Copied
﷽
یا اللہ! ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا جیسے اب تو نے ہم سب کی عزتیں رکھی ہیں ویسے ہی روز محشر میں بھی بھرم رکھنا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تیری رحمت تیرے غضب پر غالب ہے آمین یارب العالمین.🤲🏼
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ💞
درمیان کا ہے۔
زمین ہماری ملکیت نہیں، امانت ہے۔ مگر ہم نے اس امانت میں خیانت کی — درخت کاٹے، سڑکیں چوڑی کیں، فضا کو دھویں سے بھر دیا — اور پھر اللہ سے بارش مانگتے رہے۔
ایک درخت صرف لکڑی یا سایہ نہیں — وہ آکسیجن کا کارخانہ ہے، بارش کا بلاوا ہے، گرمی کی ڈھال ہے۔ مگر ہماری
2k
ریاست نے ہمیشہ درخت کو “رکاوٹ” سمجھا — کبھی سڑک چوڑی کرنے کے نام پر، کبھی تجاوزات ہٹانے کے نام پر۔
بلین ٹری ہو یا گرین پاکستان — اعلانات بہت ہوئے، افتتاح ہوئے، تصویریں کھنچیں - مگر پودے سوکھ گئے کیونکہ دیکھ بھال کوئی نہیں کرتا۔ جب تک شہری منصوبہ بندی میں درخت کو لازم نہیں کیا
3
میں ماحولیاتی شعور — یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں تباہی سے بچا سکتا ہے۔
جو قوم اپنے درخت نہیں بچا سکتی — وہ اپنا مستقبل بھی نہیں بچا سکتی۔
*زمین کو اگلی نسل کے لیے چھوڑنا ہے — ویران نہیں، آباد۔*
جاتا، کاٹنے والے کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا — یہ سب نعرے ہی رہیں گے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو مسلمان درخت لگائے اور اس سے کوئی انسان یا پرندہ کھائے — وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔”
(بخاری)
درخت لگانا عبادت ہے — مگر ہم نے اسے بھلا دیا۔
ہر گھر میں ایک درخت، ہر گلی میں سایہ، ہر اسکول 4
یہ تصویر ایک آئینہ ہے — جس میں ہمارا اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔
ایک طرف وہ سڑک ہے جہاں درخت نہیں — دھوپ ہے، دھواں ہے، اور تھرمامیٹر 44 ڈگری چیخ رہا ہے۔ دوسری طرف وہی سڑک — بس درختوں کی چھاؤں میں لپٹی ہوئی — اور درجہ حرارت 38 ڈگری۔ صرف 6 ڈگری کا فرق؟ نہیں — یہ فرق زندگی اور موت کے 1
میں ماحولیاتی شعور — یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں تباہی سے بچا سکتا ہے۔
جو قوم اپنے درخت نہیں بچا سکتی — وہ اپنا مستقبل بھی نہیں بچا سکتی۔
*زمین کو اگلی نسل کے لیے چھوڑنا ہے — ویران نہیں، آباد۔*
یہ تصویر ایک آئینہ ہے — جس میں ہمارا اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔
ایک طرف وہ سڑک ہے جہاں درخت نہیں — دھوپ ہے، دھواں ہے، اور تھرمامیٹر 44 ڈگری چیخ رہا ہے۔ دوسری طرف وہی سڑک — بس درختوں کی چھاؤں میں لپٹی ہوئی — اور درجہ حرارت 38 ڈگری۔ صرف 6 ڈگری کا فرق؟ نہیں — یہ فرق زندگی اور موت کے 1
جاتا، کاٹنے والے کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا — یہ سب نعرے ہی رہیں گے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو مسلمان درخت لگائے اور اس سے کوئی انسان یا پرندہ کھائے — وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔”
(بخاری)
درخت لگانا عبادت ہے — مگر ہم نے اسے بھلا دیا۔
ہر گھر میں ایک درخت، ہر گلی میں سایہ، ہر اسکول 4
برکت صرف مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ دل کے سکون، صحت، اچھے تعلقات اور زندگی کی آسانیوں کا نام بھی ہے۔ نماز، شکرگزاری اور سچائی انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ #برکت#اسلام#محبت_مافیا
برکت صرف مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ دل کے سکون، صحت، اچھے تعلقات اور زندگی کی آسانیوں کا نام بھی ہے۔ نماز، شکرگزاری اور سچائی انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ #برکت#اسلام#محبت_مافیا