“ہر کسی کے اپنے گناہ ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارے گناہ شراب نوشی، کلب میں جانا یا زنا نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہارا گناہ صرف یہ ہو کہ تم اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہو۔ تکبر اور غرور، بالکل ابلیس کی طرح۔”
دھڑکن تھے ، دعا تھے ، میرے ہونے کا یقین تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دکھ یہ ہے میرا یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑ ے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
یاد ہے پہلے روز کہا تھا
بچھڑ گئے تو موج اڑانا
واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جا کر واپس آئے
تڑپے روئے یا پچھتائے
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں
ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں
میں پتھر کا ہو جاتا ہوں۔۔
خلیل الرحمٰن قمر
میں نے تیرے ہجر میں ایسے اتنے سال گزارے ہیں
اب تو میں بتلا سکتا ہوں دن میں کتنے تارے ہیں
مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا تھا اتنی عجلت میں
اس نے فقط 'میں ہوں ناں 'کہ کر سارے کام سنوارے ہیں
مشتاق احمد
This reel by Abbass Bukharii is the best thing I’ve heard so far on the Pak India Situation.
Every word. Sensible. From the heart. And so true.
Slow clap, Respect and Salute.
وہ جس کا نام "میں" تھا وہ تو مر گیا حضور!
یہ جس کو جسم کہتے ہیں ، یہ مر نہیں رہا
آشفتگی ھے چاک لبادہ ہے خبط ہے
کیا میرے سر کے واسطے پتھر نہیں رہا ؟
یونس تحسین
کمال احمد پروازی
یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے
سفر طویل ہے پانی بچا کے چلنا ہے
بس اس خیال سے گھبرا کے چھٹ گئے سب لوگ
یہ شرط تھی کہ قطاریں بنا کے چلنا ہے
وہ آئے اور زمیں روند کر چلے بھی گئے
ہمیں بھی اپنا خسارہ بھلا کے چلنا ہے
کچھ ایسے فرض بھی ذمے ہیں ذمہ داروں پر
جنہیں ہمارے دلوں کو دکھا کے چلنا ہے
شناسا ذہنوں پہ طعنے اثر نہیں کرتے
تو اجنبی ہے تجھے زہر کھا کے چلنا ہے
وہ دیدہ ور ہو کہ شاعر کہ مسخرہ کوئی
یہاں سبھی کو تماشہ دکھا کے چلنا ہے
وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں
تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے
"شاعر"
جِس آگ سے جَل اُٹّھا ہے جی آج اَچانَک
پہلے بھی مِرے سِینے میں بیدار ہُوئی تھی
جِس کَرَب کی شِدّت سے مِری رُوح ہے بےکَل
پہلے بھی مِرے ذہن سے دوچار ہُوئی تھی
جِس سَوچ سے مَیں آج لَہُو تُھوک رَہا ہُوں
پہلے بھی مِرے حَق میں یہ تَلوار ہُوئی تھی
وہ غَم، غَمِ دُنیا جِسے کہتا ہے زمانہ
وہ غَم! مُجھے جِس غَم سے سَروکار نہیں تھا
وہ دَرد کہ ہر دَور کے اِنسان نے جَھیلا
وہ دَرد مِرے عِشق کا مِعیار نہیں تھا
وہ زَخَم کہ ہر سِینے کا ناسُور بَنا تھا
وہ زَخم مُجھے باعثِ آزار نہیں تھا
دُنیا نے تَڑَپ کر مِرے شانوں کو جھنجھوڑا
لیکِن مِرا اِحساس، غَمِ ذات میں گُم تھا
آتی رَہِیں کانوں میں اَلمناک پُکاریں
لیکِن مِرا دِل اَپنے ہی حالات میں گُم تھا
مَیں وَقت سے بیگانہ، زَمانے سے بہت دُور
جام و مے و مینا و خرابات میں گُم تھا
دَربار کی تَفرِیح کا ساماں تھا مِرا فن
ہاتھوں میں مِرے ظرفِ گَدا، لَب پہ غَزَل تھی
شاہوں کی ہَوا خواہی مِرا ذوقِ سُخن تھا
اِیوانوں کی تَوصِیف و ثَنا اَوجِ عَمَل تھی
اَور اِس کے عِوض لعل و جواہر مُجھے مِلتے
وَرنہ مِرا اِنعام فَقَط تیغِ اَجل تھی
چھیڑے کَبھی مَیں نے لَب و رُخسار کے قِصّے
گاہے گُل و بُلبُل کی حِکایت کو نِکھارا
گاہے کِسی شہزادے کے افسانے سُنائے
گاہے کَیا دُنیائے پرستاں کا نَظارا
مَیں کھویا رہا جنّ و ملائک کے جہاں میں
ہر لَحظہ اگرچہ، مُجھے آدَم نے پُکارا
بَرسوں یُونہی دِل جمعیٔ اَورنگ کی خاطِر
سَو پُھول کِھلائے کَبھی سَو زَخم خَرِیدے
مَیں لِکھتا رَہا، ہجو بغاوَت منشوں کی
مَیں پَڑھتا رَہا، قَصر نشینوں کے قَصِیدے
اُبھرا بھی، اَگر دِل میں کوئی جذبۂ سَرکَش
اِس خوف سے چُپ تھا، کہ کوئی ہونٹ نہ سی دے
لیکِن یہ طِلِسمات بھی تادیر نہ رہ پائے
آخِر! مے و مِینا و دَف و چَنگ بھی ٹُوٹے
یُوں دَست و گرِیباں ہُوئے اِنسان و خُداوَند
نَخچِیر تَو تَڑپے قَفَسِ رَنگ بھی ٹُوٹے
اِس کَشمکَشِ ذَرّہ و اَنجُم کی فَضا میں
کَشکول تَو کَیا اَفسَر و اَورنگ بھی ٹُوٹے
مَیں دیکھ رَہا تھا کہ مِرے یاروں نے بَڑھ کر
قاتِل کو پُکارا ،کَبھی مَقتَل میں صَدا دی
گاہے رَسَن و دار کے آغوش میں جُھولے
گاہے حَرَم و دَیر کی بُنیاد ہِلا دی
جِس آگ سے بَھرپُور تھا ماحول کا سِینہ
وہ آگ مِرے لَوح و قَلم کو بھی پِلا دی
اور آج شَکِستَہ ہُوا ہر طوقِ طَلائی
اَب فَن مِرا دَربار کی جاگِیر نہیں ہے
اَب میرا ہُنَر ہے مِرے جَمہوُر کی دَولت
اَب میرا جُنُوں خائفِ تَعزِیر نہیں ہے
اَب دِل پہ جو گُزرے گی، وہ بےٹوک کَہوُں گا
اَب میرے قَلم میں کوئی زَنجِیر نہیں ہے۔۔۔!
احمد فرازؔ
کیا آپ کی عمر 20 سے 44 سال کے درمیان ہے اور آپ اس وقت بے روزگار ہیں یا کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے؟
🚨 میرے پاس انٹروورٹس کے لیے ریموٹ جابز ہیں (کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں)! 🚨
یہاں جانیں کہ آپ ہر ہفتے USD میں پیسے کیسے کما سکتے ہیں:
میں آپ کو اپنا راز بتانے والا ہوں 👇
فون کے یہ 16خفیہ کوڈ جان لیں اور اپنا موبائل خود ہی ٹھیک کریں آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے مگر بہت کم افراد کو علم ہے کہ چند مخصوص بٹن دبانے سے وہ اپنے موبائل کے چھپے ہوئے فنکشنز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ میں مختلف کوڈز ہوتے ہیں، کچھ تو دونوں میں ایک ہی طرح کام کرتے ہیں.جبکہ کچھ مخصوص ماڈلز کے لیے ہوتے ہیں۔یہاں آپ ایسے ہی خفیہ کوڈز جانسکتے ہیں جو آپ کے فون کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
آئی او ایس31# : یہ کوڈ آپ کے نمبر کو آؤٹ گوئنگ کالز میں چھپانے میں مدد دیتا ہے۔ *#06# : یہ آئی ایم ای آئی کو ظاہر کرتا ہے۔ *#30# : اس سے نمبر آئیڈنٹیفکیشن (شناخت) کو آن یا آف کیا جاسکتا ہے۔ 33# : اس سے آؤٹ گوئنگ کالز کو ڈس ایبل کیا جاسکتا ہے، اس فنکشن کو ٹرن آف کرنے کے لیے #33*pin# ڈائل کرنا ہوگا۔
*3370# : اس سے ای ایف آر کوڈنگ کو آن کیا جاسکتا ہے جو کہ رابطوں کا معیار بہتر بناتا ہے مگر بیٹری لائف کم کرتا ہے، اسی طرح #3370# سے اس فنکشن کو بند کیا جاسکتا ہے . #50057672# : اس سے آپ موجودہ سروس پروائیڈر کے کسی سروس سینٹر کا نمبر دیکھ سکتے ہیں۔ اینڈرائیڈ فونز31# : یہ کوڈ آپ کے نمبر کو آؤٹ گوئنگ کالز میں چھپانے میں مدد دیتا ہے۔
*#06# : یہ آئی ایم ای آئی کو ظاہر کرتا ہے۔ ##4636## : اس کوڈ سے وائی فائی سگنل، بیٹری، یوزایج اسٹیٹکس اور دیگر معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ##7780## : اس سے فوری طور پر آپ فیکٹری سیٹنگز تک پہنچ سکتے ہیں جو کہ اپلیکشن ہی ڈیلیٹ کرے گی۔
##8351## : اس سے آپ گزشتہ 20 فون کالز میں اپنی آواز کی ریکارڈنگ سن سکتے ہیں۔ *#0011# : یہ سام سنگ گلیکسی کے سروس مینیو کو اوپن کرنے کا کوڈ ہے۔ ##4636## : یہ موٹرولا کا سیکرٹ مینیو ہے 👇