معمولی سے معمولی حرکات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرتے رہنا انسان کو پاگل پن کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اس لیے کبھی نظر انداز کر دیا کریں، اور کبھی جان بوجھ کر اَن جان بن جایا کریں۔
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نشتہ ۔۔۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کب کیا ہو جائے ایک دن پہلے زندگی بھی تھی اور کروڑوں روپے مالیت کے کاروبار بھی تھے اور اگلے دن نہ زندگی اور نہ وہ کاروبار کہ چلو ورثاء سنبھال لیں گے۔
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دُعائیں قبول کروں گا، بیشک جو لوگ تکبر کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
سورۃ غافر
اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں بھی سوچنے سمجھنے کا بڑا سامان ہے۔ اُن کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے، اُس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دُودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہوتا ہے۔
﴿سورۃ النحل، ۶۶﴾
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ}.
"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔" (البقرہ: 153)
جب زندگی تنگ محسوس ہونے لگے اور راست�� دشوار نظر آئیں، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پکار دل کو یاد دلاتی ہے کہ سفرِ حیات کا اصل سہارا صبر اور+
{وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا}
{اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، ال��ہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادیتا ہے۔}
جب تمہارے سامنے دروازے بند ہو جائیں اور تمہیں لگے کہ اب کوئی راستہ نہیں بچا، تو اس وقت یہ ربانی وعدہ سامنے آتا ہے جو نیکی اور نجات کو آسانی (کشادگی) سے جوڑتا ہے۔+
اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اُس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔
سورۃ الطلاق