ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں، لیکن ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں جو قانون سازیاں ہوتی ہیں، ابھی تازہ قانون سازی ہوئی ہے، جس میں اس تیزی کے ساتھ قانون سازی کی گئی ہے کہ بعد میں جب ہم نے اس کا مطالعہ کیا تو وہاں بحث ہوئی نہ، میرے خیال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کو باریکی سے نہیں دیکھا۔ لیکن جو اس کی شکل سامنے آ رہی ہے، اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین کی بھی خلاف ہے، آئین سے متصادم ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے اس میں کہ یہ قانون، جس میں فوج کے اندر کے نئے انتظام اور ان کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں وزیراعظم کے انتظامی اختیارات، جو ان اداروں میں ہونے چاہئیں، چاہے بری فوج کے اندر ہو، چاہے فضائیہ کے اندر ہو، چاہے بحریہ کے اندر، وہ بھی وہاں ایک شخص کے اندر مرکوز کر دیے گئے۔
اور پھر یہ قانون تمام قوانین پر بالاتر ہوگا، یعنی اگر کسی قانون کا اس قانون سے تصادم ہوگا تو وہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ اب پہلے غیر مؤثر تو بناؤ نا! غیر مؤثر بھی نہیں بنایا، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، وہ دفعات بھی موجود ہیں اپنی جگہ پر، اور نیا قانون لا کر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی دفعہ اور شق اس قانون سے متصادم ہوگی تو غیر مؤثر ہوگی۔ لیکن اب تک اس کی نہ نشاندہی کی گئی ہے، نہ اس کو غیر مؤثر کیا گیا، نہ اس پر ترمیم کی گئی۔
آپ بتائیں کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے یا نہیں؟ اور یہ قانون سب پر بالاتر ہوگا۔ اب پتہ نہیں، یہ تو قانون دان جانے کہ کیا قانون کی دنیا میں اس طرح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں، لیکن میں آئین کے حوالے سے جانتا ہوں کہ جس زمانے میں پارلیمنٹ میں یہ بات آئی کہ قرآن و سنت سپریم لا ہونے چاہئیں اور بالاتر قانون ہونا چاہیے، قرآن و سنت کو، تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ مرحوم نے یہ فیصلہ دیا کہ نہیں، آئین کی تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ بھی دوسرے دفعہ پر بالادست نہیں ہو سکتی۔
شریعت کے حوالے سے تو تمام دفعات آئین کے برابر ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کو طاقت اور اختیارات کا ارتکاز، اور پھر تمام قوانین پر اس کی بالادستی، اس کے لیے قانون سازی ہو گئی۔
پاکستان اس لیے بنا تھا؟ آپ اپنے ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں، اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ آپ آرمی چیف بھی ہو، آپ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں، وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں۔
اب اس کا اختیار اپنی بری افواج پر بھی، فضائیہ پر بھی اور بحریہ پر بھی تسلط کر دیا گیا ہے، اور وہ تمام اختیارات رکھے گا؛ کسی کو برخاست کرنے کا، کسی کی ملازمت میں اضافہ کرنے کا، کسی کے استعفے کو منظور کرنا، نہ کرنا، تمام اختیارات اس کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ یہ کنٹرول، یہ کمانڈ، یہ وفاقی حکومت کا ہوا کرتا تھا، اور وفاقی حکومت نے اپنے اختیار ان کے حوالے کر دیے ہیں۔
اور پھر آگے کہتے ہیں کہ اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی۔ یعنی اس میں پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ تو قانون سازی اور اس حوالے سے آئین میں ترمیم اور تبدیلی اور اس قسم کی چیزیں، وہ بھی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہیں، کیونکہ حکومت کو اپنے راستے پہ لانا اور بوٹ کے نیچے دبانا ان کے لیے شاید آسان ہے۔
ہم چیزوں پر اختلاف کر رہے ہیں، ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں۔ ہم کسی کو گالی تو نہیں دے رہے، کسی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا۔ لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تو اس پر میں مزید بھی کام کرنا چاہتا ہوں، اور اسی وجہ سے میں لیڈر آف اپوزیشن کے دفتر میں گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم اس طرح بکھرے بکھرے نظر آئیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی ہماری کوئی مشترکہ حکمتِ عملی نہیں ہوگی تو پھر یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026
مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کے اندر کچھ اپوزیشن جماعتوں کے کردار سے مطمئن نہیں انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک حالیہ قانون کو پڑھے بغیر منظور کروا دیا جو آئین سے متصادم تھا مولاناکا خیال ہے اپوزیشن جماعتوں کو آئندہ پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے
مولانا فضل الرحمن صاحب کی آج پشاور ورکرز کنونشن کی تقریر کے بعد “انہوں نے” اپنی منسلک میڈیا ٹیم، چینلز اور اپنے “بےنامی یوٹیوب چینلز” کو مولانا صاحب کی کردارکشی کی ھدایات جاری کردی ھیں، پھر گھسی پٹی کہانیاں دھرائی جائینگی پھر گھسے پٹے الزامات لگائے جائینگے پھر گالیاں دی جائینگی پھر مخصوص چہرے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ مولانا صاحب کی کردارکشی کے لیے میدان میں اترینگے لیکن اللہ کے فضل سے جمعیت علماءاسلام کے تمام کارکنوں نے پہلے بھی آپ کا وار ناکام بنایا تھا ان شاءاللہ اب بھی اپنی جماعت اور قائد کے دفاع کے لیے تیار ھیں، اگر آغاز آپ کرینگے تو اختتام ھم کرینگے ان شاءاللہ۔
اسلام آباد: قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اہم اجلاس اس وقت جاری ہے۔جلاس میں قائدین اور پارلیمانی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہے، جن میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، پاکستان تحریکِ انصاف
خبردار 🚨 🛑
خیبرپختونخوا کے شعبہء کان کنی کے لیے بارودی مواد کی بندش سے اس جیسے کم و بیش تین لاکھ کان کن بیروزگار ہوچکے ہیں 2500 لیزوں پر کام بند ہو چکا ہے جبکہ مائننگ سے وابستہ دیگر کاروباری و صنعتی طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے صوبائی محکمہ معدنیات کے مطابق کم و بیش 13 لاکھ افراد بیروزگار اور متاثر ہوئے ہیں فرنٹئیر مائن اونرز ایسوسی ایشن نے حکام بالا کے نام درخواستوں میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ کان کن انتہائی غریب اور مجبور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں مسلسل بیروزگاری ان کو دہشتگردوں کے چنگل میں پھنسا سکتی ہے سول اور عسکری قیادت کو اس صورت حال کا فوری نوٹس لے کر یہ مسلہ حل کرنا چاہیے بصورت دیگر دہشتگردی کی آگ کو بیروزگاری کی صورت میں بہت زیادہ ایندھن ملنے کا خدشہ ہے خدارا خیبرپختونخوا اور یہاں کے لوگوں پر رحم کریں
#Éclipse
@AimalWali@MoulanaOfficial@AftabSherpao@saidalammahsud@BushraGohar@mjdawar@a_siab@CSKPOfficial@SohailAfridiISF@juipakofficial@JUIAnswersBack
اقلیتوں کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا پیغام
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ ہماری دینی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے۔مولانا فضل الرحمان
اسلام نے اقلیتوں کے جان و مال، عزت اور مذہبی آزادی کے حقوق کا واضح تحفظ دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں برابر کی شہری ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔مولانا فضل الرحمان
ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور انصاف کے قیام کے لیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام اقلیتوں کے آئینی، مذہبی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار ہے۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔مولانا فضل الرحمان
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو بلاامتیاز جان، مال، عزت اور مذہبی آزادی کا تحفظ فراہم کرے۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان
اسلام انسانیت، امن اور رواداری کا درس دیتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اسی فکر کا عملی تقاضا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا تحفظ ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ہے۔ مولانا فضل الرحمان
1972 میں مفتی محمود نے واضح اعلان کیا تھا کہ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو ان کی مرضی کے بغیر سرکاری تحویل میں نہیں لیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے بچوں کو بھی تعلیم، ترقی اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔مولانا فضل الرحمان
ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے تمام مذاہب اور مسالک کے درمیان احترام اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے آئین اور اسلامی تعلیمات دونوں کا بنیادی تقاضا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مذہبی ہم آہنگی کے فروغ سے پاکستان میں امن، اخوت اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا دینی، اخلاقی اور سیاسی کردار جاری رکھے گی۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کو بلاامتیاز عزت، انصاف اور تحفظ کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ھونے والا دفاعی معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لئے نہایت خوشی کی خبر ھے تینوں حکومتیں اس تاریخ ساز معاھدے پر جو بیت اللہ کے بالکل قریب ھوا مبارکباد کی مستحق ہیں اللہ تعالی اسکو امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنائیں آمین
یوم استحصال کشمیر پر جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا پیغام
5 اگست کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔مولانا فضل الرحمان
یوم استحصال کشمیر پر بھارت کا مکرہ چہرہ بے نقاب ہوا ۔مولانا فضل الرحمان
75 سال سی کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم اقوام عالم کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ مولانا فضل الرحمان
بھارتی مظالم کیخلاف کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
صوبے بنانے اور نظام کے collapse ھونے کی بات اتنی چھوٹی نہیں کہ اگر واقعی یہ کرنا ھوتا تو وہ ایسے انداز اور ایسی شخصیت سےکروائی جاتی جس سے اسکا impact ڈاؤن سائز ھو۔
یہ خواھش مشرف کے زمانے سے موجود ھے لیکن اس وقت نہ اسکے لیے سیاسی حالات سازگار ھیں نہ معاشی حالات، نہ امن وامان اس قابل ھے نہ عوام میں اسکی قبولیت ھے اور نہ ھی صوبے اسکو قبول کررھے ھیں، اس لیے اس کو اصل حالات سے توجہ ھٹانے کے علاوہ کچھ زیادہ کہنا شاید تجزیاتی طور پر درست نہ ھو۔
#MaulanaInQuetta
#صوبےنہیں_امن_دو
#عوامی_قوت_جمعیت
#آئین_کےمحافظ_مولانا
#نااہل_حکمران_مفلوج_نظام
نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔
کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،
میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔
آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔
یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟
ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔
ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔
میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔
لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔
'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر،
ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔'
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت میدان میں صرف ایک (گھڑی چور) کی سیاست بچانے کےلیے نکل آتی ہے،
صوبہ تباہ ہوتا رہے، انہیں کوئی پروا نہیں.
اللہ ہی پختونوں کا حافظ و ناصر ہو۔
جے یو آئی نے مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ اور اتحادی جماعتوں کو سسٹم کی تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ
"ہائبرڈ نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے دونوں ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین ، اسمبلیوں کی خرید وفروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں آئین سے ماوراء ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے ۔"
#شہدائےجمعیت_باجوڑ
#سالار_امن_مولانا
#پیغام_امن_جمعیت
#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
@JUIAnswersBack@juipakofficial@MoulanaOfficial
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
مولانا فضل الرحمٰن کی 46 سالہ عملی سیاست کا خلاصہ
صرف نو سال حکومتی اتحادی جبکہ 37 سال بھرپور اپوزیشن
جنرل ضیاء کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا حصّہ قید و بند کی صعوبتیں،
جنرل پرویز مشرف کے خلاف مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا حصہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر،
خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے خلاف مہم اور فتووں کا اہم حصّہ،
ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی حمایت،
اور
آئین پاکستان کے ساتھ ڈٹے رہنے کا عزم
@MoulanaOfficial@juipakofficial
#شہدائےجمعیت_باجوڑ #سالار_امن_مولانا #پیغام_امن_جمعیت #عوام_کو_جینے_دو #ابابیلوں_کا_شکریہ
محسن نقوی کے بیان پر ترجمان جےیوآئی کا ردعمل
ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس کا خالق خود کر رہا ہے۔ ترجمان جےیوآئی
مولانا فضل الرحمن پچھلے دو سال سے اس نظام کی ناکامی کا بار بار کہہ رہے ہیں۔ اسلم غوری
سسٹم کی خرابی اور کمزوری کا تو بچے بچے کو علم ہے ۔ترجمان جے یو آئی
وفاقی وزیر کی اپنی ہی حکومت کیخلاف چارج شیٹ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلم غوری
طے یہ کرنا ہے کہ اس سسٹم کے خالق کون اور اسکی خرابی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
ہائبرڈ نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے دونوں ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔اسلم غوری
نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین ، اسمبلیوں کی خرید وفروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں ۔اسلم غوری
آئین سے ماوراء ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے ۔ترجمان جےیوآئی
جے یو آئی کے خلاف پروپیگنڈہ ہمیں آئین کے تحفظ کی سزا دی جارہی ہے ۔اسلم غوری
قیادت کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان