی جا سکتی۔ ہم قانون کی حکمرانی اور آئینِ پاکستان کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور بطور سویلین نگہبان وطن کی سالمیت، اتحاد اور دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری حکمتِ عملی اصولی، متوازن اور شفاف مکالمے پر مبنی ہے،تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے سفارتی ذرائع اور سیاسی حل کو اولین ترجیح دی جائے، جبکہ کسی بھی انٹیلی جنس یا سکیورٹی آپریشن کو آخرِ کار کے طور پر اور مکمل قانونی نگرانی و احتساب کے دائرے میں ہی انجام دیا جائے۔ ہم احتساب، شمولیت اور انسانی حقوق کے احترام کو اپنی ہر پالیسی اور اقدام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
اسی جذبے کے تحت تحریکِ انصاف نے جولائی 2025 میں آل پارٹیز کانفرنس پی کے ہاؤس پشاور میں منعقد کروائی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، اور 21 ستمبر 2025 کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے اسلام آباد میں متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ ضرورت کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹنگ کارروائیاں کی جائیں گی۔ نیشنل ایکشن پلان کے موثر نفاذ اور صوبائی پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا میں عملی اقدامات کیے گئے — جدید اسلحہ، بم پروف جیکٹس، بکتر بند گاڑیاں اور مواصلاتی آلات فراہم کیے گئے، جن پر تقریباَ 40 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ہماری حکمتِ عملی یہ رہی کہ سرحدی امور وفاق اور متعلقہ ادارے سنبھالیں جبکہ اندرونی سیکیورٹی پولیس فورس کی ذمہ داری ہو۔ باجوڑ، تیراہ اور دیگر حساس علاقوں میں مقامی عمائدین کے ذریعے جرگے اور امن مذاکرات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ تحریکِ انصاف اداروں کے احترام اور قومی یکجہتی کی حامی ہے۔ پاکستان کے امن، استحکام اور اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ سب ایک صف میں کھڑے ہوں، شفافیت کو فروغ دیا جائے، حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا جائے۔
منجاب:پاکستان تحریک انصاف پاکستان
“In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure.
Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. The nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how?” -
Message from illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan (October 9, 2025)
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
عمران خان نے بڑی حقیقت سامنے رکھ دی
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔
سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔
میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔
2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟
کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔
سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” -
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
🧵Part 1/2
“علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔”
- عمران خان | 2 اگست 2025
“خیبر پختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے۔ ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔”
- عمران خان | 6 اگست 2025
“میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔”
- عمران خان | 26 اگست 2025
“خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ علی امین گنڈا پور سمیت صوبائی حکومت کو اس معاملے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ پہلے ہی وہ علاقے سیلاب کی تباہی جھیل رہے ہیں ان حالات میں آپریشن یا ڈرون حملے اور اپنے علاقوں سے بے دخلی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔”
- عمران خان | 2 ستمبر 2025
“خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔”
- عمران خان | 5 ستمبر 2025
“خیبر پختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشن، ڈرون حملوں اور علاقوں سے بے دخلی کروانے کا عمل دراصل تحریک انصاف کی عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کو اس آپریشن کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب سے تباہ حال ہے۔ اگر وہاں ڈرون حملے اور آپریشن نہ رکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ ہمارے کتنے پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن جب تک بند نہیں ہو گا، لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور دہشتگردی مزید بڑھے گی۔”
- عمران خان | 8 ستمبر 2025
“علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔”
- عمران خان | 9 ستمبر 2025
#ملٹری_آپریشن_بند_کرو
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
جب عمران ریاض کو اغوا کر کے اس قدر جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ واپس آیا تو ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا اور زبان لڑکھڑاتی تھی تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب معید پیرزادہ، صابر شاکر، زبیر علی خان سمیت درجنوں صحافی ملک چھوڑنے پہ مجبور ہوئے تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب بزرگ صحافی ایاز میر کے کپڑے پھاڑے گئے تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب بزرگ صحافی اوریا مقبول جان کو اغواء کیا گیا تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب جمیل فاروقی کو اٹھایا گیا اور ننگا کر کے تشدد کیا گیا تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب حق کی آواز اٹھانے والے ہر صحافی کو غداری اور دہشتگردی مقدمات میں جھونکا گیا تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب اپنی مرضی سے بولنے والے ہر صحافی کو نوکری سے جبری برخاست کروایا گیا تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
جب آزادی اظہار رائے پہ یوں قدغن لگی کہ ملک کی 90 فیصد عوام کے محبوب لیڈر کا نام اور تصویر بھی میڈیا پر دکھانے پہ پابندی لگ گئی تب صحافت خطرے میں نہیں تھی۔
اور کئی نام ہیں ،جو متاثر ہوۓ .
پاکستان کسی سرکاری تنخواہ دار کی جاگیر نہیں ہے کہ وہ غداریوں اور ملک دشمنیوں کے سرٹیفکیٹس بانٹتا پھرے۔ ہم 25 کروڑ اسکے مالک ہیں۔ اور ہمارا مالک ہمارا رب ہے۔
بل بہت اچھا اور ضروری ہے تو خیبر پختونخواہ حکومت عوام کو اعتماد میں لینے کی بجائے اس بل پر خان کو اعتماد میں لے کر علیمہ خان سے اعلان کروا دے عوام خود مطمئن ہو جائے گی۔