سہراب گوٹھ کی سرزمین پر عوام کا تاریخی اجتماع
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن پر بھرپور اعتماد
شریعتِ محمدی ﷺ کے نظام کے لیے عوام کا عزم
قائد سندھ علامہ راشد محمود سومرو کی سہراب گوٹھ ضلع شرقی میں خطاب
پاکستان کلمے کے نعرے پر حاصل کیا گیا
تو پھر لا الٰہ الا اللہ کا نظام کہاں ہے��
78 سالہ تاریخ حکمرانوں سے جواب مانگ رہی ہے
علامہ راشد محمود سومرو کی سہراب گوٹھ میں گفتگو
🚨 دہلی میں خواتین پر سرِعام تشدد، ہراسانی اور غنڈہ گردی کے بڑھتے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بی جے پی حکومت قانون کی عملداری اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
مفکر اسلام مفتی محمودؒ اور پاکستان
ایک تاریخی حقیقت
تحریر: سمیع سواتی
قسط نمبر _01
پاکستان کے قیام کو آج کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ہماری قومی تاریخ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض شخصیات کے بارے میں تاریخی حقائق کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر بارہا پھیلایا گیا کہ وہ پاکستان کے قیام کے مخالف تھے، یا خدانخواستہ پاکستان کے قیام میں شریک ہونا کسی گناہ کے مترادف سمجھتے تھے۔
مگر مفتی محمودؒ کے اپنے بیان کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ تاثر نہ صرف یک طرفہ ہے بلکہ ان کے سیاسی و فکری مؤقف کی مکمل تصویر بھی پیش نہیں کرتا۔
پاکستان سے پ��لے کا اختلاف، پاکستان کے بعد کا فیصلہ
مفتی محمودؒ کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قیامِ پاکستان سے قبل مختلف سیاسی فارمولوں اور آئینی تجاویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی اور اجتماعی حقوق کا تحفظ تھا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:
قیامِ پاکستان سے پہلے کسی سیاسی فارمولے سے اختلاف کو پاکستان دشمنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مفتی محمودؒ کا بنیادی سوال یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کس نظام اور کس سیاسی بندوبست کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی و آئینی بحث تھی، پاکستان سے دشمنی نہیں۔
پھر جب پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوگیا تو مفتی محمودؒ نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے میں کوئی ابہام نہیں رکھا۔
ان کے اپنے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد یہ ایک قطعی فیصلہ تھا اور جمہوری اصول کے تحت فیصلے کو تسلیم کرنا لازم تھا۔ چنانچہ ان کی جم��عت نے اعلان کیا کہ اب پاکستان کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کے استحکام، ترقی، بقا اور نظریے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
یہ ایک ایسی واضح شہادت ہے جس کے بعد یہ کہنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے کہ مفتی محمودؒ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے تھے یا اس کی بقا کے مخالف تھے۔
پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کی تکمیل کے لیے جدوجہد
مفتی محمودؒ کی سیاست کا ایک بنیادی پہلو یہ تھا کہ وہ پاکستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے جہاں اسلامی نظریۂ حیات کو عملی صورت ملنی چاہیے۔
وہ خود بیان کرتے ہیں کہ پاکستان ان کا ملک تھا، کیونکہ وہ اسی خطے میں پیدا ہوئے تھے، اور پاکستان کی بقا و سلامتی اور اسلامی نظریۂ حیات کے لیے جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے طویل عرصے کو اسی مقصد کے لیے جدوجہد سے تعبیر کرتے ہیں اور پاکستان کے لیے اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہیں۔
یہاں سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے:
مفتی محمودؒ کی جدوجہد پاکستان کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی وعدے کو پورا کرنے کے لیے تھی۔
وہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے تو پھر اس میں اسلامی نظامِ حیات، اسلامی معاشی اصول اور اسلامی عدل و انصاف کیوں نافذ نہ ہوں؟
یہ سوال پاکستان سے دشمنی کا نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریاتی تشخص سے وابستگی کا سوال تھا۔
پاکستان کا مطلب صرف سرحد نہیں، ایک نظریہ بھی ہے
مفتی محمودؒ کی گفتگو میں اسلامی معاشی نظام، سود سے پاک بینکاری، معاشرتی عدل، غریبوں کے حقوق، روزگار، ریاست کی ذمہ داری اور اسلامی اخلاقیات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان ایک اسلامی نظریے کے نام پر قائم ہوا ہے تو اس ریاست میں اسلام کے معاشی و معاشرتی اصول بھی نظر آنے چاہئیں۔
اسی لیے ان کی تنقید کو پاکستان مخالف کہنا درست نہیں۔ وہ پاکستان کے وجود کو چیلنج نہیں کر رہے تھے؛ وہ پاکستان کے نظام، سمت اور عملی کردار پر سوال اٹھا رہے تھے۔
یہی فرق آج سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جمعیت علماء اسلام کا مؤقف بھی بالکل واضح تھا
مفتی محمودؒ کے بیان میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ان کی جماعت نے پاکستان کو تسلیم کیا اور اس کی ترقی، بقا، استحکام اور نظریاتی بنیاد کے لیے جدوجہد کا عزم کیا۔
لہٰذا جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے لیے یہ بات باعثِ فخر ہونی چاہیے کہ ان کے اکابر نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نظریاتی تشخص کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
یہی وجہ ہے کہ مفتی محمودؒ کی سیاست کو محض اس بنیاد پر سمجھنا کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کی بعض حکمتِ عملیوں یا سیاسی تجاویز سے اختلاف رکھتے تھے، تاریخی ناانصافی ہوگی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مفتی محمودؒ پاکستان کے حامی تھے یا مخالف۔۔۔ جاری ہے
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
دنیا اس بات کو اچھی طرح نوٹ کر لے,
پاکستان ہمارے بڑوں نے بنایا اور ہم اسے بچائیں گے.
قیامت کی صبح تک پاکستان کا پرچم لہراتا رہے گا.
جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا ہم اپنی جانیں دیں گے.
مولانا امجد خان صاحب
#مولانا_کا_پاکستان#علماء_وطن_کے_معمار#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
"انسانی تاریخ کا ہولناک منظر"
جب غزہ پر جنگ کے دوران، اسرائیلی فوجیوں نے خوراک کے ایک ٹکڑے کے حصول کیلئے بے چینی اور اضطراب کے عالم میں بھاگتے ہوئے ہزاروں بھوکے فلسطینیوں پر فائرنگ کر دی تھی.
دہشتگرد اسرائیل کی یہ نسل کشی کسی صورت فراموش نہیں ہوسکتی.
سسٹم کولیپس کرگیا ہے تو یا تو محسن نقوی اپنی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں یا پھر خود استعفیٰ دیکر میدان میں آئیں ۔۔
لیکن نہیں
,انہوں نے کام بھی اسی تنخواہ پہ کرناہےاورباتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب