@soulat_pasha یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
اس رجیم کا نوحہ یہ ہے کہ ہر کسی سے بلیک میل ہو رہی ہے۔PPPP کو چیئرمین سینیٹ،ڈپٹی اسپیکر، صدارت،دو گورنرز،بلوچستان حکومت، GB حکومت،AK حکومت،BISP کےلیے 900 ارب،وزراء پیٹرول اور بجلی کے سیٹھوں کو ڈیفنڈ کر رہی ہیں۔ عوام کے لیے وہی عمران فارمولا: "آرام قبر میں آئے گا۔"
کیا گلزار کا صرف نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ ہی غلط تھا؟ اندازہ لگائیں،نسلہ ٹاور گرانا اس کے لیے اتنا اہم تھا کہ وہ خود اس کی مسماری کی نگرانی کر رہا تھا۔ذاتی عناد میں اپنے پیشہ ورانہ اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر یہ سب کیا گیا۔پھر ایسے لوگوں کو پنشن و مراعات آخر کیوں دی جا رہی ہیں؟
پاکستان میں ایک ہی لیڈر، میاں محمد نواز شریف صاحب، ہیں جو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ خدارا انہیں مکمل اختیارات دیں اور ان مسائل کو حل کرنے کا موقع دیں۔ اپنی انا کو فی الحال ایک طرف رکھیں اور پاکستان کو بچائیں۔
خیال رہے، حکومتی ارسطو نے کیا کھیل کھیلا ہے؛ 199 یونٹ سے اوپر صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر آپ کو تقریباً 5,500 روپے اضافی ادا کرنا پڑیں گے۔ آپ خود اندازہ کریں کہ یہ حکومت کتنی عوام دوست اور غریب نواز ہے۔ میاں محمد نواز شریف صاحب! آپ کی خاموشی قوم کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔
پاکستان میں ایک ہی لیڈر، میاں محمد نواز شریف صاحب ہیں جو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ خدارا انہیں مکمل اختیارات دیں اور ان مسائل کو حل کرنے کا موقع دیں۔ اپنی انا کو فی الحال ایک طرف رکھیں اور پاکستان کو بچائیں۔
ناشکرے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت عوام کے لیے کچھ نہیں سوچتی۔ آئے دن ٹول پلازہ پر 100 روپے کے بقایا واپس کرنے میں لوگوں کا وقت اور ایندھن ضائع ہو رہا تھا۔ حکومت (این ایچ اے) نے ٹول ٹیکس پورا 100 روپے کر کے عوام کو بقایا لینے کی اس جھنجھٹ سے نجات دلا دی۔
@soulat_pasha آپ کے فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ دانشور شریف آدمی نہیں ہوتے؟ ویسے میں بھی آپ کو دانشورانہ خیالات رکھنے والا سمجھتا ہوں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ شریف نہیں ہیں۔
یقین ہو گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف صاحب اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ہمیشہ 300 روپے سے اوپر ہی رکھیں گے، چاہے امن ہو یا جنگ۔ بس اب یہ یقین ہو گیا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی سیاست اور تھی، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سیاست
اس کے بالکل برعکس ہے۔
@MaryamNSharif
@kaikausMir@KeepsamM سر، یہ اب زرداری کمپنی کے پے رول پر آ چکا ہے۔ امداد سومرو اس کا سہولت کار ہے۔ دوپہر کو جو وی لاگ امداد سومرو کرتا ہے، رات کو وہی وی لاگ عمران شفقت کرتے ہیں۔ اب یہ بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی (PPPP) کو متحرک کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
@chtahirfayyaz عمران شفقت اب اُسی کمپنی سے منسلک ہیں جس سے امداد سومرو صاحب وابستہ ہیں، اور وہ زرداری صاحب کے تنخواہ دار صحافی سمجھے جاتے ہیں۔ عمران شفقت بھی اب انہی کے پے رول پر ہیں۔
@RShahzaddk یہ ہیں فرانس کے سابق وزیرِاعظم فرانسوا فِیوں اور ان کی اہلیہ پینیلوپ فِیوں۔ انہیں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے مقدمے میں عدالت سے سزا سنائی گئی، لیکن اس بنیاد پر نہ حکومت کو مفلوج بنایا گیا اور نہ ہی ریاستی نظام کو یرغمال بنایا گیا۔
پھر اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
یہ ہیں فرانس کے سابق وزیرِاعظم فرانسوا فِیوں اور ان کی اہلیہ پینیلوپ فِیوں۔ انہیں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے مقدمے میں عدالت سے سزا سنائی گئی،لیکن اس بنیاد پر نہ حکومت کو مفلوج بنایا گیا اور نہ ہی ریاستی نظام کو یرغمال بنایا گیا۔پھر اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
ہنٹر بائیڈن امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہیں،انکےدورِ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے و ٹیکس سے متعلق مقدمات میں سزا یافتہ قرار پائے۔ تاہم، کسی نے بھی جو بائیڈن پر براہِ راست ذمہ داری عائد نہیں کی، نہ ہی استعفے کا مطالبہ کیا۔
پھر جناب اسحاق ڈار کے خلاف یہ شور کیوں برپا ہے؟
سابق وزیرِاعظم کاکُوئی تناکا کی بیٹی ماکیکو تناکا مختلف سیاسی تنازعات کا حصہ رہیں،تاہم ان کے خلاف ایسا کوئی مجرمانہ مقدمہ سامنے نہیں آیا جس کے باعث حکومت تبدیل ہوئی ہو۔ جاپان کا سیاسی نظام بدستور مستحکم رہا۔پھر وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
جناب اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کرنے والو،آپ جانتے ہیں؟ہنٹر بائیڈن کو اسلحہ رکھنے و ٹیکس سے متعلق وفاقی مقدمات میں سزا سنائی گئی۔تاہم صدر جو بائیڈن ان مقدمات میں کسی مجرمانہ عمل میں ملوث نہیں تھے اور ان کی حکومت اپنی آئینی مدت کے مطابق کام کرتی رہی۔
یہ فیصل ووڈا جیسی تعفن زدہ لاشوں کی ممیوں کو کیوں کر زندہ کیا جاتا ہے؟ وہ کون ہے جس کے اشارے پر ٹیلی ویژن کے دروازے ایک فضول شخص کی بکواسیات کو بیان کروانے کے لیے کھول دیے جاتے ہیں؟ اگر اس نظام کو ایسی ممیوں کو گرانے اور بنانے پر مامور کیا گیا ہے، تو شکست ان کی بھی یقینی ہے۔