ڈی جی!
تم نے جھوٹ بولا کے خیبر پختونخواہ میں دہشتگردوں کو آباد کیا گیا۔ اور اگر اسے فرضی طور پہ سچ مان بھی لیا جائے تو تم اور تمہارا محکمہ کریانہ سٹورز اور ڈی ایچ ایز میں کیوں مصروف رہے؟
جہاں، بقول تمہارے، دہشتگرد آباد کئے گئے وہاں کتنے فوجیوں کو نااہلی پہ سبکدوش کیا؟ کتنوں کا کورٹ مارشل کیا؟
تین سال سے تو تم ایک سیاسی جماعت کو دہشتگرد ڈئ��ر کرنے پہ تلے ��وئے ہو، تم نے خاک اپنے فرائض سر انجام دینے تھے؟
جن وسائل کو دہشتگردوں کے خلاف استعمال ہونا چاہئیے تھا وہ پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کرتے رہے۔ جن قوانین اور عدالتوں کو دہشتگردوں پہ لاگو ہونا تھا، انہیں تم سیاسی خواتین ورکرز پہ لاگو کرتے رہے۔
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!
جب war on terror ہوئی اور پاکستان کی مٹی پلیت ہوئی دنیا میں اور کہا گیا کہ فوج دوغلی ہے، جھوٹی ہے، تو دیکھیں کس نے اپنی فوج کی سب سے زیادہ حفاظت کی، کون انٹرنیشنل میڈیا پر فوج کے ساتھ کھڑا ہوا!
آپ بیٹھ کر فرعون کی طرح فرمان پاس کر رہے ہیں، اور یہ کہنا کہ عمران خان جھوٹ بول رہا ہے، آپ کو شرم آنی چاہئیے! عمران خان کو پچاس سال سے یہ قوم جانتی ہے!”
- عمران خان
#عمران_احمد_خان_نیازی
𝐑𝐄𝐌𝐈𝐍𝐃𝐄𝐑:
Let us revisit the Constitution of Pakistan
Let us remind that the armed forces are a tool of the state, not the state itself
Let us reiterate that the real power lies with the people
𝐋𝐞𝐭 𝐮𝐬 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐩𝐞𝐨����𝐥𝐞 𝐖𝐈𝐋𝐋 𝐫𝐞𝐢𝐠𝐧 𝐬𝐮𝐩𝐫𝐞𝐦𝐞
#FascismUnderAsimLaw
پاکستان کی سیاست کئی ایسی خامیوں کا شکار ہے جو جمہوری عمل کو کمزور کرتی ہیں اور عوام کو حقیقی نمائندگی سے محروم رکھتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ خاندانی سیاست ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں میں قیادت کو ایک وراثتی حق سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی لیڈر کے بعد قیادت اس کے بیٹے یا بیٹی کو منتقل ہو جاتی ہے، چاہے ان کے پاس عوامی خدمت کا کوئی تجربہ ہو یا نہ ہو۔ یوں جماعتیں ادارے کے بجائے مخصوص خاندانوں کی ملکیت بن جاتی ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ انتخابی نظام کی پیچیدگیاں ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے الیکشن لڑنا نہ صرف مہنگا بلکہ قانونی اور سماجی طور پر بھی بے حد مشکل ہے۔ انتخابی اخراجات، پارٹی ٹکٹ کی بندر بانٹ اور میڈیا تک محدود رسائی ایسے عوامل ہیں جن سے صرف طاقتور اور دولت من�� طبقہ ہی فائدہ اٹھا پاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کی کمی بھی جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔ اکثر ووٹر شخصیت پرستی، برادری، یا جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ امیدوار کے منشور، کارکردگی یا اخلاقی معیار کو پرکھیں۔ اس روش نے سیاسی منظرنامے کو بار بار انہی روایتی چہروں کے گرد گھما دیا ہے۔
سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ اداروں کی غیر جانبداری ہے۔ جب تک الیکشن کمیشن، عدلیہ اور میڈیا مکمل طور پر غیر جانبدار اور عوامی مفاد کے محافظ نہیں بنتے، اس وقت تک حقیقی تبدیلی کا راستہ ہموار نہیں ہو سکتا۔ طاقتور طبقے کے اثر و رسوخ نے ان اداروں کی ساکھ کو بارہا نقصان پہنچایا ہے۔
یہ تمام مسائل مل کر پاکستانی سیاست کو ایک ایسے دائرے میں قید رکھتے ہیں جہاں سے عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حقیقی جمہوریت اسی وقت ممکن ہے جب قیادت موروثی سوچ سے آزاد ہو، ��نتخابی عمل سب کے لیے آسان اور منصفانہ بنایا جائے، عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو، اور ادارے اپنی غیر جانبداری پر سختی سے قائم رہیں۔
“خیبر پختونخوا میں آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے ہی ایک زمانے میں اے این پی کو غیر مقبول کیا گیا تھا۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں۔ ان آپریشنز میں ایک طرف ہمارے سیکیورٹی فورسز والے اور دوسری طرف بھی ہمارے اپنے شہری مارے جاتے ہیں۔ اپنوں کو مارنے سے ہمیشہ دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری جانب سے افغانستان اور پاکستان میں جاری ڈرون حملے فوری بند ہونے چاہئیں۔
خیبر پختونخوا کے تمام صوبائی و قومی اسمبلی ممبران اور سینیٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے میں امن کے لیے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے مل کر بیٹھیں اور مزاحمت کریں تاکہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو۔ ایک طرف لوگ سیلاب اور مہنگائی کا س��منا کر رہے ہیں اور ان کو آپریشن کا بھی سامنا ہو گا، جو بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی مستقل حل نہیں ہوتا۔
افغانستان ہمارا برادر مسلمان ملک ہے۔ افغان مہاجرین تین تین نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو سب نے ان کے لیے دروازے کھولے اور اسی لیے انصار مدینہ آج تک محترم ہیں لیکن ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں پر زمین تنگ کر دی۔ مہاجرین کو دھکے دے کر بے دخل کرنا بہت افسوسناک ہے ۔عاصم منیر اینٹی طالبان لابی کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور جہاں جنگ نہیں ہے وہاں جان بوجھ کر جنگ نافذ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات فوری طور پر رکنے چاہییں ورنہ حالات مزید بگڑیں گے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہمشیران سے گفتگو۔ ۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵
2/3
پاکستان کے جاسوسی ادارے گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ سکتے ہے۔ آپ نے ایک دفعہ پھر 8 اگست کا ڈرامہ کرنا تھا ؟
ہم نے مرنا ہے لیکن ہماری وصیت یہ ہوگی کہ آسمان میں بھی ہمیں کچھ ہوا تو ہمارے قاتل پاکستان کے جاسوسی ادارے اور آئین شکن لوگ ہونگے۔
جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق افضل جہاد ہے
ان کی گورننس پہ تو بات تب ہو جب یہ خود الیکٹ ہو کے آئی ہوں۔ یا تو فواد چوہدری صاحب یہ مان رہے ہیں کہ محترمہ الیکٹڈ وزیراعلی ہیں اگر نہیں تو پھر ہم ان کو کوس رہے ہیں جنہوں نے ان محترمہ کو ہم پہ مسلط کیا ہے
چوہدری صاحب تنقید ان کے کپڑوں پر نہیں، بلکہ کاسٹیوم پالیٹکس پر ہے۔ عوام کی اصل مشکلات پسِ منظر میں ہیں اور میڈیا اسٹیج پر صرف ڈریس شو چل رہا ہے۔ گورننس کی ناکامی کو پردے کے پیچھے چھپانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ میرا مدعا یہی ہے کہ عوام بھوکی ہے اور "اقتدار" والوں کے لیے یہ سب ایک ڈرامہ ہے۔"
کاش انکی کوئی گورنس ہوتی تو ہم اس پر تنقید کرتے۔ انکی ایک ہی ایکٹویٹی ہے اور وہ ہے میک ایپ ک��ڑے کیمرہ ایکشن۔ رہی بات ویل ڈریسڈ تو خاتون ہیں جانے دیں۔ زیادہ مناسب نہیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ ایک نیم خواندہ خاتون ہیں گھڑی سے لے کر بیگ تک تو سیدھا پکڑنا نہیں آتا۔ پیسوں سے چیزیں خریدی جا سکتی ہیں انہیں پہننے کی عقل تمیز نہیں۔ آپکو ایکس توپوں کی سلامی ہے اگر آپکو یہ خاتون ویل ڈریسڈ لگتی ہیں۔ ویلڈیسڈ صاحبہ کو یہ تک نہیں پتہ فارمل اور ان فارمل موقعوں پر کیا پنننا ہے۔ کون سا رنگ پہننا ہے۔ رات اور دن۔ دھوپ اور شام کے رنگوں کی سینس۔ اب آپ اگر انکا موزانہ ہماری باجی فرودس عاشق اعوان سے کر رہے ہیں تو وہ مجھے نہیں پتہ۔
مزید یہ کہ حیرت ہے آپکو یہ محظ کپڑوں پر تنقید لگ��ی ہے۔ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال۔ ساری رات ایک فیکٹری کو ہائی جیک کرنا۔ سیکورٹی گارڈ کی جیکٹ چھوٹی کروا کر میڈم کو پہننا۔سارا فوکس۔ کیمرا اور ایکٹنگ پر۔رات جو پوری کچن کیبنٹ ان کے لئے ��یکٹ بنواتی رہی وہی وقت اگر وہ گورنس پر لگاتے تو کیا بہتر نہ ہوتا۔ یہ تنقید خالصتا۔ انکی ذہنی صلاحیت پر ہے جو کپڑے جوتے اور میک آپ سے آگے نہیں بڑھتی۔
آپکا یہ ٹوئیٹ پاکستانی لبرل کلاس کو تو خوش کر لے گا۔ لیکن پاکستان کی عوام کا کیا قصور ہے کہ ایک نیم خواندہ ایکٹنگ کی شوقین محترمہ جو کپڑے جوتے تصویر وڈیو سے باہر نہیں نکلتیں انہیں عوامی عہدے پر فیلڈ مارشل صاحب نے الیکشن چُرا کر مسلط کر دیا۔ اب ہمیں انہیں ویل ڈریسڈ بھی ماننا پڑے گا۔
“Asim Munir has an insatiable hunger for power, which is why he has imposed the worst form of dictatorship. Instead of demanding that I apologize, Asim Munir should apologize to me. The events of May 9th (2023) were orchestrated by the same person who stole the CCTV footage. At present, May 9th has become Asim Munir’s insurance policy.
It is not a hybrid system that is in place in our country, but the dictatorship of Asim Munir. That is precisely why (President) Trump invited him instead of Shehbaz Sharif.
In their extreme fascism and oppression, they continue to target non-political members of my family. My two nephews, Shahrez and Shershah Khan, have been abducted despite having no involvement in politics. My nephew Shahrez Khan, who is an excellent athlete, was forcibly taken away. I am being held in complete solitary confinement. Over a period of three months, I have been allowed only three meetings. Even meetings with my lawyers and family are blocked for months at a time. All of this is being done to pressure me.
For the past eight months, my wife, Bushra Bibi, has also been held in solitary confinement. Such treatment of women is unprecedented in the history of Pakistan, not even under Yahya Khan.
Faisal Vawda, who acts as a mouthpiece of the establishment, issued statements that Bushra Bibi would seek separation from me. She was pressured to do so, but she stood firmly by my side. Previously, when Asim Munir was removed from the post of DG ISI, he attempted to contact Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, but she refused. That is why she is being subjected to such cruel treatment today. She is kept in solitary confinement under deplorable conditions, where she has suffered electric shocks and physical wounds. She is provided polluted water to use. Every form of cruelty is being inflicted upon her.
Asim Munir is behind all this. He has neither morality nor an understanding of Islam. My message to him is this: no matter which member of my family you imprison to increase pressure on me, I will neither bow down nor accept this tyranny. I will continue my struggle for Haqeeqi Azadi (genuine freedom), no matter what.
Asim Munir is doing to Pakistan what Mohsin Naqvi has done to cricket.
The judiciary has been destroyed, the media silenced, and the police forced into actions that have criminalized the institution itself. Even during Yahya Khan’s era, such circumstances did not exist. The police are being used against the members of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), which has led to a rise in crime across the country. Unemployment is at its peak. The economy cannot be fixed by the SIFC, but through public confidence and the rule of law.
Criminals have been imposed upon us, despite the fact that ISI had itself shared with me evidence of their corruption and money laundering. All cases against anyone who left PTI were immediately forgiven.
Whenever dictatorship takes hold, it does so by colluding with judges. At present, due to shameless judges, the rule of law in Pakistan has completely collapsed. After the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has become entirely subservient. These judges without a conscience do not take action against human rights violations. If our judges acted upon their conscience, provided justice to the people of Pakistan, and feared accountability before Allah on the Day of Judgment, then such tyranny would never have been possible. These conscienceless judges are equally complicit in this injustice and oppression."
Important Conversation of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
(August 26, 2025)
1/2
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود ��ار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی�� لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
ضیاء سے عاصم تک :
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور جنرل ضیاء الحق کا موازنہ اگرچہ مختلف تاریخی سیاسی اور علاقائی تناظرات میں ہوتا ہے لیکن موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی کے پس منظر میں کچھ اہم مماثلتیں اور فرق ابھر کر سامنے آتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا دونوں شخصیات پاکستان کی فوج کے سربراہ کے طور پر اس وقت سامنے آئیں جب خطے میں بڑی طاقتوں کی کشمکش اپنے عروج پر تھی یا ہے اور پاکستان کو عالمی طاقتوں کے کھیل میں ایک اسٹریٹیجک مہرہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی یا ہورہی ہے ،
جنرل ضیاء الحق ان دنوں منظر پر چھائے جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ ��یا اور امریکہ کو ایک ایسے اتحادی کی ضرورت تھی جو اس کے اشارے پر خطے میں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکے جنرل ضیاء نے مذہبی بیانیے اور جہادی بیانیے کو استعمال کر کے پاکستانی عوام کو افغان جنگ کے لیے تیار کیا اور امریکہ کو پاکستان کے ذریعے مجاہدین کی تربیت اور اسلحہ سپلائی کرنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا بالکل اسی طرح آج جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے تو پاکستان کی عسکری قیادت کے لیے ایک بار پھر امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی نظریں اہمیت اختیار کر چکی ہیں امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان جیسے ملک کو کسی ممکنہ اتحاد میں شامل کرنے یا کم از کم غیر جانبدار رکھنے کے لیے مختلف دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے ،
آئین شکن مردود ضیاء الحق نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کر کے مارشل لا نافذ کیا تھا جبکہ جنرل عاصم منیر اب تک سیاسی اقتدار میں براہ راست مداخلت سے گریزاں ہیں لیکن اُن کا پاکستان پر کنٹرول اتنا ہے جتنا شاید فرعون کا بھی مصر پر نہ تھا دونوں ادوار میں امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات میں غیر معمولی قربت دیکھی گئی ضیاء الح�� نے افغان جہاد کے لیے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل کی جبکہ جنرل عاصم منیر کے دور میں بھی امریکہ کے ساتھ عسکری سطح پر روابط میں اضافہ ہورہا ہے خاص طور پر ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ،
ضیاء الحق نے اسلامی بیانیے کو حکومتی پالیسی کا مرکز بنایا جبکہ عاصم منیر بھی مذہبی حوالوں سے قومی یکجہتی اور نظریاتی بنیادوں پر بیانات دیتے دکھائی دیتے ہیں اور اپنے غیر آئینی کاموں اور فسطائیت کو قرآنی حوالہ جات دے کر جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگرچہ ان کا انداز اور شدت مختلف ہے فرق یہ بھی ہے کہ ضیاء کے دور میں میڈیا محدود اور ریاستی کنٹرول میں تھا جبکہ آج سوشل میڈیا موجود ہے جو جنرل عاصم منیر کے لیے بڑا چیلنج ہے اور فوج پر عوامی سطح پر تنقید پہلے سے کہیں زیادہ ہو رہی ہے جس کو سختی سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،
ایران اسرائیل کشیدگی کے موجودہ حالات میں امریکہ ایک بار پھر اپنے اتحادیوں کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک اہم ملک بنا دیتی ہے ایسی صورت میں جنرل عاصم منیر پر ممکنہ دباؤ آ سکتا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے مطابق حکمت عملی ا��تیار کریں چاہے وہ سعودی اتحاد کا حصہ بننے کی صورت میں ہو یا داخلی سطح پر اسرائیل مخالف بیانیے کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کی صورت میں یا پھر ایران کے مقابلے میں کھلی حمایت مانگنے کی صورت میں ،
جنرل ضیاء الحق اور جنرل عاصم منیر کے درمیان تاریخی حکمت عملی اور شخصی انداز میں کئی فرق موجود ہیں لیکن خطے میں جنگی فضا امریکی دباؤ اور فوج کی فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت جیسی مماثلتیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا پاکستان ایک بار پھر کسی اور کی جنگ کا ایندھن بننے جا رہا ہے اگر ہاں تو کیا ہم ضیاء کے دور کی پالیسیوں اور نتائج کو دہرانے جا رہے ہیں یا اس بار ہم مختلف فیصلہ کریں گے یہی سوال آج پاکستانی ریاست اور عوام دونوں کے سامنے ہے ،
جنرل ضیاء الحق کا انجام سب کے سامنے ہے جو کہ ایک طیارہ حادثے میں پراسرار طور پر ہلاک ہوئے اور آج تک اس حادثے کے محرکات ایک معمہ بنے ہوئے ہیں ان کے ساتھ امریکا کے سفیر اور اعلیٰ فوجی افسران بھی مارے گئے تھے جسے کئی لوگ "استعمال کے بعد انجام" کی علامت سمجھتے ہیں اب جنرل عاصم منیر کا کیا انجام بنتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ جب طاقت عروج پر ہو تو انجام اکثر پردے کے پیچھے لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔
Say Yes To Mangoes