@ibnehussain03 اللہ تعالیٰ رحم فرمائے
ایک ٹک ٹاکر کیلئے پوری میڈیا جاگ جاتی ہے لیکن عالم دین کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا پھر کہتے ہے کہ ہمارے اوپر حالات ایسے آئے ہے
#جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور
آج پاکستانی عوام کی نظریں مولوی فضل الرحمن پر جمی ہوئی ہیں۔ ماضی میں جس پارٹی نے انہیں کھلے عام “ڈیزل” کہہ کر ذلیل کیا، آج وہی مولوی اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسی پارٹی کی جھولی میں بیٹھ کر عزت بیچ رہے ہیں۔ یہ کوئی اصولوں کی سیاست نہیں، بلکہ مفاد پرستی کا ننگا ناچ ہے #جےیوآئی_منافقت
جے یو آئی کی سیاست ہمیشہ سے اصولوں پر نہیں بلکہ موقع پرستی پر چلتی رہی ہے۔ جب وزارتیں، فنڈز، مراعات اور عہدے ملتے ہیں تو حکومت بھی اچھی ہو جاتی ہے اور اسٹبلشمنٹ بھی “مسلمان”۔ جیسے ہی بیروزگار ہوتے ہیں، وہی حکومت کافر اور اسٹبلشمنٹ ظالم بن جاتی ہے۔ کل جو نظام ان کے لیے قابل قبول تھا، آج وہی “مسلط طبقہ” اور انسانیت سے خالی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ دوغلا پن ان کے خون میں رچا بسا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری کا خطاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ وہ عمران خان کو مظلوم دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ 2022 میں خود جے یو آئی نے پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی حکومت گرا دی تھی۔ آج وہی لوگ عدالتی احکامات اور انسانیت کا لیکچر دے رہے ہیں جو کل اسی نظام کی حمایتی تھے۔ یہ اخلاقی قیادت نہیں، خالص موقع پرستی ہے۔
عوام اب اس دوغلے پن کو اچھی طرح پہچان چکی ہے۔ قصور میں شہداء کی بے حرمتی ہو یا دھرنے اور تختیوں کا سیاسی ڈرامہ، جے یو آئی کی سیاست صرف ذاتی مفادات، خاندانی راج اور سودے بازی تک محدود رہی ہے۔ عام ورکر صرف نعرے لگانے کا آلہ کار ہیں، جبکہ بڑے عہدے اور مراعات صرف اپنے گھر والوں کے لیے محفوظ ہیں۔
یہ ہے اصل چہرہ مفاد پرستی کا۔ یہ ہے اخلاقی دیوالیہ پن۔ پاکستانی عوام اس موقع پرست سیاست کو مسترد کر چکی ہے۔
@miandawoodadv اس وقت بھی مولانا بار بار کہہ رہا تھا کہ نکے دا ابا کا قصور ہے اور آج بھی وہی نکے دا ابا کو للکار رہا ہے لیکن کل والی اسٹبلشمنٹ ن لیگ کیلئے بری تھی اور آج اچھی ہے کیونکہ منہ میں۔ انگلی دی ہوئی ہے