سچی بات ہے رؤف کلاسرا صاحب کے پروگرام میں اس سفاکانہ بل کے بارے میں جان کر دنگ رہ گئی ، جمہوریت میںں ایسا قانون بھی پاس کیا جا سکتا ہے ،جس کے تحت لوگوں کو اُن کے اپنے گھروں سے بے دخل کیا جاسکے. سائنس ٹیکنالوجی کی وزیر شازا فاطمہ خواجہ نے جو ترمیمی بل سینٹ میں معتارف کرایا ،اُس کے مطابق ٹیلی کیمونیکشن کمپنیاں کسی کی ذاتی جائیداد،گھر،دکان،پلاٹ یا جگہ 30 دن کے نوٹس پر خالی کراکے اپنے ٹاورز/مشینری لگا سکتی ہیں اور انکار کرنے والے کو پانچ کروڑ جرمانہ ہو سکتا ہے .
اندازہ کریں قومی اسمبلی نے یہ بل پاس کر دیا تھا…
ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی محبت میں جس وزیر نے شہریوں کے بنیادی اور آئینی ملکیتی حقوق ہی ختم کر دئیے اُس کو وزارت سے فوری ہٹا دینا چاہیے . ربا
اس چوتیے کو گراونڈ رئیلیٹی کا علم نہیں
مریم نواز نے جو پنجاب میں
صحت،تعلیم، زراعت کا حال کیا ہے
ان کو صرف حافظ ہی جتوا سکتا ہے
عوام تو 1 ووٹ نہیں دے گی
جب آپ خاندانی کوٹے پر وزیر بن جائیں تو پھر ایسی ہی قانون سازیاں ہوتی ہیں۔ حیرت ہے اس حوالے سے وزیر موصوفہ میں میڈیا کے سامنے آ کر وضاحت دینے کی اخلاقی جرات بھی نہیں۔ ویسے سب سے پہلا ٹیلی فون کھمبا تو ان وزیر موصوفہ کے گھر کے بیچ میں گاڑھنا چاہیئے۔ایسی ہی ایک وزیر نے ۲۰۱۶ میں پیکا قانون بھی منظور کروا لیا تھا۔ ویسے تو اس قانون کے ڈرافٹ کو اسمبلی میں پیشی کے لئیے منظور کرنے والے وزارتِ یا وزیر قانون کو قومی ستارہ امتیاز ملنا چاہیئے ۔ اور پھر اٹارنی جنرل تو شاید آجکل اپنے حلقے میں کھمبے ٹوٹی کی سیاست سے ہی نہیں نکل پا رہے۔
اپنے قد اور اوقات سے بڑھ کر بات کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ مقبولیت کے مقابلے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے کبوتر باز گیدڑ کو پاکستان واپس بُلاؤ، پوری حکومتی مشینری کا زور لگاؤ اور دوسری جانب ہمارے لیڈر کی ایک جھلک، ایک تقریر۔
دیکھتے ہیں کون کتنے بندے جمع کرتا ہے!
دل کے ارماں آنسوؤں میں بہ گئے۔۔۔۔
ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے۔۔۔۔
پنجاب ملازمین کی اوقات
فقط 3.5 فیصد اور سات💔💔💔
Budget2026💔💔💔
پنجاب کی ایک مشہور قصیدہ گو معلمہ کی فریاد۔۔۔
پنجاب میں آج سرکاری ملازمین کی تنخواہ 7 % بڑھائی گئی، پنشن میں 3.5 % اضافہ ہوا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وزرا کی تنخواہ 860 % بڑھائی تھی، MPA کی تنخواہ 426 % بڑھائی تھی، اسپیکر کی تنخواہ 660 % بڑھائی تھی۔
اگر اپنی تنخواہ 860 % بڑھائی تھی تو ملازمین کی صرف 60 % ہی بڑھا دیتے
سانحہ ماڈل ٹاون
بارہ سال قبل جون کے مہینے رات کے اسی وقت پولیس اور ضلعی انتظامیہ ماڈل ٹاون میں پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہر پہنچی، رات کو شروع ہوا یہ یہ تصادم اگلے روز دن بھر جاری رہا اور پولیس کی فائرنگ سے دو خواتین سمیت 14 لوگ شہید جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوئے۔اس سانحہ کا مقدمہ تب کے وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی شہباز شریف،وفاقی و صوبائی وزراء، پولیس افسران اور ضلعی انتظامیہ کے لوگوں کے خلاف درج ہوا ہے مگر آج بارہ سال بعد بھی اس واقعہ میں کسی کو سزا نہ ہوسکی۔
بارڈر بند ہے، اس سال کینو، مالٹا نہیں جا سکا، کسان کا نقصان ہو گیا، پھر تربوز نہیں جا سکا، نقصان ہو گیا۔ اب آم نہیں جا سکے گا، تھوڑا اور نقصان ہو جائے گا
ایک مخلص، مشفق اور مہربان دوست نے میری بڑھتی عمر پر طنز کرتے ہوئے مجھے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیا ہے انکے مشورے مجھے ہمیشہ عزیز رہے ہیں اور مجھے انکے مشورے پر عمل کرنے میں کوئی تردد بھی نہیں۔ صحافی کی نوکری کوئی وزارت کی طرح پکی تو ہوتی نہیں، ہوائی روزی ہے خدائے پاک تو کونے کھدروں میں پڑوں کو بھی دیتا ہے، بوڑھے صحافی پر بھی مہربانی فرمائے گا۔ تاریخ کا سبق مگر یہ ہے کہ وزارتیں اور حکومتیں عارضی ہیں اور آتی جاتی رہتی ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں میں کئی ایسے آئے جو تکبر اور غرور کی تجسیم تھے اور انہیں یہ زعم بھی تھا کہ ہم کبھی نہیں جائیں گے مگر سب کو جانا پڑا۔ صحافت نے رہنا ہے اور وزارت نے جانا ہے الفاظ محفوظ رہیں گے اور اقتدار ختم ہوجائیں گے۔
https://t.co/s4XPUc8m6J
وفاقی حکومت نے صحت کے لیے 25 ارب،اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے یعنی کل 71 ارب جبکہ حکومتی اور کچھ پی ٹی آئی کے ایم این ایز جو لوٹے بن چکے ہیں ان کی اسکیموں کے لیے 80 ارب سے زائد مختص کیے، اسی سے اندازہ لگائیں کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟