د وطن خاوره به هیڅکله ستا د حق او صداقت چیغه هېره نه کړي. خان زیب شهیده! ستا د ژوند هر یو ارمان د دې ځورېدلې خاورې د امن او سوکالۍ لپاره و. نن که څه هم سترګې ستا په نشتون ژاړي، خو ستا ناره به تر ابده پ�� دې غونډیو، غرونو او درو کې ګونګوسي کوي.
#JulyTheMonthOfKhanZeb
اوښکو واړی سترګی او حیران ناست ووم ذهن راسره په دی خبره نه اقراری کیدلو چی دا مننو خاوری لاندی دا پښتونخواه دا امن اواز پروت دی چا چی ټول عمر دا پشتنو دا امن نعره پورته کړی. خو آخر اقراری کیدل وو چی آو هغه توانا غګ دا پشتنو حو رانه ظالمانو چپ کړی.
#JulyTheMonthOfKhanZeb
که ووم ژوندی دا آزادی دا اتن برخه به یم
که چری مړ وومه دا ځیري می تر ګوره راوړی
دا تور پنجاب توذی ګیدړی دومره مستی شولی
راتلی راتلی دا پښتون خواه دا غرو زمری مات کړل.
#JulyTheMonthOfKhanZeb
امن کے لیے جہاں بھی بات ہو، وہاں متاثرہ علاقوں کی نمائندگی ضروری ہے۔ لیکن اگر بااختیار لوگ خود ان اجلاسوں یا مذاکرات میں شریک نہیں ہوتے جہاں امن پر بات ہوتی ہے اور صوبے کا مقدمہ پیش نہیں کرتے، تو پھر یہاں کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
میں اکثر مسلم لیگ کے دوستوں سے کہتا تھا کہ انجام کار تمہاری قیادت پنجابی قوم پرستی کی آڑ ہی میں پناہ لے گی۔ لیکن دربار کی فرمانبرداری میں جو حدوں کو چھو لیا ہے، شاید اب پنجابی قوم پرستی کا سہارا بھی سیاست کو نہ بچا پائے۔
شکر الحمدللہ! سیاست میں رہتے ہوئے نہ کارخانے بنائے، نہ بیرونِ ملک جائیدادیں۔ مجھ پر منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگا اور نہ ہی میں رات دو بجے تنظیم سازی کرتے پکڑا گیا ہوں۔
A public apology or then see you on Monday in senate and yes remember that I have nothing to do with you but your MASTERS. I guess I have to put light on the facts of and after Zia regime till this hybrid regime.
دلال چوھدری ایمل ولی خان اپنے پارٹی کے منتخب ممبران اسمبلی کے ووٹوں سے بلوچستان سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے ہے لیکن یہ بھی بتا دیتے اپکا لیڈر لاہور سے ہار کر بھی جیت گیا انھیں کس نے جتوایا؟
#DalalChaudhary
کیا پاکستان میں ایمل ولی خان اس وقت واحد سیاستدان ہے؟
کیا ایمل ولی خان واحد عوامی نمائندہ ہے؟
کیونکہ جو سوالات عوام سوچتی ہے وہ ایمل ولی خان سینیٹ میں ڈاریکٹ پوچھ لیتے ہیں۔
امید ہے پورا پاکستان ایمل ولی خان کا ساتھ دیگا۔
عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے طلال چوہدری کے بیان کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمل ولی خان کی سینیٹ تقریر نہ ذاتی تھی اور نہ ہی محض جماعتی، بلکہ یہ پاکستان کے عوام، چھوٹے صوبوں اور محروم طبقات کے آئینی حقوق کے لیے ایک جرات مندانہ اور پرخلوص آواز تھی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت نے اس تقریر کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے الزام تراشی اور غداری کے فتوے لگائے۔ یہ رویہ کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ آمرانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی رہنما عوامی حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر ملک دشمنی کے الزامات لگا کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایمل ولی خان نے سینیٹ میں جو سوالات اٹھائے وہ ہر باشعور شخص کے دل کی آواز ہیں: چھوٹے صوبوں کو ان کا آئینی اور مالی حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ این ایف سی ایوارڈ کب ہوگا؟ خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع سے کیوں محروم رکھا گیا؟ غیر آئینی ادارہ SIFC کو کس اختیار سے پارلیمان پر مسلط کیا گیا؟ چیف آف آرمی اسٹاف کس آئینی حیثیت میں بیرونی دورے اور معاہدے کر رہے ہیں؟ کیا واقعی ملک کے معدنی وسائل سوٹ کیسوں میں بھر کر باہر لے جائے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ سوالات نہ غداری ہیں اور نہ ملک دشمنی، بلکہ اصل حب الوطنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ہم آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ہمارا کام آئین کی بالادستی اور ملک کی بقا کی جنگ ہے۔ ہم اپنے صوبے کے حقوق مانگتے ہیں اور یہ سب کچھ آئین کے مطابق ہے۔ فوج کا آئینی کردار صرف اور صرف ملک کا دفاع ہے، نہ کہ بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کرنا۔ اگر عسکری قیادت دفاع کے دائرے سے نکل کر کاروبار، معدنی وسائل کی بندربانٹ اور بیرونی معاہدوں میں مداخلت کرے گی تو یہ آئین شکنی اور جمہوریت کا قتل ہوگا۔ یہ عمل دراصل فیلڈ مارشل ازم کی واپسی ہے، جسے عوامی نیشنل پارٹی ہر قیمت پر مسترد کرتی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ طلال چوہدری جیسے لوگ ہمیں غدار کہنے سے پہلے اپنی حیثیت دیکھیں۔ یہی لوگ کل تک "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگاتے تھے اور آج "بوٹ کو عزت دو" کے ترانے گا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست خفیہ اشاروں اور درباری رویوں پر کھڑی ہے۔ ایسے افراد کو ایمل ولی خان جیسے نظریاتی اور ��وامی رہنما پر انگلی اٹھانے سے پہلے سیاست، آئین اور غیرت کا مطلب سمجھنا چاہیے۔ عوام بخوبی جانتی ہے کہ سیٹیں ووٹ سے نہیں بلکہ اشاروں پر جتوائی جاتی ہیں، اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ یہ اشارے کہاں سے آتے ہیں۔
میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی دھمکی، الزام یا پروپیگنڈے سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ہم نے ہمیشہ آئین، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور عوامی حقوق کی بات کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ ہم پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اصل، آئینی اور اجتماعی مفاد کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں غدار کہا جاتا ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ ایسے القابات ہمیشہ سچ بولنے والوں کے لیے استعمال کیے گئے۔
#ANP | #ANPKhyberPakhtunkhwa | #AimalWaliKhanOurPride
لفظ "دلال" کا مطلب ہے وہ شخص ہے جو دوسروں کے لیے سودے یا تعلقات طے کرے اور بدلے میں فائدہ اٹھائے۔ آج کل طلال جیسے لوگ بھی یہی کردار ادا کر رہے ہیں جو "ووٹ کو عزت دو" کی بجائے طاقتوروں کے مفاد میں جوابات دیتے ہیں۔ اسی لیے "دلال چوہدری" کہلانے میں کوئی قباحت ھے؟
#DalalChaudhary