سہیل آفریدی کی جانب سے اہم ترین معاملہ عوام کے سامنے اٹھا دیا گیا۔ کہ پولیس کو مہیا کیے جانے والے اہم ترین سیکورٹی آلات جنکی پیمنٹ صوبائی حکومت کر چکی ہے، فوج کے ادارے نے ابھی تک ڈیلیور نہیں کیے۔
منیب منا فوراً سامنے آیا کے ایسا نہیں ہے، جس پر مزمل اسلم نے تصدیق کر دی کہ سہیل آفریدی درست فرما رہے ہیں۔
یہ ویڈیو ڈیرہ اسماعیل خان کی بتائی جارہی ہے ۔۔۔ اس جنگلی جانور ایک منٹ کیلیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہئیے اسے فوری سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے https://t.co/BQcfwHBATo
پی ٹی آئی کے MPA فضل شکور کو آج سیدھی گولیاں مار کر کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے۔ پشاور ہائیکورٹ کے پاس۔ سے اٹھا لیا گیا۔
ایسے لگ رہا ہے کسی دہشت گرد پر حملہ کر رہے ہیں۔ یہ پاگل ہو چکے۔
ان کا بائیکاٹ کریں۔ ایک ہی حل ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ایک پختون امام مسجد کی ملازمت پر بحث ہو رہی ہے کہ ایک صوبے کا رہائشی دوسرے صوبے میں ملازمت اختیار نہیں کر سکتا حالانکہ ان کے پاس وہاں کا ڈومیسائل بھی موجود ہے۔
اگر یہی اصول ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے کئی بڑے اور اہم محکموں میں سربراہان کا تعلق پنجاب سے کیوں ہے؟
مذہبی ملاؤں کی جانب سے ہمیں باور کرایا گیا ہے کہ یہ بلوچ کی قسمت ہے لیکن یہ بلوچ قسمت نہیں بلکہ یہ ریاستی عمل ہے اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ کیسے کرنا چاہتے ہیں:ماہرنگ
#BalochFightForHumanRights#Balochistan
🚨Look at how women activists are being detained in Pakistan. It is heartbreaking to see them arrested simply for raising their voices, with zero accountability.
یونیورسٹی کے اندر گھس کر طلبہ کو اٹھا کر لے جانا آخر کس قانون اور کس آئین کے تحت ہے؟
کیا اس ملک میں اب طالب علم ہونا بھی جرم بن چکا ہے؟
کیسی ریاست ہے جہاں قانون کی کتاب بند اور طاقت کا قانون کھلا ہوا ہے؟
طلبہ کو ڈرانے، اور اٹھانے سے سوال ختم نہیں ہوں گے، بلکہ مزید بلند ہوں
🚨 بھارت میں تلواروں اور چاقوؤں سے مسلح ہندوتوا کے ایک ہجوم نے ایک خاتون اور اس کے بچے پر حملہ کر دیا۔ بچے کی بے بسی سے بھری چیخ و پکار کے باوجود کوئی راہگیر مدد کے لیے آگے نہ آیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے سڑک پر ناکہ لگایا تھا۔ مقامی ڈی سی اور پولیس نے ناکہ ہٹایا، بھارتی فوج کی گاڑی ضبط کی اور ان پر پرچہ کاٹا۔
کیا "آزاد" پاکستان میں ڈی سی اور پولیس ایسا کر سکتے ہیں؟
پتا چلا کہ آزاد پاکستان، مقبوضہ کشمیر سے زیادہ مقبوضہ ہے!
ماہرنگ کی جب میں نے اس کے ابو کی قبر کے پاس کھڑا ایک تصویر دیکھی میں نے ماہرنگ کو کہا اس معاملے میں تم مجھ سے خوش قسمت ہو
اس نے کہا کیوں
میں نے کہا تمھارے پاس باپ کی قبر تو ہے جب تمہارا دل کرتا ہے اس کے پاس تم جا کر روتی تو ہو اپنے دل کا حال تو بتاتی ہو تم کس درد سے گزر رہی ہو
ہمارے پاس یہ بھی نہیں ہے آپ سوچیں ہم کیا مانگ رہے ہیں اس ریاست سے
ہم اس ریاست سے لاشیں مانگ رہے ہیں ہم اس ریاست سے کہتے ہیں آپ نے جن لوگوں کو مارا ہے ان کی گلی سڑی جو لاشیں ہیں باقیات ہیں جو ہڈیاں ہیں آپ ہمیں وہ دے دیں تاکہ ہمیں پتا ہو وہ کس کی لاش ہے اگر ایک نامعلوم لاش ملتی ہے تو اس میں پورا بلوچستان ماتم مناتا ہے ہر گھر میں یہ تکلیف محسوس کی جاتی ہے یہ میرا بیٹا تو نہیں ہے
سمی بلوچ
راولاکوٹ، مرد آھن عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران صاحب کیساتھ حکمرانوں، عوام،میڈیا کے لئے پیغام۔۔۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر فوری عملدرآمد کیاجائے۔
کیا یہ ایک عام معمولی FC اہلکار کروڑ پشتونوں اور کروڑ بلوچوں و دیگر محکوم اقوام کے شہداء سے اتنا مقدس تھا یا ہے جن کے نام پر لاکھوں کروڑوں بلوچوں کے آواز بلند کرنے والی خاتون کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی؟
انصاف کا جنازہ ایک معمولی FC اہلکار کے 1/1
بلوچستان انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ۔ جب حکومت پرامن طریقے سے اپنا حق مانگنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہی ہو تو وہاں کے لوگ بندوق نہ اٹھاۓ تو کیا کریں
🚨نہایت افسوس ناک واقعہ :
گزشتہ روز شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے ایک کشمیری فیملی، جس کی بچی نہایت سنگین حالت میں تھی، علاج کروا کر ڈسچارج ہونے کے بعد واپس کشمیر جا رہی تھی۔ انٹری پوائنٹ پر پنجاب پولیس نے ان کی گاڑی روکی۔ ان کے پاس کچھ سودا سلف بھی تھا، ان ظالموں نے وہ سب کچھ لے لیا، حتیٰ کہ چھ ماہ کی معصوم بچی کا فیڈر بھی، جس کے ہاتھ میں دودھ کا ڈبہ تھا۔ کہا گیا کہ تمہارے بچوں کو دودھ بھی نہیں دیں گے۔ ماں نے رو رو کر فریاد کی کہ بچی پہلے ہی بہت بیمار ہے، ہسپتال سے لائے ہیں، اس کے لیے مشکل ہو جائے گا، مگر ان ظالموں نے ذرا بھی رحم نہ کیا۔ یہ ظلم، یہ نفرت، یہ وحشت، کیا مسلمان فورسز ایسا کر سکتی ہیں؟ یہ یقین مانیں، بھارت کے بڑے بڑے ظالموں نے بھی ایسا نہیں کیا۔ فرعون اور یزید بھی ان سے پیچھے رہ گئے۔ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کس انتہا کی نفرت پھیلائی جا رہی ہے؟ خود فیصلہ کریں۔
#RightsMovementAJK
یہ ایک پشتون ماں کی لاش ہے، جسے اس قدر مسخ کر دیا گیا کہ اب اسے کفن میں لپیٹ کر بھی دنیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔ کل کرم میں ہونے والے ڈرون حملے میں اپنے معصوم بچوں سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ،
اگر غیرت صرف نعروں، تقریروں اور قصوں کا نام ہے تو پھر اس کی حقیقت کیا ہے؟ اصل غیرت تو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، حق کی بات کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے