جہاں تک مولانا فضل الرحمان صاحب کے بیان کا تعلق ہے، میں آپ کے سامنے یہ کہتا ہوں اور کھل کر کہتا ہوں، مولانا نے جو بات کی ہے مولانا فضل الرحمان صاحب نے، جس میں قصور کے اندر انہوں نے جلسہ کیا اور قصور کے جلسے میں جو قصوروار ہیں، ان کی نشاندہی کی، وہ سو فیصد میرے دل کی آواز ہے اور میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی مکمل تائید کرتا ہوں اور میں ان کی اس سٹیٹمنٹ کے اوپر ان کے ساتھ ہوں اور میں سمجھتا ہوں انہوں نے ایک حقیقی ڈیمو کریٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ #کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار #اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
حامد میر کی جہالت کا ایک نمونہ۔۔۔
مولانا راشد سومرو نے شعر پڑھا
مجھے بھی موم کا پُتلہ سمجھ رہے ہو کیا
تمہاری لُو سے یہ لوہا پگھل نہیں سکتا
حامد میر نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ لُو تو شمع کی ہوتی ہے۔۔۔
کوئی اس دو نمبر سخن فہم کو جا کر بتائے کہ شمع کی لو اور گرمی والی لُو میں کیا فرق ہوتا ہے
#شہداء_صرف_بہانہ
قومی سیاست میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن عوام کی توقع یہ ہے کہ تمام اہم قومی معاملات پر کھلے مکالمے، آئین کی بالادستی، شفافیت اور جوابدہی کو ترجیح دی جائے۔ سیاسی بیانات اور تنقید کا مقصد بھی حقائق اور عوامی مفاد کے تناظر میں ہونا چاہیے تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور قومی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت ممکن ہو۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
مراعات تم حاصل کرو
بیرونی ممالک کے ایجنڈہ تم پورے کرو لیکن ملک مین پہر بھی
گندی سیاست ہے کیونکہ سیاستدان مقدس نہین اس ملک مین مقدس گائے وہ ہین جو مراعات لیتے ہین مقدس گائے وہ ہین جو بیرون ممالک کے ایجنڈہ پورے کرتے ہین
سیاستدان سیاستدان کو گالی دے کوئی نہین بولتا کہ بس کرو کیون بول رہے ہو ھان اگر ایک عام آدمی بھی آئین شکن مقدس گائے کے خلاف کوئی ایک میسیج کردے کوئی ٹوئیٹ کردے کوئی فیس بوک پر پوسٹ رکھ دے تو اس ایک عام ورکر کو بھی نامعلوم نمبروں سے فوری کال آجاتی ہے کہ بھائی آئین شکن مقدس گائے کو کچھ مت بولو اگر بولنا ہے تو سیاستدانوں کے خلاف بولو اصل مجرم سیاستدان نہین اصل مجرم وہ ہین جنہون نے ھمیشہ آئین سے بالاتر ہوکر فیصلے کئے اور پارلیامیٹ کو جعلی بنادیا اور اس اپنی بنائی گئی جعلی پارلیامینٹ کو بھی اعتماد مین نہین لیتے
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
ملک مین جو ایجنڈہ عمران خان کا رھا آج وہی ایجنڈہ اس جعلی حکومت کا ہے
پاکستان ترجیح نہین ترجیح بیرون کے فیصلے ہین
اکانومی آج بھی IMF کی لونڈی بنی ہوئی ہے
غربت آسمان سے بات کررہی ہے
بے روزگاری کی شرح بڑہ رہی ہے
معیشت ڈوب رہی ہے
امن امان نام کی کوئی چیز اس ملک مین موجود نہین ہے
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
اسمبلیوں کا بائیکاٹ کوئی لازمی اصول نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ بعض جماعتیں باہر رہ کر احتجاج کرتی ہیں جبکہ بعض پارلیمنٹ کے اندر رہ کر قانون سازی، احتجاج اور عوامی نمائندگی کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا#قابض_چوکیدار#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
یہ اعتراض کہ "اگر انتخابی نتائج پر اعتراض تھا تو نشستیں کیوں قبول کیں؟" سیاسی طور پر حتمی دلیل نہیں۔ دنیا کی بہت سی جمہوریتوں میں جماعتیں نتائج کو چیلنج بھی کرتی ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر رہ کر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہیں۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
اصولی سیاست کا مطالبہ بجا ہے، لیکن اس کا ایک ہی معیار سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ اگر کسی جماعت کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مختلف ادوار میں اتحاد، حکومت اور سیاسی مفاہمتیں تقریباً تمام بڑی جماعتوں کے تجربے کا حصہ رہی ہیں۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع