پہلی خبر
5 کروڑ 77 لاکھ پاکستانی روزانہ 3 ڈالر بھی نہیں کما پاتے
دوسری خبر
اسلام آباد میں افسروں کا سوئمنگ پول گرم رکھنے کے لیے الیکٹرک واٹر بوائلر کا ٹینڈر جاری
ضرور دیکھیں!!
جب خان نے 2000 میں قذافی اسٹیڈیم میں “اسپورٹس مین آف دی ملینیم” کا ایوارڈ وصول کیا۔ بس ان کی مختصر تقریر سنیں (یہ 21 سال پہلے کی ہے) — ان کا ہمیشہ قوم کے لیے امید اور استقامت کا پیغام رہا ہے۔ ان کا عزم ناقابلِ یقین ہے۔
کتنا گریٹ انسان ہے کپتان۔
عمران خان کے ساڑھے تین سال حکومت میں 2200 کلومیٹر جب کہ نواز شریف نے صرف 900 کلومیٹر سڑکیں بنائی۔
عمران خان حکومت میں سڑکیں کم قیمت اور موٹروے پہلی بار بغیر قرضوں کے بن رہے تھے۔
سنئیں مراد سعید سے ثبوتوں کے ساتھ 🔥
او میرے خدایا !
کن ظالموں سے ان غریبوں کا پالا پڑگیا ہے
لیاقت پور خان بیلہ میں پیرا فورس کے اہلکار ایک غریب دوکاندار کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
ان حرام خوروں کو ہر جگہ پہنچاؤ اور انکا اصلی چہرہ قوم کو دکھاؤ
اگر لڑکیوں کا یہ سکول پشاور میں یوتا تو ابھی تک پٹواری اور لفافے زمین آسمان ایک کر دیتے
لیکن یہ پنجاب گجرات کی ویڈیو ہے اسی لئے یہ ابھی تک سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوئی
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
پشاور میں یہ منصوبہ سنا ہے تین مہینے میں مکمل کیا گیا ہے مگر حیرت ہے نہ یہاں عمران خان کی تصویر لگائی گئی ہے اور نہ ہی سہیل آفریدی کی۔ اور تو اور نہ اس سلسلے میں کوئی اشتہارات چلائے گئے ہیں اور نہ ہی ٹک ٹاک
پنجاب حکومت کا پرانا جہاز جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ محفوظ نہیں ہے وہ طیارہ 55 سے زیادہ فلائٹس کر چکا ہے اگر طیارہ محفوظ نہیں تو 55 سے زیادہ فلائٹس کیسے کی گئیں اور کون اسے استعمال کر رہا ہے ! محمد مالک ۔۔۔
آسٹریلوی عظیم فاسٹ باؤلر McGrath
عمران خان جیسا کھلاڑی ان جیسا انسان دنیا میں شاید ہی کوئی ہوگا۔ انہوں نے جو خدمات سر انجام دئیے ہیں اسلی مثال ملنا مشکل ہے۔ وہ آج کل مشکل میں ہیں ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ کرکٹرز انکے لیے آواز اٹھا رہے ہیں ۔
🔥 اینکر: حامد رضاسنی اتحاد کےتھے ان کا9 مئی سے کیا لینا دینا ان کو کس چکر میں 10 سال کی سزا ہوئی💪🏻
وزیر مملکت: انہوں نے PTI جوائن کرلی تھی
پٹوارن کے منہ سے سچ نکل گیا🫡
عمران خان کو جیل میں ’’آہستہ آہستہ مارا‘‘ جا رہا ہے!
سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف عاصم منیر پر اپنے والد کے خلاف ’’ذاتی انتقام‘‘ کی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں ’’آہستہ آہستہ مارا‘‘ جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کو لندن سے انٹرویو دیتے ہوئے 27 سالہ قاسم خان اور 29 سالہ سلیمان خان نے کہا کہ وہ اپنے والد کی صحت کے حوالے سے انتہائی فکرمند ہیں اور جیل میں عمران خان کو جن حالات میں رکھا گیا ہے وہ ’’ذہنی اور جسمانی تشدد کی ایک شکل‘‘ ہیں۔
سلیمان خان نے کہا کہ ان کے والد ایک چھوٹے سے 6 بائی 8 فٹ کے سیل میں انسانی رابطے کے بغیر قید ہیں، انہیں کئی ماہ سے نئی کتابیں نہیں دی گئیں اور نہ ہی انہیں اپنے خاندان سے ملاقات یا بات کرنے کی اجازت دی گئی ہے، عمران خان کو کسی غیر جانب دار ڈاکٹر سے بھی معائنہ کرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سلیمان خان نے کہا کہ ان کے والد کی آنکھ کی ایک بیماری کو کئی ماہ تک نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں غالباً ان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہوچکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو بتایا گیا ہے کہ 73 سالہ عمران خان میں ہائی بلڈ پریشر کی بھی تشخیص ہوئی ہے۔
قاسم خان نے کہا کہ سب سے بڑھ کر ان کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے والد سے بات کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ یقین کرسکیں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں وہاں آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کے ساتھ مبینہ سخت رویے کو آرمی چیف عاصم منیر کی ’’ذاتی دشمنی‘‘ سے جوڑا، سلیمان خان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ سخت سلوک ذاتی رنجش کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور عمران خان کے ساتھ سخت رویے کے احکامات عاصم منیر کی جانب سے دیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور دونوں کے درمیان اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے، 2022 میں عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد عمران خان کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
قاسم خان نے بھی کہا کہ ’’اصل ذاتی انتقام آرمی چیف عاصم منیر کی جانب سے ہے‘‘ اور انہیں خدشہ ہے کہ جیسے ہی عمران خان کے معاملے پر بین الاقوامی دباؤ کم ہوگا، ان کے والد پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
عمران خان کے بیٹوں نے بتایا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں تاہم انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے تاحال جاری نہیں کیے گئے، انہوں نے ویزوں کے لیے نو ماہ سے زائد عرصہ قبل درخواستیں دی تھیں۔
دونوں بھائیوں نے واضح کیا کہ ان کا پاکستان کی سیاست میں آنے یا اپنے والد کی عدم موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کا کوئی ارادہ نہیں، سلیمان خان نے کہا کہ وہ طویل مدت میں پاکستان کی سیاست میں شامل نہیں ہونا چاہتے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستانی سیاست کا ایک بڑا مسئلہ موروثی سیاست ہے اور گزشتہ 40 برس سے اقتدار دو خاندانوں کے درمیان گردش کرتا رہا ہے، جو سیاسی نظام کی خرابی کی علامت ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw