ایمان مزاری اور ہدیٰ علی کا غیر منصفانہ ٹرائل اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک میں مظلوم طبقے اور خاص طور پر بلوچوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے حق میں آواز بلند کرنا بھاری قیمت مانگتا ہے۔ ریاستی پالیسی یہی نظر آتی ہے کہ بلوچ کے لیے بولنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔۔۔
یہاں سنجیدہ سوال یہ ہے کہ کسی فوجی افسر کو دستور یا قانون کی کس شق کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما سے متعلق رائے دے؟ یا کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کو ملک دشمن قرار دے؟
فوجی ترجمان کی بریفنگ سکیورٹی صورتحال کے علاوہ کسی بھی موضوع پر کیسے ہو سکتی ہے؟
کسی سیاسی جماعت کو قبول یا مسترد کرنے کا واحد اختیار پاکستان کے عوام کے علاوہ کسی بھی دوسرے طاقت کو کیسے ہے؟ اور کیا یہ فوجی تجزیہ خود آئین شکنی کے زمرے میں نہیں آتا؟
آج مجھے اور ہادی کو ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا رہی ہے اس کے باوجود کے ٹرانسفر کی intimation دے دی گئی ہے۔ پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا - پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی- نا ہم نے دیکھی ہے اور نا ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ہمارے لیے یہ سزا اس بات کی recognition ہے کے ہم نے ظلم کے سامنے کلمہ حق بُلند کیا۔ ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائینگے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائینگے۔
ہمیں جیل میں ڈالنے سے آپ کے گندے کرتوت کوئی نہیں بھولے گا - اس ملک کو آپ نے توڑا، آپ نے ڈالروں کے لیے بد امنی اور خون خرابا کیا، بلوچ نسل کشی کی، پشتون نسل کشی کی، غریب عوام کے وسائل پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، الیکشن چوری کیا، پارلیمان اور عدالتوں کو ہائجیک کیا۔ ہمیں جیل بھیجنے سے آپ کے جرائم نہیں مٹ جائینگے۔ اور ہماری آواز آپ دبائینگے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نا رہے کہ کیونکہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہونگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔ لیکن جنہے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں، انہے ہم کیا سمجھائے؟
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ جو ہم کر سکے ہم کرے۔ لیکن یہ زمیداری ہم سب کی ہے۔ اندر جانے سے پہلے آپ سب سے بس ایک ہی ریکویسٹ ہے۔۔۔ یاد رکھے کہ ہماری جنگ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج آپ نہیں لڑینگے، باری باری ذلت والی موت کی تیاری کرے۔ اس ملک میں نا تو کوئی آئین ہے نا قانون نا پارلیمان نا عدالتیں اور نا ہی میڈیا۔
جب تک عوام کی dignity, life اور آزادی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا تب تک آج میں تو کل آپ اندر ہونگے۔ جو ہمیں سزا دے رہے ہے اور جن کی چابی پر دی جا رہی ہے، انہے یاد رکھنا چاہیے:
“آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز، یہ تنہا مِری آواز نہیں
اَن گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اِس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اِس میں
تہہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اِس میں
اِس کی یلغار مِری ذات پہ موقوف نہیں
اِس کی گردش مِرے دن رات پہ موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہّار خدائی کی نمائش کے لیے
مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ! یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انساں کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا”
In solidarity with @ImaanZHazir and @AdvHadiali. They are being targeted for standing with families of victims of enforced disappearances, victims of state oppression and for speaking truth to power. Their voices cannot be silenced.
Thankful to speaker Pakhtunkhwa Assembly @BabarSaleemSwat for inviting @NDM_Official to the Aman Jirga in the Pakhtunkhwa Assembly today. We appreciate every effort that is made for peace in our areas. We will continue with our struggle and demand peace and justice on all forums.
We have been warning against creating and supporting Taliban.The Taliban in Afghanistan & TTP are one and the same. The Pakistani state and many in the mainstream celebrated Kabul's takeover and illegal occupation by the Taliban. These are the consequences of embracing terrorism.
یہ امریکی جنگ جرنیلوں نے اپنے خزانوں میں ڈالر بھرنے کو لڑی، تباہی مگر پختونخواہ کے حصے میں آئی۔لر و بر میں لاکھوں جانیں گئیں،حیات و معیشت اجڑ گئی۔ دونوں سمت طالبان تراش کر افغان شناخت مٹانے کی سازش ہوئی، اور آج وہی پنجابی اشرافیہ الٹااپنے گناہوں کا بوجھ بھی پختونوں پر رکھ رہی ہے۔
Despite tall claims of successful military operations, Taliban are back to terrorize Ex-FATA, Rumours abound of an amnesty for them. With no prosecution, we are looking at another cycle of: terror, operations and IDPs. We will not allow this again. #StatePromotesTalibaninNW
Kill and dump policy continues against Baloch youth. Sher Khan was forcibly disappeared on 12 April 2025. His dead body was thrown in Turbat, bearing torture marks. This is one of a series of extrajudicial executions of Baloch youth by the State of Pakistan.
#StopBalochGenocide
فیصل واوڈا جیسے کرائے کے ترجمان جب کہتے ہیں کہ “یہ بل تو کسی کے باپ کا بھی بس نہیں کہ روک سکے”،
تو سمجھ لو کہ سچ میں خطرہ صرف معدنیات کو نہیں ، غیرت، زمین اور شعور کو بھی ہے.
پختونخوا کے پہاڑ صرف معدنی نہیں، مزاحمت سے بھرے ہوئے ہیں،مگر اپنی زمین کا سودا نہیں ہونے دیتیں....
#PashtunMineralsDeclaration #PashtunLivesMatter #PashtunLivesMatter
#ReleasePTMActivists
Dr. Mahrang Baloch remains incarcerated with the State giving a clear message to those who engage in peaceful resistance: it will not be tolerated. Punishing Dr. Mahrang for consistently choosing to raise her voice instead of raising arms will only push youth towards violence in Balochistan.
#ReleaseBYCLeaders
پی ٹی ایم خیبر کے ذمہ دار حسین احمد کو آج ان کی دکان سے زبردستی اغوا کیا گیا۔ یہ گرفتاری نہیں، اغوا ہے، کیونکہ کوئی ایف آئی آر، کوئی عدالت، کوئی قانون موجود نہیں تھا۔
#ReleaseHussainAhmad