People around her urge her to stop. “You are old now,” they tell her. “You should rest. Leave it to Allah.” But she responds with quiet conviction: even faith, she says, is meant for those who continue to struggle. #Balochistan https://t.co/Sm2p4waMyd
"It is no secret that many lawyers privately acknowledge what they regard as a serious erosion of the rule of law and judicial independence. Many believe that the judiciary has become increasingly subject to the influence of unelected power centres, often acting through the constitutional façade of an elected parliament. Yet these concerns have rarely translated into sustained institutional resistance. Instead, there appears to be a degree of resignation — and, in some quarters, tacit acceptance — that this is now the prevailing constitutional order. The reality may be widely understood within the profession, but few institutional voices are prepared to challenge it publicly.” Athar Minallah, former judge Supreme Court of Pakistan
https://t.co/lGyeB883ja
Incredible Egyptian goal is disallowed because of a foul far away, then same situation a few minutes later and goal for Argentina not disallowed! No VAR, nothing? FIFA again looks like a corrupt joke, playing favorites for stars.
اے چاند۔۔ ماتمی عید
اے چاند،
سنا ہے تمہارے نکلنے پر
کئی گھروں میں عید اتر آتی ہے،
چوکھٹوں پر خوشیوں نے ڈیرے ڈال لیے ہوتے ہیں،
آج دروازوں پر لوٹ آنے والوں کے سائے ہوں گے،
بازوؤں میں بچھڑوں کی واپسی کی گرمی ہوگی۔
مگر اے چاند،
کیا تم نے وہ در دیکھے ہیں
جہاں تم روشنی بن کر نہیں،
زخم بن کر اترتے ہو؟
جہاں تم آسمان کے ماتھے پر
ایک سفید داغ کی مانند ہو،
جہاں وہ ایک چاند کئی سالوں سے غائب ہے
جسے دیکھ کر سب کی عید ہوتی تھی۔
جہاں وہ چاند دیواروں پر
لٹکی ایک خاموش تصویر بن چکا ہے،
اور وہ دیواریں بھی اسے دیکھ کر رو پڑتی ہیں۔
جس کے جانے کے بعد
وقت وہیں رک گیا ہے،
جہاں گھڑی چلتی ہے
مگر زندگی نہیں۔
جس کے جانے کے بعد
وہ ننھی سی بچی،
جس کے ہاتھوں پر اب مہندی بھی
کبھی رنگ نہیں بدلتی۔
وہ آدھی بیوہ،
جس کے کپڑے کبھی
سفید سے سرخ ہونے کا سفر طے نہ کر سکے۔
وہ ماں،
جس کی نظریں دروازوں پر جم کر پتھر بن چکی ہیں،
جو ہر آہٹ پر ٹوٹنے کو تیار رہتی ہیں۔
وہ باپ،
جو لوگوں میں کھڑا ہو کر بھی
اپنے اندر دفن ہوتا رہتا ہے۔
وہ بہن،
جو سانس تو لیتی ہے
مگر ہر سانس میں ایک آہ ہوتی ہے۔
وہ بھائی،
جو ہر چہرے میں
ایک چہرہ تلاش کرتا ہے۔
اے چاند…
یہ کیسی عید ہے؟
کچھ گھروں میں خوشیاں ہیں،
اور کچھ میں
خاموشی بھی نوحہ بن جاتی ہے۔
یہ شادمانی سب کے لیے کیوں نہیں؟
تم سب کے گھروں پر یکساں کیوں نہیں اترتے؟
اے عید کے چاند،
اگر تم واقعی روشنی ہو،
تو اس قید خانے میں بھی اتر جاؤ،
جہاں ایک شخص
کسی تنگ روشن دان سے
تمہیں دیکھ کر
اپنے دن نہیں،
اپنی زندگیاں گن رہا ہے۔
اے چاند…
تم نہ نکلا کرو ان گھروں میں
جہاں ماتم بسیرا کرتا ہے،
تمہاری روشنی
زخموں کو اور گہرا کر دیتی ہے،
تمہارا نکلنا
یادوں کو خنجر بنا دیتا ہے۔
تم رنج کو اور سیاہ کرتے ہو،
تم غم اور خوشی کے بیچ
ایک بے رحم لکیر کھینچ دیتے ہو۔
اے چاند…
تم ہر سال کیوں لوٹتے ہو؟
اگر لوٹنا ہے
تو ان خوشیوں کو بھی ساتھ لاؤ
جو کہیں راستے میں بچھڑ گئیں۔
اگر لوٹنا ہے
تو ان کو بھی ساتھ لاؤ
جو کہیں اندھیروں میں گم ہو گئے۔
وہ ہنسی لوٹاؤ
جو اس گھر کی دیواروں میں بسی تھی،
وہ آواز لوٹاؤ
جس سے زندگی مکمل ہوتی تھی۔
اگر لوٹنا ہے تو اپنے ساتھ
وہ بیٹی کا ہاتھ لوٹاؤ
جسے پکڑ کر وہ مان سے چلتی تھی،
وہ دلہن سی سجی مسکراہٹ لوٹاؤ
جو سنورنا بھول گئی ہے۔
اور اگر گزرے وقت کے خسارے میں
یہ بھی ممکن نہیں،
تو اپنے ساتھ اس چاند کو بھی لوٹاؤ
جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں،
جسے دیکھنے کے لیے روح تڑپتی ہے،
جسے دیکھ کر میری عید ہوتی ہے۔
Official Statement on the Agreement and Current Political Developments
The Syrian Democratic Council (SDC) views the recent agreement between the Syrian Interim Government and the Syrian Democratic Forces (SDF) as one step within a complex process...
https://t.co/D3LadvYz5v
خواتین کی براہِ راست مسلح جدوجہد میں شمولیت کو محض ایک عسکری پیش رفت کے طور پر دیکھنا ایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔ گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو ماؤں اور بہنوں کے سامنے لاپتہ کرنا، بعد ازاں ان کی لاشیں ملنا اور مردوں خصوصاً قوم پرست جماعتوں کی پرامن سیاسی
https://t.co/phMLx8rQcD
ایمان مزاری اور انکے وکیل شوہر ہادی کو عمر قید سے زیادہ سخت سزا سنائی گئی ،اپنے مخالفین اور ناقدین کو جھوٹے مقدمات کے ذریعے جیلوں میں قید کرنے والے حکمران کبھی چین کی زندگی نہیں گزارتے کیونکہ کسی نہ کسی دکھی ماں کی بددعا ایک دن انہیں بھی جیل پہنچا دیتی ہے۔ https://t.co/v4lkqeQVwu
🚨🚨#BREAKING: Highest vote taker in #Islamabad bar council elections and part of independent group Abdul Rehman Hur Bajwa while condemning sentence to @ImaanZHazir and @AdvHadiali, member Islamabad bar council in a rebellious statement against ruling cabinet of #Islamabad’s bar associations, called them puppets of federal ministers @AzamNazeerTarar and @MohsinnaqviC42.
"This may be the last piece I am able to publish for a very long time. The State has made its intentions clear: imprison me and silence my voice as punishment for my work as a lawyer and human rights activist". https://t.co/LUTCXMYxvs
@ImaanZHazir
BBC stands in complete solidarity with you, and @AdvHadiali in your courageous struggle against human rights abuses. We assure our support for the protection of fundamental rights, rule of law, and dignity of all.
Jadain Dashti
Vice Chairman
Balochistan BarCouncil
یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا تاریخی فریب موجودہ عالمی بحرانوں میں بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ بلوچ قوم اپنے جمہوری حقِ خود ارادیت کی نفی اور عالمی طاقتوں کی منافقت کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ مرکزی ترجمان بی،ایس،او
آج مجھے اور ہادی کو ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا رہی ہے اس کے باوجود کے ٹرانسفر کی intimation دے دی گئی ہے۔ پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا - پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی- نا ہم نے دیکھی ہے اور نا ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ہمارے لیے یہ سزا اس بات کی recognition ہے کے ہم نے ظلم کے سامنے کلمہ حق بُلند کیا۔ ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائینگے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائینگے۔
ہمیں جیل میں ڈالنے سے آپ کے گندے کرتوت کوئی نہیں بھولے گا - اس ملک کو آپ نے توڑا، آپ نے ڈالروں کے لیے بد امنی اور خون خرابا کیا، بلوچ نسل کشی کی، پشتون نسل کشی کی، غریب عوام کے وسائل پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، الیکشن چوری کیا، پارلیمان اور عدالتوں کو ہائجیک کیا۔ ہمیں جیل بھیجنے سے آپ کے جرائم نہیں مٹ جائینگے۔ اور ہماری آواز آپ دبائینگے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نا رہے کہ کیونکہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہونگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔ لیکن جنہے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں، انہے ہم کیا سمجھائے؟
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ جو ہم کر سکے ہم کرے۔ لیکن یہ زمیداری ہم سب کی ہے۔ اندر جانے سے پہلے آپ سب سے بس ایک ہی ریکویسٹ ہے۔۔۔ یاد رکھے کہ ہماری جنگ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج آپ نہیں لڑینگے، باری باری ذلت والی موت کی تیاری کرے۔ اس ملک میں نا تو کوئی آئین ہے نا قانون نا پارلیمان نا عدالتیں اور نا ہی میڈیا۔
جب تک عوام کی dignity, life اور آزادی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا تب تک آج میں تو کل آپ اندر ہونگے۔ جو ہمیں سزا دے رہے ہے اور جن کی چابی پر دی جا رہی ہے، انہے یاد رکھنا چاہیے:
“آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز، یہ تنہا مِری آواز نہیں
اَن گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اِس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اِس میں
تہہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اِس میں
اِس کی یلغار مِری ذات پہ موقوف نہیں
اِس کی گردش مِرے دن رات پہ موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہّار خدائی کی نمائش کے لیے
مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ! یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انساں کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا”
بے ساکھیوں پہ سہی، مگر سردار اخترمینگل ریاست پاکستان اور بلوچ کے درمیان آخری پُل ہیں۔ انہیں بھی کاٹ دیا تو پنجاب کے حکمران یہ بھول جائیں کہ وہ کبھی بلوچ سے بات بھی کر سکیں گے۔
اس وقت ریاست کے اہم ستونوں کو سرفراز بگٹی ٹولہ بُری طرح مِس گائیڈ کررہا ہے، اسکا خمیازہ ضرور بھگتیں گے
ہم پر مسلط ہمارے حاکموں نے فسطائیت کی تمام حدیں عبور کرکے ایک لکیر کھینچی ہے اس لکیر کے اس پار مظلوم و غلام بلوچ ہیں اور دوسری جانب زرخرید پالتو ملازم اور آقا ہیں۔
شلی بلوچ کا تعلق سرزمین کے وارث غلام بلوچوں سے ہے اس لیے اسے بھی فسطائی آقا نے زندان میں ڈال دیا
نوآبادکار بدستور متعدد ہربوں سے نوآبادیاتی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کرتا چلا جارہا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوآبادکار ریاست بلوچ قومی مسائل کے حل کی جانب نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔
#ReleaseGulamAliBaloch#ReleaseAurangzaibBaloch
نوآبادکار بدستور متعدد ہربوں سے نوآبادیاتی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کرتا چلا جارہا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوآبادکار ریاست بلوچ قومی مسائل کے حل کی جانب نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔
#ReleaseGulamAliBaloch#ReleaseAurangzaibBaloch