@ShafiJanPTI سب مادر چود اکٹھے ہو گۓ۔۔ تہاڈی پین نوں پکوڑہ۔ اب تم لوگوں کے ساتھ عوام کا کوئی تعلق نہیں ھے۔ جہنم میں جاؤ۔ اب تم لوگ حکومت میں رہو نہ رہو۔ عام کو اس سے کوئی سروکار نہیں ھے۔ ہماری طرف سے جہنم میں جاؤ
بریکنگ نیوز🚨لبنانی صحافی ہادی پیر کے روز لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایک رپورٹ فلمبند کرتے ہوئے چھروں (شریپنل) کی زد میں آ گئے۔یہ واقعہ امریکہ-ایران معاہدے کے اعلان کے بعد پہلے جانی نقصان کے طور پر رپورٹ کیا گیا جسکا مقصد لبنان سمیت متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ تھا
وزیراعظم آفس سے ہمارے ذرائع پکّی خبر دے رہے ہیں کے شہباز شریف کی پوری تیاری تھی انہوں نے ایک دن پہلے سوئٹزر لینڈ چلے جانا تھا کچھ لوگوں کو بھی ساتھ لے کر جا رہے تھا جی ہاں بڑا جہاز جا رہا تھا جس میں فیملی کے لوگ بھی تھے کچھ رشتےدار بھی تھے ان کے گھر کی خواتین بھی تھیں!
شہباز گل
آسٹریلوی پاسپورٹ کی طاقت : سی سی ڈی نے ہزار کے قریب پاکستانی بندہ مار دیا مگر کبھی وضاحت پیش نہیں کی جبکہ ہانیہ معصوم بچی کے قتل پر کیونکہ آسٹریلیا سے پریشر آیا تو پہلے چٹھہ صاحب خود گھر گئے ، پھر CCD نے پریس کانفرنس کی، مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کی اور آج پھر سے آئی جی اور سی سی ڈی کی پریس کانفرنس - حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی کی جان کی قیمت نہیں ہے
آزاد کشمیر کی عوامی تحریک ایک تاریخی موڑ۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک غیر معمولی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس ابھی مکمل عوامی حمایت ہے، پوری ریاست رضاکارانہ بند ہے، چار کریک ڈاؤن ناکام ہو چکے ہیں اور عوام نے راشن لے کر میدان میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں، یہ ایک بیدار قوم کا اعلانِ ارادہ ہے۔لیکن یہاں سب سے اہم اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ 5 اکتوبر 2025 کو مظفرآباد میں حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کے دستخطوں سے ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا۔یہ کوئی زبانی وعدہ نہیں تھا، نہ کوئی غیر رسمی بات چیت بلکہ یہ ایک تحریری، دستخط شدہ دستاویز تھی۔لیکن آج وہی حکومت اس معاہدے کو پسِ پشت ڈال کر عوام پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے، قیدیوں کو رہا کرنے کی بجائے مزید گرفتاریاں کر رہی ہے اور شہداء کی باڈیز تک واپس نہیں کی جا رہیں۔یہ دو جرم بیک وقت ہو رہے ہیں پہلا معاہدے کی صریح خلاف ورزی، جو کسی بھی مہذب ریاست میں ناقابلِ قبول ہے۔ جب حکومت خود اپنے دستخط کردہ وعدوں کی پاسداری نہ کرے تو پھر عوام کس پر بھروسہ کریں؟دوسرا سینہ زوری اور طاقت کا ناجائز استعمال کہ نہ صرف معاہدہ توڑا بلکہ احتجاج کرنے والوں پر فورسز چڑھا دی گئیں۔ یہ کونسا نظام ہے جہاں حکومت خود قانون توڑے اور عوام کو سزا ملے؟ یہ جمہوریت ہے یا کچھ اور؟
حکومت کی پوزیشن ہر گزرتے دن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ جولائی کے الیکشن، لندن میں بین الاقوامی احتجاج، لانگ مارچ کا خطرہ اور فورسز کی ناکامی یہ سب مل کر حکومتِ آزاد کشمیر کو مذاکرات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ طاقت کا ہر استعمال الٹا پڑ رہا ہے اور عوامی غصہ ٹھنڈا ہونے کی بجائے اور بھڑکتا جا رہا ہے۔حکومت کو جھکنا ہی پڑے گا کیونکہ حکومت یا ریاست عوام کے ساتھ ہی چلتی ہے جس کا ثبوت 5 جون سے آج 19 جون تک سامنے ہے۔حکومت کو عوامی راۓ کا احترام کرتے ہوے ایکشن کمیٹی کے پانچ فوری مطالبات یعنی کالعدم نوٹیفکیشن کی واپسی، قیدیوں کی رہائی، شہداء کی باڈیز کی واپسی، مقدمات کا خاتمہ اور فورسز کا انخلاء یہ تسلیم کرنا ہوں گے تاکہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہو۔اور اگر اب مزاکرات ہوتے ہیں تو اس بار یہ معاہدہ خاموشی سے نہیں بلکہ عوام کے سامنے کھلے طور پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ 5 اکتوبر والے معاہدے نے ثابت کر دیا کہ بند کمروں کے وعدے ہوا میں اڑا دیے جاتے ہیں اب عوام گواہ چاہتے ہیں، دستاویز چاہتے ہیں اور عملدرآمد چاہتے ہیں۔
لیکن اگر حکومت نے یہ موقع گنوا دیا تو ایکشن کمیٹی کے پاس ایک ہی راستہ بچے گا۔ پوری کشمیری قوم کے ساتھ خواتین، بزرگ، بچے اور جوان سب مل کر مظفرآباد کی طرف پیدل مارچ کریں گے۔ یہ مارچ ریاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ لاکھوں پیدل لوگوں کو نہ روکا جا سکتا ہے، نہ ان پر گولی چلائی جا سکتی ہے۔
جو لوگ آج JAAC کو ہلکا لے رہے ہیں وہ اپنی سیاست، اپنا وقار اور اپنا سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔ عوامی تحریکوں کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔
تاریخ کا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب پولینڈ سوویت یونین کے زیرِ اثر کمیونسٹ حکومت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا، تب ۱۹۸۰ میں ایک مزدور لیکھ واویسا کی قیادت میں سولیڈیریٹی نامی عوامی تحریک اٹھی۔ حکومت نے مارشل لاء لگایا، ہزاروں کارکنان کو جیلوں میں ڈالا، تحریک پر پابندی لگائی لیکن عوام نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔کارخانوں کے مزدور، کسان، طلبہ، پادری اور بوڑھے سب متحد رہے۔ نو سال کی انتھک جدوجہد کے بعد ۱۹۸۹ میں وہ لمحہ آیا جب پولینڈ کی کمیونسٹ حکومت مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئی، آزاد انتخابات ہوئے اور پولینڈ آزاد ہو گیا۔سبق یہ ہے طاقتور سے طاقتور حکومت بھی متحد قوم کو دیر تک نہیں روک سکتی تاریخ گواہ ہے قومیں جب بھی متحد ہوئی ہیں، انہیں کوئی نہیں جھکا سکا۔ نہ طاقت، نہ جیلیں، نہ لاٹھیاں، نہ گولیاں۔ کشمیری عوام آج اسی تاریخ کو دہرا رہی ہے۔۴ اکتوبر کے معاہدے پر دستخط کرنے والی وہی حکومت آج اپنے ہی وعدوں کی دشمن بن گئی ہے۔ لیکن یاد رہے معاہدہ توڑنے والے کمزور ہوتے ہیں، عوام نہیں۔یہ تحریک اب کسی ایک مطالبے کی نہیں، یہ ایک قوم کی خودداری کے اعلان کی تحریک ہے۔جو قوم راشن باندھ کر میدان میں اترے، وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتی۔
پنجاب پولیس پر آرٹیکل 6 لگےگا!!
یہ تمام چہرے یاد رکھیں, اِن تمام اہلکاروں پر آرٹیکل 6 لگےگا, عدالتی احکامات ماننے سے انکار ریاست سے غداری ہے, یہ تمام اہلکار آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے ہیں!!
یہ دور بھی گزر جائے گا, ہر ظالم ریجیم کا خاتمہ طے ہے, بس انتظار کرے پنجاب پولیس!!
انتہائی اہم 🚨 ماسکو حملہ
یوکرین نے نیٹو اور بالخصوص برطانیہ کی مدد سے روسی دارالحکومت ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کر دیا ہے۔ شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ہوائی اڈوں پر انخلا کرایا گیا۔اب سب کی نظریں روس پر ہیں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتا ہے
ہو بہو وہی ہوا جیسا رپورٹ کیا۔ ٹرمپ کو الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے۔ 300 بلین ڈالر بھی دینے پڑے اور وہی ایگریمنٹ جیسا رپورٹ کیا۔۔۔ مگر
منیرا مستری ڈاکیا ثاقب ہوا۔۔۔ کیسے؟ ⬇️
https://t.co/W0g5Tk5d7T
آسٹریلوی اوورسیز بچی کے دادا نے بڑا سوال اٹھادیا
اگر چور اور ڈیکیت کو گولی ماری جاسکتی ہے, تو CCDوالو کو کیوں نہیں ماری جاسکتی!!
ہمارا گھر اجاڑا گیا ہے, ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے!
پی ٹی آئی کے پی کے کا ہر ایک رکن اسمبلی جو آج کے بجٹ کی منظوری کے اجلاس میں شرکت کرے گا اسے غدار تصور کیا جائے گا۔ اب فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ خان کے ساتھ ہیں یا سہیل آفریدی کے ساتھ۔
@KaliwalYam@iPiansRTs#پہلے_خان_پھر_بجٹ
پشاور : کیا یہ سب کچھ پولیس آفسران کے علم میں ہے گذشتہ کئی روز سے یتیم خانہ میں یہ واقعات ہو رہے ہیں جس میں مقامی پولیس اسٹیشن ملوث ہے آج صبح پشاور کے یتیم خانہ دارالطفال پرمسلح شخص جو کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل پر آیا یتیم خانہ میں یتیم بچوں پر تشدد کیا..
@ShafiJanPTI@SohailAfridiISF
اعزاز سید کا انکشاف ہڈیاں جھنجھوڑ دینے والا ہے راولاکوٹ کے حالیہ سانحے میں کئی نوجوان مارے گئے، اور ان کی لاشیں آج بھی انتظامیہ کے قبضے میں قید ہیں۔ لاشیں اس لیے ورثا کو نہیں دی جا رہیں کہ ریاست تحریر پر دستخط مانگ رہی ہے کہ “ہمارا بیٹا دہشت گرد تھا۔
بریگیڈیئر فائق عباس ایک طرف اپنی انا کے بت کو خون سے سیراب کر رہے ہیں۔ کشمیر میں آگ لگا رہے ہیں، مظاہرین پر گولیاں برسا رہے ہیں، انہیں کالعدم قرار دے کر را کا ایجنٹ بنا رہے ہیں، اور پھر انہی لاشوں کو چھپا کر بلیک میل کر رہے ہیں۔ یہ کیسا اندھیر ہے پہلے سینے پر گولی مارو، پھر لاش کو گروی رکھو، اور سودا یہ کہ جب تک مرنے والے کو دہشت گرد نہ لکھو، کفن بھی نصیب نہ ہوگا۔
بات اب “ٹوٹلیٹیرین ریاست” سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ اسے ہم کونسا ریاست کہیں یا کسی اور نام سے پکاریں، جہاں جبر، بربریت، ناانصافی، بے حسی، گھٹیا پن، فسطائیت اور سفاکیت ہر سانس کے ساتھ اتر رہی ہو؟
تحریک لبیک پاکستان کے رکن شوریٰ فاروق الحسن نے کیسے مال بنایا، کس طرح لوگوں سے مبینہ طور پر پیسے اینٹھے؟ یہ وڈیو دیکھیں. یہ وڈیو خود ٹی ایل پی کے سابق لوگوں نے بنائی ہے جس میں وہ اپنی آب بیتی بیان کر رہے ہیں۔