وطن کے حقیقی عاشق کبھی اپنے دفاعی مزاحمت سے دستبردار نہیں ہونگے خواہ ریاست ان پر ہر طرح کی قہر برسائے، جیئند اور شیرباز بلوچ دھرتی ماں کے پاک پوتر ہیں، ریاستی کالی کھوٹڈی سے انکے حوصلے کبھی پشت نہیں ہونگے
#ReleasejiandAndSherbazBaloch
بی ایس اؤ قومی تحریک کی روشن مستقبل ہے اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔۔
ذاکر ،زاہد جیند اور کتنے مزاحمتی کردار آپ اپنے کالی کوٹھڑیوں کی زينت بنا ڈالیں گے
پھر بھی بی ایس اؤ مزاحمت كريگی
#RelaseJiandandSherbazBaloch
جیئند بلوچ جیسے وطن کے دیوانوں کو زندانوں کی نزر کرکے ڈرانا یہ تماری سب سے بڑی خام خیالی ہے ۔۔۔۔جیئند بلوچ آپ کے زندانوں کو فیض بخش چکاہے
#ReleaseJiandAndSherbazBaloch
Jiyand and Sher Baz have been forcibly disappeared by state forces in Quetta, highlighting severe human rights abuses in Balochistan. It's crucial that human rights organizations address these violations and hold the state accountable. Immediate release needed.
بی ایس او کے بہادر رہنماوں نے ہر دور کے اندر وطن کی وفا میں تمارے زندانوں کے اندر بیڑیوں کو زنگ آلودہ کرکے اپنے پخت سیاسی نظریات پہ قائم رہیے ہے
جیئند و شیرباز کو زندانوں کے اندھیروں سے ڈرنا تماری بھول ہے
#ReleasejiandAndSherbazBaloch
نوآبادیاتی انتظامیہ کی تاریخ غداری، بدعنوانی، قتل عام اور کمینہ پن کے ایک غیر معمولی رشتے کی تاریخ ہے ۔“
مارکس
آج جئیند بلوچ جس کی دوسری مرتبہ جبری گمشدگی اور کئی بار جیل کا نظرانہ پیش کرنا اس بات کا واضع ثبوت ہے۔
#releasejiandandsherbazbaloch#FreeBSOLeaders
تو کر ہم پر ظلم و ستم
تو برسا ہم پر زوردار لاٹھیاں
تو چلا ہم پر ہزاروں گولیاں
پر تب بھی تم نہ کر سکوگے ہمیں خاموش
تم نہ کر سکوگے ہمارے تحریکیں سبوتاژ
تم نہ رکھ سکوگے قلمکاروں کو زندانوں میں
ہرگز نہیں!
#ReleaseJiandAndSherbazBaloch
تم اُٹھاہوں سالوں سال اپنے بدنام عقوبت خانوں میں رکھوں مارو پھینکوں ، گولیاں برساوں لاشیں دو ۔۔۔۔۔کیا یہ بھی حق نہیں میں چلائوں اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر مزاحمت کروں
مزاحمت کا حق تم ہم سے نہیں چھین سکھتیں یہ ہماری قومی میراث ہے ۔
#ReleaseJiandAndSherbazBaloch
خاموشی موت ہے، خاموشی جبری گمشدگیوں اور نسل کشی میں اضافے کا سبب ہے، مزاحمت زندگی ہے اور جبری گمشدگیوں و نسل کشی کے خاتمے کیلئے مزاحمت ضروری ہے۔
خاموش نہ رہیں، اپنے حصے کی شمع روشن کریں اور لاپتہ جیئند و شیرباز بلوچ کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
#ReleaseJiandAndSherbazBaloch
جیئند اور شیرباز سمیت اس وقت ہمارے متعدد ساتھی جبری طور پر گمشدہ ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں بلوچستان بھر کی جیلوں میں بند ہیں۔
آج گوادر دھرنے کا گیارہواں دن ہے۔ ہم انصاف کے حصول کے لیے پچھلے گیارہ دنوں سے گوادر میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، لیکن ریاست اس دھرنے کے آئینی و قانونی مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے گوادر سمیت پورے مکران میں کرفیو نافذ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ ۱۱ دنوں سے نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہونے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے زمینی رابطے دوسرے علاقوں سے منقطع کیے گئے ہیں، جس کے سبب یہاں خوراک اور دوائی کی قلت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کرفیو جیسی صورتحال میں ماہی گیر اور مزدور طبقہ شدید متاثر ہیں، جن کے روزگار کے تمام ذرائع بند کیے گئے ہیں۔ گوادر میں لوگوں کی حالت زندگی شدید مشکلات میں ہے، لیکن یہ ریاست اپنی درندگی اور وحشت کو ختم کرنے کو کسی بھی صورت تیار نہیں ہے۔
میں بلوچ عوام سمیت بین الاقوامی دنیا سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور گوادر میں جاری ریاستی مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بلوچستان میں ریاستی جبر اور بربریت کے خلاف آپ جس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں، اٹھائیں۔ اس وقت خاموشی ہماری اجتماعی موت اور ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے گی۔
جیئند اور شیرباز سمیت اس وقت ہمارے متعدد ساتھی جبری طور پر گمشدہ ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں بلوچستان بھر کی جیلوں میں بند ہیں۔
آج گوادر دھرنے کا گیارہواں دن ہے۔ ہم انصاف کے حصول کے لیے پچھلے گیارہ دنوں سے گوادر میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، لیکن ریاست اس دھرنے کے آئینی و قانونی مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے گوادر سمیت پورے مکران میں کرفیو نافذ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ ۱۱ دنوں سے نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہونے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے زمینی رابطے دوسرے علاقوں سے منقطع کیے گئے ہیں، جس کے سبب یہاں خوراک اور دوائی کی قلت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کرفیو جیسی صورتحال میں ماہی گیر اور مزدور طبقہ شدید متاثر ہیں، جن کے روزگار کے تمام ذرائع بند کیے گئے ہیں۔ گوادر میں لوگوں کی حالت زندگی شدید مشکلات میں ہے، لیکن یہ ریاست اپنی درندگی اور وحشت کو ختم کرنے کو کسی بھی صورت تیار نہیں ہے۔
میں بلوچ عوام سمیت بین الاقوامی دنیا سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور گوادر میں جاری ریاستی مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بلوچستان میں ریاستی جبر اور بربریت کے خلاف آپ جس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں، اٹھائیں۔ اس وقت خاموشی ہماری اجتماعی موت اور ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے گی۔
Sherbaz Baloch is a Student political leader and Central Vice
Chairman of the Baloch Students Organization Struggling for Baloch Student's Political Rights and Cader Building Nursery of Baloch
Nation. Sherbaz Baloch Was abducted by the Security
#releasejiandandsherbazbaloch
بلوچستان میں اظہار آزادی پر قدغن لگانا اور پرامن سیاسی کارکنوں کو ٹارچر سیلوں میں بند کرنا اس ریاست کی روایت رہی ہے۔ بلوچستان کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں پرامن احتجاج کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔
#ReleaseJiandAndSherbazBaloch