اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
سُورَةُ يسٓ - 22
جابر بن طارق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو کدو کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے جا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس کا کیا بنے گا۔ فرمایا کہ اس سے سالن میں اضافہ کیا جائے گا۔ شمائل ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 151
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
صاحبِ قرآن ، قیامت کے دن جب آئے گا تو قرآن کہے گا : اے میرے رب ! اس کو قیمتی لباس پہنا ، تو اس کو عزت کا تاج پہنایا جائے گا ، قرآن پھر کہے گا : اے میرے رب ! اس کی عزت میں اضافہ فرما ،
1/2
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: الله کے رسول ﷺ! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر الله پر توکل کروں، یا کھلا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے باندھ دو، پھر توکل کرو."
ترمذی 2517
(صحیح ابن حبان 731)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیاـ۔
(ابوداؤد، ٣٦٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہر (عاقل بالغ) مسلمان پر حق ہے (یعنی ثابت اور لازم ہے یا لائق ہے) کہ ہر ہفتہ میں ایک دن (یعنی جمعہ کو) نہائے اور اپنا سارا بدن دھوئے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 505
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:
ایک آدمی نے عرض کیا: الله کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں، اور صدقات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن وہ اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جہنمی ہے."
مشکوٰۃ 4992
(مسند احمد 9699؛ الادب المفرد 119)
حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اپنے گھر والوں سے ابتداء کرو، اورصدقہ خرچ پورا کرنے کے بعد ہے
(السلسلۃ : 1798)
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
(مسند احمد : 1317)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا؛
’’ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اپنے دل میں بھی جہاد کی نیت نہیں کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ۔“
(سنن ابوداؤد ، ۲۵۰۲)
آپ ﷺغزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علیؓ کومدینہ میں اپنا نائب بنایا۔علیؓ نےعرض کیا کہ آپؐ مجھے بچوں اورعورتوں میں چھوڑےجا رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا، کیاتم اس پرخوش نہیں ہوکہ میرے لیے تم ایسے ہوجیسے موسیٰ کےلیے ہارون تھے۔لیکن فرق یہ ہےکہ میرےبعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔
(بخاری،۴۴۱۶)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔
(مسند احمد : 5711)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے دونوں گواہوں اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے
(جامع ترمذی : 1206)
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں ، اور برائی سے روکتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا ۔
1/2
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے کہا جائے گا: تو جنت کے آٹھ دروازوں میں جس دروازے سے چاہتا ہے، داخل ہو جا۔
(مسند احمد : 52)
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔
(مسند احمد : 5711)