عمران خان کی بہن نورین نیازی کی انکھوں می درد دیکھیں اور اندازہ لگا لیں خان صاحب پہ کس قدر ظلم کیا ہوگا ان بےغیرتو نے ۔ کیا 7 لاکھ فوجیوں کی ماوں نے یہ انسو نہیں دیکھے ہونگے ؟؟؟
سہیل افریدی نے کہا تھا پانچ لاکھ لوگ رجسٹر ہو گئے ہیں نکالو
ان پانچ لاکھ کو نوٹیفکیشن بھیجو کہ نکلو ہم نے کل ہی نکلنا ہے باہر
ا ڈیالہ کے باہر بیٹھنا ہے ہمیں خان چاہیے
78 سال گزر گئے
ملک بھی دولخت ہوگیا
93 ہزار ہتھیار ڈال کر ذلیل و رسواء بھی ہو گئے
ملک کے طول و عرض میں نفرتوں کی خوفناک آگ بھڑک رہی ہے
لیکن رویوں میں تبدیلی نہیں آئی۔۔۔!!!
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا ، علاج نہ کروانا اور سپریم کورٹ کے حکم کو روند دینا ٹھیک ہے لیکن اگر اس سارے ڈرامے کےبعد پریس کانفرنس ہوئی ہے تو وہ غلط ہے
پٹواری لاجک
جہاں تک میں نے عمران خان کو سمجھا ہے وہ سسٹم سے لڑائ چاہتا ہے معافیا کو گھٹنوں پر لاناچاہتا ہے ، یا تو سسٹم توڑنا چاہتا ہے یا پھر ٹیپو سلطان کی طرح اپنا اختتام چاہتا ہے ۔۔
جبکہ دوسری طرف قیادت اس کے برعکس مفاہمت چاہتی ہے ، سسٹم سے بات چیت کر کے بس کسی طرح حکومت میں آنا چاہتی ہے ،
کئی بار جرنیلوں کے کہنے پر سوشل میڈیا کو بھی خاموش رہنے کا کہا گیا ، کہا گیا کہ سوشل میڈیا ہی اصل فساد ہے ، سوشل میڈیا کے بولنے سے کام خراب ہوتا ہے ، ان کا بس نہیں چلتا ورنہ کہہ دیں کہ عمران خان کے بولنے سے کام خراب ہوتا ہے اسے چپ رہنا چاہیے ۔۔
قیادت کو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا اور سڑکوں پر آنا پڑے گا مزاحمت کرنی پڑے گی یہی واحد حل ہے ۔۔
بات چیت یا ڈیل سے خان کبھی نہیں ماننے والا حضور ۔۔
رہی بات جرنیل کی تو اس بھروسہ کبھی نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
جنابِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی بدستور 27 ستمبر کی کال قائم رہے گی کیونکہ مطالبات پورے نہیں ہوئے
خان نے اپنی بہنوں سے جو کچھ کہا ہے اگر وہ تحریک شروع ہونے سے پہلے پریس کانفرنس کرکے بتا دیتی ہے تو بڑے بڑے برج گر جائیں گے
خان نے مکمل روڈ میپ دے دیا ہے
"عمران کی ایک آنکھ بند تھی، آنکھ پر پٹی تھی، پمز میں اندھیرا تھا اور انہیں موبائل فون کی لائٹ میں لے جایا گیا۔ عمران خان تیز چلتے ہیں، میں نے ان سے کہا، آہستہ چلو۔"ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اس وقت مخصوص جرنلسٹ اور مخصوص پاکستان تحریک انصاف کے سو کالڈ ہمدرد ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عظمی خانم صاحبہ پر توہین عدالت ہو سکتی ہے
لیکن حکومت نے جو توہین عدالت کی اس کے اوپر بات کرتے ہوئے ان کی زبانیں خاموش ہیں
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا اظہارِ تشویش
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ حکام کا طرزِ عمل قابلِ افسوس اور کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے تھے، جن میں ہسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے کی ہدایت شامل تھی۔ اس کے باوجود چند گھنٹوں کے طبی عمل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کی مکمل طبی اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
آخر ایسی کیا عجلت تھی کہ ایک ایسے مریض، جس کی صحت کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، کو چند گھنٹوں میں طبی طور پر مطمئن قرار دے کر دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا؟
اگر ان کی طبی حالت مکمل طور پر تسلی بخش تھی تو تفصیلی اور مستند میڈیکل رپورٹ سامنے لائی جائے۔ اور اگر مزید نگرانی یا علاج درکار ہے تو اسے عدالتی احکامات کے مطابق بلا رکاوٹ فراہم کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کی صحت، طبی معائنے، ہسپتال کی منتقلی اور دوبارہ اڈیالہ جیل بھیجنے کے پورے عمل میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
صحت سیاسی معاملہ نہیں، بنیادی انسانی حق ہے۔
جمشید حسین
@jamshed_hrc
چیئرمین
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#ImranKhan #ImranKhanHealth #RightToHealth #HumanRights #RuleOfLaw #SupremeCourt #AdialaJail #HRCPakistan #Pakistan
ذرائع کیمطابق ذہنی مریض منیرے مستری کو عوام کے انتقام کے خوف میں اب صرف موت سے ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پل سے شدید ڈر لگنے لگا ہے۔
ان شاء اللہ اس کے اندر گھسے سارے شیطانی جن ہم ضرور باہر نکالیں گے۔
جعلی حکومت کی عدالتی آرڈر کی خلاف ورزیاں
1: شفا کے بجاۓ پمز اسپتال لے جانا
2: ذاتی معالج کو ملنے نہیں دیا
3: عمران خان کو اسپتال میں شفٹ نہیں کیا گیا
4: مکمل معائنہ نہیں کیا گیا
5: عدالت کے بجاۓ وزیر اطلاعات نے میڈیا پر صحت سے متعلق گفتگو کر کے مریض کو صحت مند قرار دے دیا۔