ثمینہ باجی آپ جیساں فیض کی فیض سے فیض پانے والیاں فوجی وردی پہن کر فوجی گملوں میں پل بڑھ کر ٹی وی سیکرنوں تک پہنچنے والیاں اب ہمیں بھاشن دینگی ؟ آپ سے زیادہ تو کوئی حرام خور ہو بھی نہیں سکتی جنکا کھایا انھیں پر بھونک بھی رہی ہیں ؟ آپکی جیسی سفارشی لونڈیا بتایں گی ؟ بکاؤ مال بتائے گا ؟ میں تو خود آپ جیسوں کو اپنی جوتی کے برابر نہیں سمجھتی لیکن کیونکہ آپ خاص لوگوں کی خاص ہیں تو آپکے پاس یہ پک اینڈ چوز کرنے کا آپشن موجود ہے بنا جاب کہ بنا ٹی وی چینل کے آپ ابھی بھی خاص لوگوں کی مہمان ہوتی ہیں آپکو خاص طور پر ڈنر پر مدعو کیا جاتا ہے اور آپ جس مہنگائی کی بات کرتی ہیں وہاں آپ مہنگائی کے زمانے میں نئی گاڑی بھی لے لیتی ہیں
میں ہمشہ کوشش کی ایک سے زیادہ آپکو آئینہ نا دکھاؤں لیکن لگتا ہے آپ اپنی اوقات سے زیادہ ہی باہر ہو رہی ہیں تو سوچا بتا دوں دو چار مردوں کے سامنے مسکرا مسکرا کر ادائیں دکھا کر میں ٹی وی شو پر نہیں بیٹھی ہوں میں محنت اور اپنی قابلیت پر بلائی جاتی ہوں اسکے باوجود کبھی نخرے نہیں دکھائے کبھی کسی کو نہیں پوچھا کون پینل میں ہے کون نہیں اگر آپکو اپنے چھوٹے سے قد کے مطابق پینل پر بیٹھنے کا اتنا ہی شوق ہے اپنے نئے فیض سے بولیں اب انقلابی پن کا ڈرامہ ختم کروایں اور آپکو کوئی پروگرام ہی لے دیں اور یہ جس جوریہ کو آپ بتا رہی ہیں اسکے غیر مردوں کو بھیجے گئے سیکسی ویوز نوٹ میں مرحوم ارشد کے زندہ ہوتے ہوئے ہی سن چکی ہوں لہذا جتنی آپ سب ستی ساوتیریاں ہیں نا میں سب جانتی ہوں جو تھوڑی بہت آپ نے جھوٹی عزت بنا رکھی ہے اسے بچا کے رکھیں بڑھاپا اچھا گزرے گا
شکریہ
نواز اور شہباز کا فرق
ہمیں نواز شریف سے کوئی شکایت نہی نا ان پر تنقید کرتے جب وہ پرفارمنس کی بات کرتے تو درست کرتے ہیں
پاکستان ایک آسان ملک نہی ہے 2013میں جب وہ آئے اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ روز دھماکہ امن خراب پیٹرول کی قیمت 102روپے لیٹر تین سال فوج سے لڑائی دھرنے مخالف میڈیا مگر جس دن عدالت کے ذریعے نکالا پیٹرول 62 روپے لیٹر تھا عام آدمی کی زندگی پر نواز شریف نے بوجھ نہی ڈالا بہتری لائی تھی
شہباز شریف کو تو عمران والا ایک پیج ملا فوج اتنا تعاون کر رہی کہ تاریخ میں کبھی دیکھا نہی مگر چار سال میں عام آدمی کی زندگی عذاب کر دی پیٹرول دوگنا سے مہنگا بجلی کے بل بھیانک خواب بن گے تو اب شہباز کی حکومت اس کی پرفارمنس کی بات ہو گی اس پر ووٹ مانگنا پڑے گا
اے میرے مالک 15, 20 گاڑیوں کے پروٹوکول کیساتھ اور 10کروڑ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر گورنر پنجاب کی طرح پیاز (وسل ) کے ساتھ روٹی کھانے کی سادگی ہر پاکستانی کو نصیب فرما۔
بات سے بات نکلتی ہے، ظاہر جعفر کی پھانسی برقرار رہنے سے یاد آیا وہ ایاز امیر صاحب کے بیٹے نے بھی تو اپنی بیوی سے بھاری رقم چھین کر اس کو ڈمبل مار کے قتل کیا تھا، اس کا مقدمہ کس سطح تک پہنچا ہے؟
اینویں ای یادآ گیا
صرف بجلی کے بلوں سے پاکستانیوں کی جیب سے 700ارب کا ٹیکس بھی اکھٹا کیا جاتا ہے پھر وزیر منہ پکا کر کے کہتے پاکستانی ٹیکس نہی دیتے ہیں یہ کپیسٹی پیمنٹ کی رقم کے علاوہ ہے
کوئٹہ ہوٹل خوفناک شکلوں والے افغانی چلا رہے
کوئٹہ ہوٹل منشیات فروشی کے خفیہ اڈے ہیں پنجاب میں
نہ کوئی پنجابی ان ہوٹل پر کام کرتا نہ پنجابیوں سے آٹا ،دودھ ،مسالے خریدے جاتے
پوری پنجابی قوم کو مل کر کوئٹہ ہوٹل بند کروانے چاہیے
بائیکاٹ کوئٹہ ہوٹل
پرائیویٹ کالونیوں کے مالک بدمعاشوں والا کام کرتے ہیں ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا بجلی کے میٹر اور بجلی کے یونٹ کا ریٹ اپنی مرضی کا لیتے ہیں اگر کوئی آواز اُٹھائے تو کہتے عدالت جاؤ جہاں مرضی جاؤ ہمارا کچھ نہیں کر سکتے
اس بندے نے کسی ناانصافی پر احتجاج کیا تو اسکے گھر کا پانی بند کر دیا ان یزیدیت کی سوچ والوں کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ھو سکتی ؟
لوگ سوچ رہے واپڈا کا کنیکشن کاٹ دیں مگر جو حالات چل رہے انہوں نے اس بات پر بل بھیج دینا کہ واپڈا کے تار آپ کے گھر سے آگے سے گزر رہے اس کا بل ہے
سیٹھ کے آگے قوم گروی رکھ دی ہے ہر صورت تاوان دینا ہو گا
چونکہ بند بجلی گھروں کا خرچہ بھی حکومت نے دینا ہے اس لیے شہباز شریف حکومت کا اعلان ہے
بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو پورا دینا ہو گا اب بات استعمال شدہ یونٹ کی نہی رہ گئ ہے
حکومت کے اپنے ادارے بتا رہے کہ پاکستان میں مہنگائی ریکارڈر سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ نون کے وزیر روزانہ منہ پکا کر کے کہہ رہے کہ حکومت نے مہنگائی کم کر دی ہے
جانے کونسی دنیا میں یہ وزیر بستے ہیں جو حقائق سے اتنے کٹ چکے ہیں
حکومت کرپشن ختم کرنے کی لاکھ کوشش کرے جب تک بندے میں اللہ کا خوف دل میں پیدا نہیں ہوتا یہ لعنت نہیں ختم ہونے والی، جس کو اللہ کا ڈر نہیں وہ حکومت کو کیا سمجھتا ہے،
2022 میں آفس کا 3 فیز میٹر جل گیا، جون جولائی کی سخت گرمی میں لیسکو دفتر سے کہا گیا کہ میٹر اسٹاک ختم ہے، مہینہ لگ جائے گا، 30ہزار دئیے دو گھنٹے میں میٹر لگ گیا،
رشوت کا زہر ہماری قوم کی رگوں میں پھیل چکا ہے، اب کسی کا ریٹ کم ہے اور کسی کا زیادہ،
مسٹر پتلو کی اس وڈیو نے اتنی تکلیف دی ھے کہ پاکستان سے یورپ اور یورپ سے امریکہ تک مرچیں لگی ہوئی ہیں۔ خود کو بڑے طرم خان صحافی سمجھنے والے مسٹر پتلو کو گالیاں بک رھے اور یوتھیے تو آوارہ کتوں کی طرح پتلو پر بھونک رھے ہیں۔ لیکن یہ بندہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا👇
ریٹائرڈ جج کو دوہزار یونٹ بجلی مفت ملتے ہیں وزیر بجلی اویس لغاری نے ان پر اعتراض نہی کیا اور پریس کانفرنس میں آٹھ دس لاکھ لگا کر سولر پینل لگانے والے پر غصہ نکالتے رہے
اس کا تمغہ واقعی میرٹ پر ہے
ملیے ان ملائی کھانے والے شہزادوں سے جو ڈیڑھ کروڑ تک تنخواہ لیتے ہیں اور ان کی کارکردگی یہ ہے کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان سب کے پاس واحد حل یہ کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا دو پیٹرول پر لیوی بڑھا دو اس کے علاوہ انہوں نے کبھی اس ملک کی معیشت کو فائدہ نہی دیا ہے
جسٹس ر منصور علی شاہ صاحب پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے والے مباحثوں/فورمز میں شرکت کیوں کر رہے ہیں؟
اب چھ جون کو ایسا ہی کچھ منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی نشاندہی برطانیہ میں مقیم صحافی کر رہے۔۔
لاہور سے اسلام آباد کا فاصلہ مستقبل میں 100 کلومیٹر کم ہونے جا رہا ہے۔
لاہور سے سمبڑیال موٹروے پر ٹریفک رواں دواں ہے جبکہ سمبڑیال سے کھاریاں موٹروے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور وزارت مواصلات کے مطابق کھاریاں سے راولپنڈی موٹروے پر بھی اسی سال کام شروع ہونے جا رہا ہے۔
اس نئے مشرقی کوریڈور سے سفر تیز، مختصر بن جائے گا اور فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا جبکہ لاہور سے اسلام آباد موٹروے اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔
بجلی کے بل نا قابل برداشت تھے آپ نے الٹا ان پر فکسڈ ٹیکس کے نام پر ہزاروں روپے اور ڈال دیے غریب سے غریب صارف سے نو سو روپے لے رہے اس کے بعد آپ یہ امید رکھتے کہ عوام آپ کی تعریفیں کرے کہ صاحب کیا شاندار حکومت ہے ؟
راتب خوروں نے ضمیر بیچے ہیں قوم نے نہی
فکسڈ چارج ابھی اور بڑھیں گے جب یہ شروع ہوئے تو چھ سو یونٹ سے اوپر والوں کے لیے 680کا اعلان ہوا اب تو یہ بے غیرتی سے اصل بل سے زیادہ ٹیکس اور فکسڈ چارج ڈال رہے ہیں
اس حکومت نے چار سال میں پاکستان کے ایک کروڑ لوگوں کو سطح غربت سے نیچے دھکیل دیا لوگوں کے اثاثے بل دیتے بک گے لوگوں کی بچت لوٹ کر کھا گے ہیں
مجھے لگتا ہے بجلی کے بلوں پر دوبارہ ٹرینڈ کرنا شروع کیا جائے یا پھر ابھی عوام کی مزید چیکوں کا ویٹ کیا جائے ؟
پچھلی بار تو کامیاب ٹرینڈ کے بعد اچانک سب نے راتب خوروں کی بات مان لی کہ شاید ہم دو سو یونٹ والوں کی بجلی مہنگی کروا دیں گے
بجلی کے بلوں کے مسلہ پر ہی میری فیملی پیکچرز کو وزیروں کے کہنے پر سرکاری سوشل میڈیا ٹیم نے وائرل کیا تھا