@ArifRetd پردہ رکھنا صرف کپڑے کا نہیں، زبان اور دل کا بھی فرض ہے۔ بلاوجہ کسی کی کمزوری اچھالنا خود اپنی کمزوری کی نشانی ہے۔ رب العالمین نے ہمارے اتنے عیب چھپائے ہوئے ہیں کہ اگر ایک لمحے کے لیے سب کھل جائیں تو سر جھکانے کی جگہ بھی نہ ملے۔ اسی لیے دوسروں کے عیب چھپانا بھی عبادت ہے۔
@Badass1ZQ1 شادی کے بعد انسان اچانک بدلا نہیں کرتا۔ زہریلے رویے کو تقدیر اور صبر کا نام دے کر خاتون کی ذہنی صحت تباہ کرنا ظلم ہے، حل نہیں۔ شادی کرنے سے پہلے ہی کردار دیکھنا چاہیے، بعد میں “ٹھیک ہو جائے گا” والا خیال اکثر سب سے بڑا دھوکا ثابت ہوتا ہے۔
مینوپاز کے بعد جنسی خواہش ختم نہیں ہوتی، یہ بات درست ہے۔ ہارمونز کی کمی سے خشکی، درد یا ڈیزائر میں کمی ہو سکتی ہے مگر بہت سی خواتین بعد میں بھی جنسی زندگی جاری رکھتی ہیں اور کچھ تو پہلے سے زیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں نوجوان لڑکیوں کی جنسیات کو بھی قبول نہیں کیا جاتا، اس لیے بالغ خواتین کی بات کرنا تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سوچ غیر فطری ہے کیونکہ جنسی خواہش عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، صرف اس کا اظہار بدل جاتا ہے۔
زندگی میں سب سے مشکل کام یہ نہیں کہ آگے بڑھو،
سب سے مشکل یہ ہے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھو
اور پھر بھی دل کو قائل رکھو کہ جو گزر گیا وہ ضائع نہیں ہوا۔
صبح بخیر