جہاز خریدا ہے بھئی
گندی ویڈیوز سے بلیک میل کیا ہے ب��ئی
الیکشن مینڈیٹ چھینا ہے بھئی
فوج سے ڈیل کی ہے بھئی
جعلی میڈیکل رپورٹس بنائی ہیں بھئی
اثاثوں کی منی ٹریل نہیں ہے بھئی
مشرف سے بھی ڈیل کی تھی بھئی
یاسمین راشد سے ہارے ہیں بھئی
مہر شرافت سے ہارے ہیں بھئی
سیٹیں سترہ ہی ہیں بھئی
تمام دوستوں سے کچھ بنیادی سوال:
۱) جب سب کچھ عاصم منیر کے کنٹرول میں ہے تو آج کل یہ جو اڈیالہ سے خبریں آرہی ہیں، وہ کس کی مرضی سے آرہی ہیں؟
۲) کس کی مرضی سے بیریسٹر سیف والی خبر دی گئی؟ کیا وہ سچ بھی ہے کہ نہیں؟ کتابیں تو دیتے نہیں یہاں پورا بندہ ہی تیار کروا دیا ہے۔
۳) کس کی مرضی سے عمران خان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی خبر جاری ہوئی؟
۴) عمران خان کی آنکھ کی خبر کس نے کس کو دی اور جاری ہو بھی گئی تھی تو ماضی کی طرح لیک پر کوئی ناراضگی نہیں دکھی؟ بلکہ ان کے اپنے لوگ بھی اس خبر کو آگے پہنچاتے رہے؟
کسی پر الزام نہیں ہے، بس کچھ گہری باتوں کو سمجھنے کی کوشش ہے۔
عمران خان نیک نیتی سے فیس سیونگ ضرور دے سکتے ہیں ملک کے لیے، عاصم منیر اور ٹیم نے جتنے گناہ کیے ہیں، اس کے بعد قوم سے اور اللہ سے معافی مانگے بغیر شاید اب گزارہ نہ ہو۔ اس وقت جتنی معیشت کی تباہی ہے اور بےچینی کا ماحول ہے، ایک شخص پاکستان کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔ ایک ایک دن قیمتی ہے اس کے علاج کے لیے، جتنا جلدی ہسپتال شفٹ کر لیں ان کو، اتنا اچھا ہو گا ہمارے ملک کے لیے اور ملک کی %90 عوام کے لیے۔
قومی اسمبلی میں آج اظہر قیوم ناہرا نے بتایا ’بلال اعجاز کو اللہ کے فضل و کرم سے ہرایا‘۔ دوسری طرف 8 فروری کو بلال اعجاز جیتے، پھر فائز عیسیٰ بینچ نے ری کاؤنٹنگ کا حکم کیا، مسترد ووٹ 7 سے بڑھ کر 17 ہزار ہوئے، بلال اعجاز کے ووٹ 10 ہزار کم اور ناہرا صاحب ج��ت گئے
ریکارڈ موجود
حکومت نے کیسا کمال بجٹ بنایا ہے دفاعی بجٹ بڑھا کر 3000ارب کردیا دفاعی پنشنین 800ارب سے زیادہ کردی
ساتھ بنیادی سہولیات صحت، پولیس، تعلیم اور ڈیولپمنٹ جو ��وام کو صوبوں سے ملتی ہیں انکے بجٹ کم کردئے ہیں
یعنی 15000ارب ٹیکس دیکر پہلے سے کم تعلیم کم صحت کم ڈیولپمنٹ
مزے کرو
امریکہ اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو پاکستان میں منجن بیچا گیا کہ پاکستان کی اگلی باری نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان ایران نہیں ہے
پھر وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان واقعی ایران نہیں ہے وہ تعلیم سے لیکر خوداری اور جنگ میں ہم سے بہت آگے ہیں
عمران خان کی حکوم�� گرائی تھی معیشت ٹھیک کرنے کے لئے
پھر معیشت ایسے ٹھیک کی کہ بے روزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
غربت میں اضافے کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
سرمایہ کاری گرنے کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
اور ایسے معیشت ٹھیک ہوگئی
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر مسائل کو طاقت اور گولی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
ہمارے کشمیری بھائی شہید ہوئے، جبکہ ان کا قصور صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان پر بھی اسی طرح گولیاں چلائی گئیں جس طرح 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہمارے پُرامن کارکنوں پر چلائی گئی تھیں۔
گولی اور جبر کے بجائے اگر ریاست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں بلکہ جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا کہ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی آواز دبانا ہی واحد حل ہے، تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں نہ مذاکرات کارگر رہیں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے معاملات قابو میں لائے جا سکیں گے۔