ملک صاحب نے ساجے مراثی کو بیمار گائے یہ کہہ کر دے دی کہ اگر ٹھیک ہو جائے تو تمہاری،۔
اس بیچارے نے رات دن ایک کیا اور گائے ٹھیک ہو گئی
گائے صحتمند ہوئی تو بول پڑی
پہلی دفعہ لگوانے کے ہفتے بعد پھر بول پڑی، دوجی واری ہفتے بعد پھر بول پڑی
جب کامے نے تیسری دفعہ گائے لگوائی تو راستے میں ملک صاحب مل گئے، دیکھ کر کہنے لگے کامے گائے تو اچھی مل گئی ہے تمہیں،۔۔
ساجا کہنے لگا، گائیں تو آپ کے پاس ہیں ملک صاحب
سانوں تے کوئی گشتی دے سڑی جے
🤣🤣🤣🤣🤣
رنڈی والا باغ
جوش صاحب پل بنگش کے جس محلہ میں آکر رہے اس کا نام تقسیمِ وطن کے بعد سے ”نیا محلہ“ پڑ گیا تھا۔
وہاں سکونت اختیار کرنے کے بعد جوش صاحب کو معلوم ہوا کہ پہلے اس کا نام ”رنڈی والا باغ“ تھا۔
، بڑی اداسی سے کہنے لگے
”کیا بدمذاق لوگ ہیں! کتنا اچھا نام بدل کر رکھ دیا۔“