صاحبزادہ حامد رضا سے جیل میں اہل خانہ کی ملاقات ہوئی۔ صاحبزادہ حامد رضا کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انکی صحت شدید خراب ہے۔ انکو دل کا عارضہ لاحق ہے مگر انکو صحت کی خرابی پر مناسب اور جائز سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انکی بگڑتی ہوئی صحت کی صورتحال پر انکے ذاتی معالج سے چیک اپ کی اجازت دی جائے، قید تنہائی کو ختم کیا جائے۔ صاحبزادہ حامد رضا کو عید کی نماز باجماعت پڑھنے کی اجازت دی جائے۔
میں یہاں مشہور فلم The Dictator کے کچھ الفاظ کہوں گا ”یہ مصیبت جو آج ہم پر ہے، یہ محض لالچ کا ایک عارضی دور ہے ان لوگوں کی تلخی ہے جو انسانی ترقی کی راہ سے ڈرتے ہیں۔ انسانوں کی یہ نفرت ختم ہو جائے گی، اور آمر (Dictators) مر جائیں گے، اور جو طاقت انہوں نے عوام سے چھینی تھی وہ دوبارہ عوام کے پاس لوٹ آئے گی۔ اور جب تک انسان مرتے رہیں گے، آزادی کبھی ختم نہیں ہوگی“۔مزاہمت زندہ باد ، پاکستان زندہ باد ، آئی ایس ایف زندہ باد، عمران خان زندہ باد
The misery that is now upon us is but the passing of greed - the bitterness of men who fear the way of human progress. The hate of men will pass, and dictators die, and the power they took from the people will return to the people. And so long as men die, liberty will never perish.
احمد مجتبیٰ ممبر پنجاب اسمبلی پاکستان تحریک انصاف
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت ہوتی ہے تو بغیر کسی خوف اور ڈر کے ہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائینگے۔ یہ صرف حکومت خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے۔ اندرونی اختلاف اور غلط پالیسیوں پر تنقید کے باوجود بیرونی سازشوں یا جارحیت میں ہم اپنے ملک اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
وفاقی نمائندوں سے میں نے اپنی آخری ملاقات میں عمران خان صاحب کی دی گئی ہدایات کو آن ریکارڈ لایا تھا۔
”اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ “عمران خان
”تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔ “عمران خان
عمران خان صاحب کے ان ہدایات کے تناظر میں، میں نے وفاقی نمائندوں کو نیشنل جرگہ بنانے کا مشورہ دیا جس میں صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے، قبائلی مشران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مشران شامل ہو۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسائل بہترین انداز میں حل ہونگے۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جنگ سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
ھر جیل ، سخت ھویا نرم ، اپنے قیدی کو ایک بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ھے ، یہ جگ بیتی بھی ھے اور آپ بیتی بھی۔۔
عمران خان صاحب کی ایک آنکھ اور بینائ کے متاثر ھونے کی خبریں تواتر سے آ رھی ھیں، یہ پریشان کُُن ھیں
فوری اور موثر علاج ھر انسان کا بنیادی حق ھے ، میرے نزدیک مریض اگر قیدی ھو اور آپکا سیاسی مخالف بھی ھو تو اسکے حقوق کی حفاظت کرنا زیادہ اھم ھو جاتا ھے
اصولاً عمران خان کے اھل خانہ یا پارٹی کو سپریم کورٹ تک جانے کی ضرورت ھی نہیں پڑنا چاھئیے تھی ۔۔
اس موقع پر انکے دور ِ حکومت میں سیاسی مخالفین سے بدسلوکی کے واقعات دھرانا اعلٰی ظرفی نہیں ھوگا--
حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ھے کہ
1-عمران خان صاحب کی علالت کے حوالہ سے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر سرکاری موقف جاری کیا جاۓ ۔۔
2-عمران خان صاحب کے اھل خانہ سے انکی ملاقات کروائ جاۓ ،
3-انکی منشا کے مطابق ڈاکٹرز کو ان تک رسائ دی جاۓ
4-انکے بہترین علاج کیلئے تمام ممکن اقدامات کئے جائیں
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
"دنیا میں نظام حکومت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا اخلاقی نظام ہر سطح پر، مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی اخلاقیات ہے لیکن عاصم لأ کے تحت موجودہ نظام میں اخلاقیات کی پستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
قرآن پاک میں بارہا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔
موجودہ نظام ظلم اور اخلاقی گراوٹ کی جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا خاتمہ یقیناً اسی نظام کی تباہی پر ہی ہو گا۔ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے، فتح آپ کی ہی ہو گی۔
افغانستان نا صرف دیرینہ ساتھی ہے بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ ایسے میں پوری قوم اور بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جس قدر ممکن ہو انہیں امداد فراہم کریں۔
علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔
موجودہ سیلابی صورتحال میں ہمارے “بلین ٹری منصوبے” کی اہمیت و ضرورت کا ایک مرتبہ پھر بھرپور اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے میرے ویژن کی روشنی میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کو بورس جانسن، ورلڈ اکنامک فورم سمیت عالمی سطح پر شاندار پذیرائی ملی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ “ٹین بلین ٹری” مہم پر ازسرنو توجہ مرکوز کریں۔ سوشل میڈیا بھی اس ضمن میں آگہی مہم کا آغاز کرے تاکہ درخت موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔"
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام
(9 ستمبر، 2025)
1/3
“Those who stole the people’s mandate are gripped by fear. It is because of this fear that oppression against us is intensifying. My wife and I are being held in solitary confinement. We are being subjected to mental torture in an attempt to break my resolve and make me abandon my ideology. The goal of these attempts to break me is nothing but to suppress the voice of the people.
Yahya Khan had adopted this very approach at the time of the Fall of Dhaka.Blinded by his lust to prolong his rule, he unleashed every form of fascism to suppress the people’s voice, and ultimately broke the country apart. All of this is documented in the Hamood-ur-Rehman Commission Report. Today, Asim Munir is also resorting to oppression to extend his rule, making the country weaker.
However, the difference between 1971 and the situation today is the awareness among the masses. Social media has unveiled all the truths before the nation, and the people have learned to rise for their rights against tyranny. That is why this oppressive system will soon crumble. It is time for the people’s voice to be heard.
The country is facing widespread devastation due to floods. Pakistan’s economy was already in shambles, and now,as a result of the extensive flooding, people’s crops and livestock have been destroyed. This has wiped out the agricultural economy and its effects will be felt across the entire nation. In such circumstances, it is essential that relief efforts in flood-affected areas be carried out without discrimination, with everyone playing their part. If I were not in prison, I would certainly have organized a telethon and fundraising campaign for this cause. Government institutions alone cannot tackle a disaster of this scale; every citizen must contribute so that we may confront it collectively as a nation. To prevent future destruction from floods, large-scale plantation of trees must be undertaken urgently.
I strongly condemn the attack on the death anniversary of Akhtar Mengal’s father in Balochistan and extend my condolences to him. The situation in Balochistan is deteriorating with each passing day because the people’s elected representatives are not allowed to govern. Pakistan Tehreek-e-Insaf must fully participate in Mehmood Achakzai’s call for strike on September 8th. The people of Balochistan deserve to be freed from terrorism and the hybrid system imposed upon them.
In Khyber Pakhtunkhwa, an operation has been launched to weaken the government of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The provincial government must immediately put an end to it. I give special instructions to Ali Amin Gandapur that since the people of the province are already suffering due to the floods, this operation must be firmly resisted and stopped. It is the responsibility of the Khyber Pakhtunkhwa government to halt the drone strikes occurring in the tribal districts. Safeguarding the lives and property of the people is the duty of our government.
The earthquake in Afghanistan has left my heart deeply grieved, and I am pained that at a time of such hardship, we are forcibly expelling our Muslim brothers from the country. In this difficult hour, we should be standing with them. The Khyber Pakhtunkhwa government must also extend help to our Afghan brothers.”
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with family members and lawyers in Adiala Jail (September 5, 2025)
“میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک بھر میں جاری افسوسناک سیلابی صورتحال میں ریسکیو اینڈ ریلیف مہم میں ہمیشہ کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیں- تحریک انصاف بھی سیلاب زدگان کے لیے بلاتفریق اپنا کردار ادا کرے۔
میں ہمیشہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے آنے والے نقصانات کے حوالے سے شعور اجاگر کرتا رہا ہوں- ہم نے پہلے خیبر پختونخوا میں”بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا اور وفاقی حکومت میں آ کر “ٹین بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا- اس کے ساتھ متعدد چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کے ڈیمز اور نیشنل پارکس سمیت ایسے اہم ماحولیاتی حفاظت کے منصوبے شروع کروائے جو ماحولیاتی تباہی میں کمی کا باعث بنے- درخت ہی ماحولیات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ ایسے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے-
افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے افغانیوں کے پاکستان سے زبردستی نکالے جانے پر بھی شدید تحفظات اور افسوس ہے۔
خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ علی امین گنڈا پور سمیت صوبائی حکومت کو اس معاملے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ پہلے ہی وہ علاقے سیلاب کی تباہی جھیل رہے ہیں ان حالات میں آپریشن یا ڈرون حملے اور اپنے علاقوں سے بے دخلی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
میری ہدایات کی روشنی میں تحریک انصاف کا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے والے امیدواران بھی داد کے مستحق ہیں۔ جن ارکان نے اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی دیا ہے وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ ان کو یہ بھی ہدایت کرتا ہوں اگر ان کے زیر استعمال کوئی بھی گاڑی یا مراعات ہیں تو اسے فوری واپس کریں۔ پشاور جلسے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ستمبر میں ہی سیلاب کی صورتحال دیکھ کر مشاورت سے کیا جائے۔
تین سال ظلم و جبر سہنے اور حق پر ہونے کے باوجود میں نے ملکی مفاد میں مذاکرات کی بات کی مگر مجھ سمیت میرے خاندان سے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی گئی ، ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور پارلیمان میں ہمارے اپوزیشن لیڈرز تک کو نا اہل کر دیا گیا اس کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ مجھ سمیت میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید کر دیں میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی ان کے آگے جھکوں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (2 ستمبر، 2025)
Our dear Hazel eyed son #Irtiza and many alike we have lost so early in time while protecting our Motherland against all threats, you all must be smiling in Heaven. Your blood is avenged as promised.
Salute to parents and families of our martyrs and ghazis. We owe you so much.
- @narendramodi you were repeatedly warned not to test our resolve and don’t mess with Pakistan. Yours is a real terrorist state with its worst display against innocent Kashmiris in IIOJ&K. Now stop, else be ready for greater consequences at the hands of Pakistan Armed Forces.