اگر یہ سعودی عرب کا معاشرہ ہوتا تو ان دونوں بےشرموں پر زنا کی شرعی حدود لگائی جاتیں مگر چونکہ یہ دونوں پاکستان میں ہیں اسلئے انہیں سیلیبریٹی بنا کر اپنے افئیر کی داستانیں سنانے کیلئے مین سٹریم میڈیا کے صحافی بلا رہے
وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے کی گئی گذشتہ مردم شماری کے مطابق پنجاب میں اڑھائی کروڑ پختون، دو کروڑ سندھی اور ایک کروڑ ایسے بلوچ آباد ہیں جن کے شناختی کارڈز پر مستقل پتہ ان کے آبائی صوبوں کا لکھا ہوا ہے۔ یوں وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف سترہ کروڑ لوگوں کی چیف منسٹر ہیں۔
زیارت پر حملے کا بھرپور جواب دے دیا گیا۔
زیارت حملے کے بعد پاکستان ایئر فورس نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کئی دہشگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔۔
پشاور میں طلبا کا احتجاج،پولیس کی طالبات پر گاڑی چڑھانے کی کوشش طالبات کی چیخ وپکارکئی طالبات سے پولیس نے موبائل بھی چھین لیے
پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے ظلم و ستم کی جعلی کہانیاں گھڑنے والے یوٹیومرز اب کدھر ہیں ؟
نہ نواز شریف کرپٹ ھے نہ نواز شریف نے ملک تباہ کیا نہ ھی نواز شریف اقتدار کا بھوکا ھےنواز شریف نے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے لگائے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا مجھے وزیراعظم بھی نواز شریف نے بنوایاایک اور سچ سن لیجئےملک دیوالیہ ھوجاتا اگر پی ڈی ایم عمران خنزیر کی حکومت نا گراتی۔
ھم آپ کی تکلیف کو سمجھتے ھیں لیکن کیا آپ ھماری تکلیف کو سمجھتے ھیں؟
بزرگ،جوان جس کو گولی صرف اس لئے ماری گئی کہ اس کے شناختی کارڈ پر پنجاب لکھا تھا،کیا آپ لوگوں نے اس کی مذمت کی؟
جو عمران خان اپنے فائدے کے لئے مولانا فضل الرحمان جس کو ڈیزل کہتا تھا محمود اچکزئی جس کا مذاق اڑایا کرتا تھا پرویز الٰہی جسکو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اگر اسکو ریلیف نظر آیا تو وہ ن لیگ کیساتھ بھی بیٹھ جائے گا یہ ایک ہوا کھڑا کیا ہوا ہے وہ بہت ضدی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے وہ یوٹرن لیتا ہے جہاں اسکا مفاد ہو حماد حسن۔۔
ہم آپ کی تکلیف کو سمجھتے ہیں
لیکن
کیا آپ ہماری تکلیف کو جانتے ہیں ؟
ہمارا مزدور ہمارا بیٹا جس کے شناختی کارڈ پر پنجاب لکھا ہوتا ہے تو اس کو بس سے اتار کر گولی مار دی جاتی ہے
پنجاب اس پر باقی صوبوں سے مزمت بھی تو سنا چاہتا ہے
کسی پوسٹنگ پر خوش فہمی یا غلط فہمی میں پڑنے کی بجائے آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز اقدامات (خصوصا بلوچستان) پر نظر رکھیں ۔
ٹاسک بھی بڑا اور اعتماد بھی مزید دکھائی دے گا
ایران سے سمگلنگ کا تیل لانے والی گاڑی ذمیار کہلاتی ہے، ایک ایک مقامی بلوچ سیٹھ نے سو سو ذمیار بنا رکھے ہیں اور ایک ذمیار کی ایک روز کی کمائی ساڑھے تین لاکھ ہے۔ جیسے ہی ایف سی نے یہ پابندی لگائی کہ تیل صرف وہی لائے گا جس کے نام پر گاڑی رجسٹر ہے تو تیل کی سمگلنگ اڑھائی کروڑ لیٹر سے کم ہو کے سات لاکھ لیٹر تک آ گئی اور تب پھر ماہرنگ لانگو کے دھرنے شروع ہو گئے۔ یاد رہے کہ جس علاقے میں سب سے زیادہ ذمیار بند ہوئیں، ماہرنگ کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔
ڈپٹی رپورٹنگ فرام تربت
آج کی سب سے بڑی خبر سابق امیر جماعت اسلامی سراج_الحق صاحب نے 25 کروڑ عوام کی زندگی عذاب بنانے کے بعد نوازشریف صاحب سے یہ کہہ کر معافی مانگ لی پانامہ کیس سپریم کورٹ لیکر جانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی. نیازی اس کے ساتھ تھا
آج پوری دنیا نے کھلی آنکھوں سے ان یوٹیومروں کو جوتے ٹھڈے پڑتے دیکھا حالانکہ مارنے اور مروانے والوں کا تعلق ایک ہی جماعت سے ہے لیکن یہ بیغیرت گدڑ کُٹ کھانے کے بعد بھی اسی جماعت کے سامان سے بندھے رہیں گے کیونکہ مروانے والوں کی روزی روٹی فنڈنگ ویوز مارنے والوں سے منسلک ہے
مجھے ابھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بدعنوانی اور سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران ضلعی انتظامیہ نے تقریباً 21 ہزار کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی ہے، جس کی تخمینی مالیت 10 ارب روپے بنتی ہے۔
مبینہ طور پر یہ اراضی ایسے بااثر مقامی افراد کے قبضے میں تھی جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے اور ماضی میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ نیب ملتان نے مجھے بتایا کہ تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDA) اور دریائی کچے کے علاقوں میں بااثر افراد کی جانب سے تقریباً 2 لاکھ کنال سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کیے گئے ہیں۔
حالیہ کارروائی میں 24 کنال 6 مرلے سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت تقریباً 1.43 ارب روپے ہے، اور اسے محکمہ جنگلات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ اراضی مین ایم ایم روڈ، چک نمبر 244/TDA، فتح پور پر واقع ہے اور مبینہ طور پر ایک جعلی الاٹی کے حق میں فراڈ کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
تحقیقات کے بعد ڈپٹی کمشنر لیہ نے 25 اگست 2026 کے حکم کے ذریعے مذکورہ اراضی محکمہ جنگلات کو واپس کرنے کے احکامات جاری کیے۔
اس بے ضابطگی میں مبینہ طور پر ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ فائدہ اٹھانے والے شخص کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعے فوجداری کارروائی بھی شروع کی جا رہی ہے۔
یقیناً یہ ایک قابلِ تحسین اور شاندار اقدام ہے۔ اگر اسی عزم کے ساتھ بااثر مافیا، قبضہ مافیا اور بدعنوان عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جائے تو سرکاری وسائل اور عوامی حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہوگا۔
احسن اقبال پاکستان میں سب سے زیادہ عرصہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وزیر رہے ان کی منسٹری کا یہی کام اس میں ماہرین موجود تھینک ٹینک ہیں اگر وہ ایک بات کر رہے تو وہ ایک عام آدمی سے زیادہ اس ٹاپک پر اتھارٹی رکھتے ہیں بات ان کی سیاسی طور پر بھی معقول اگر صوبے نہی بنانے تو 160 مکمل آئینی با اختیار ضلعی حکومتیں بنا دیں ان تک این ایف سی کے پیسے تقسیم کریں تاکہ پیسہ پسماندہ اضلاع تک بھی پہنچے عوام کی شراکت پر چند خاندان یا عہدیدار سب نا سنبھال لیں کچھ تو کریں تاکہ ملک میں عوام کے مسائل واقعی حل ہوں
مومنہ اقبال کا پورا ٹبر بلیک میلر نکلا ثاقب چدھڑ بتا رہا ہے رمشا کو میں اپنی بہن سمجھتا تھا اسکو باہر اعلی تعلیم کے سلسلے میں بھیجا وہاں اس نے میرے دوست کی ویڈیو بنائی نقد کیش کا لین دین کرتے ہوئے اور پھر ہراسمنٹ کا کیس کردیا دس لاکھ ڈالر مانگا اور ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں معاملہ رفع دفع کیا ہے پروگرام میں ثبوت بھی دے دئیں
لودھراں:جوکرپشن کرےگاسیدھاجیل جاےگا،کریشن کی بالکل گنجائش نہیں ہے
ڈی پی او لودھراں بینش فاطمہ کا کرپشن کرنے والے افسران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا اعلان۔