قیامت کے علامات میں سے۔
1۔بدزبانی ، بدکلامی،گالی گلوچ۔
2۔ برا پڑوسی ، جس سے پڑوسی تکلیف میں ہو۔
3۔ذلیل ، رذیل ، اور نکمے لوگ غالب اور ہر چیز پر قابض ہونگے۔
لگتا ہے،،لوڈڈ،، اور لوڈر،،دونوں ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں
گنڈاپور آپ کے بدبودار جملوں اور غراٹوں سے مولانا فضل الرحمن صاحب کی آئینی۔، سیاسی قامت اور ہمالیہ جیسی شخصیت کو زائل نہیں کیا جا سکتا۔
عائشہ گلالآئی کے بعد اسٹبلشمنٹ کے پاس آخری کارتوس گنڈا پور رہ گیا تھا اپ اندازہ لگاؤ کہ مولانا کے خلاف انکے پاس ان سے مزید گھٹیا لوگ یہ اور کہاں سے ڈھونڈ لینگے اس سے زیادہ بد کردار لوگ تو پاکستان میں نہیں شاہد باہر انڈیا سے لانہ ہوگا
#نا_اہل_حکمران
یہ ایک ناکام حکومت ہے،کشکول ہی اس حکومت کا امتیازی نشان ہے۔۔پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔
یہ افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی خراب صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں ملکی معیشت کا تمام تر انحصار اندرونی پیداوار کے بجائے صرف بیرونی قرضوں، مالیاتی سہولیات اور غیر ملکی ڈپازٹس پر رہ گیا ہے اور 'کشکول' ہی اس حکومت کا اصل نشان بن چکا ہے۔ عالمی معاشی اصول "There is no free lunch" کے تحت بیرونی مالی معاونت کبھی بھی بغیر کسی قیمت کے نہیں ملتی؛ چنانچہ امریکہ یا کسی بھی دیگر ملک سے مالی امداد لینے کا مطلب اپنی قومی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنا اور ملکی و قومی معاملات میں براہِ راست بیرونی مداخلت کو دعوت دینا ہے۔
یہ حکومت داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں سمیت ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ملک کی آزادی، خود مختاری اور مستقبل شدید خطرے میں پڑ چکے ہیں۔
قصوری میتھی کھانے کی لذت میں اضافہ کرتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کی قصوری تقریر نے پاکستان کو شہدا کے نام پر کھانے والوں کے منہ کا زائقہ خراب کر دیا ہے
#معدنیات_کی_لوٹ#شہداء_صرف_بہانہ
مزے کی بات بتاؤ سب نے مل کر مولانا فضل الرحمن صاحب سے معافی کا مطالبہ کیا مولانا نے مزید گرج کر بتایا کہ ہم کوئی پٹواری نہیں الٹا حکومت نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کیا #مولانا_کے_سنگ
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اسپیکر صاحب پنجاب اسمبلی چلا رہے ہیں۔
لیکن لگتا ہے کہ اسپیکر صاحب نے اسپیکر کی کرسی کو جلسہ عام اور پریس کانفرنس کا اسٹیج سمجھ لیا ہے
مولانا فضل الرحمن کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان(متحدہ مدارس کونسل)آج پتہ چلا کہ ایک،متحدہ مدارس کونسل)بھی ہے،خیر،ان کی لاتعلقی سےہماری جدوجہد پر اتنا اثر پڑا جتنا بارش میں مچھلی کے بھیگنے پر پڑتا ہے۔
پہلا سیاسی معرکہ آج مولانا فضل الرحمان جیت گئے۔
اسلام آباد میں جے یو آئی کے وکلا کنونشن کو روکنے کے لیے پولیس مارکی تک پہنچ گئی، مگر وکلا اور کارکنوں کی بڑی تعداد اور اُن کے پُرجوش ردِعمل کے سامنے پسپا ہونا پڑا۔ اور پولیس واپس ھٹ گئی آج کا پہلا سیاسی راؤنڈ بلاشبہ مولانا کے نام رہا۔کنونشن ھو رھا ھے اور مولانا کا بھی انتظار ھے
گذشتہ رات 18جولائی شام 7:30 بجے ڈان نیوز نے ریکارڈنگ کےلئے پروگرام میں بلایا
اسٹوڈیو پہنچا پھر بتایا گیا کہ ہمیں اوپر سے(یعنی آسمانی مخلوق سے) پیغام آیا کہ حافظ حمداللہ ٹی وی سکرین پر،بینڈ(banned) ہے۔یعنی پابندی لگ گئی ہے
1اگر میرا موقف غلط ہے تو دلیل سے رد کریں آواز بند کرکےنہیں
بس ٹیم میں ایک،،خواجہ سرا،،کی کمی ہے اور مفتی قوی کی۔ یہ دونوں بھی ساتھ ملائیں۔
ٹیم مکمل ہوجائیگی۔ میرا مشورہ ہے کہ ٹیم کا کپتان بھی خواجہ سرا ہونا چاہئیے۔
عوام بتائیں ٹیم کیسی لگ رہی ہے؟؟
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی جرنیل ہیں۔۔۔ نواز شریف ، زرداری اور عمران اس حوالے سے عوام کو سچ بتانے کی بجائے اپنی اپنی جماعت کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ایسے میں اگر کوئی عوامی جلسوں میں ان سیاسی جرنیلوں کے خلاف بول رہا ہے تو اگر آپ اس کی آواز میں آواز ملانا پسند نہیں کرتے تو کم ازکم اس کے خلاف ایسا رویہ نہ اپنائیں جس سے سیاسی جرنیلوں کو فائدہ پہنچے
#مولانا_سے_معافی_مانگو
عائشہ گلالئی،حنا پرویزبٹ، فیاض چوہان ، عون چوہدری، طاہر اشرفی، مفتی طارق مسعود، مفتی عبدالرحیم، مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایک ہی صف میں ایک ہی لکھی ہوئی بیانیہ کے ساتھ کھڑے کئے گئے ہیں۔ جو سب سرکار کی طوطی کی طرح بولتے ہیں۔