تیروں کے مصلے پر وہ سجدہ شکرانہ
شبیرنے بتلایا اسلام پہ مر جانا
کچھ اسطرح لاش آئی اک رات کے بیا ہے کی
افسوس کہ مادر نے بیٹے کو نہ پہچانا
سوچو تو مسلمانوں یہ بات کوئی کم ہے
احمد کی نواسی کا دربار میں آجانا
مجرئی خلق میں اِن آنکھوں نے کیا کیا دیکھا
پر کہیں سِبطِ پیمبَر سا نہ آقا دیکھا
میں نے دیکھا علمِ شاہ کو آلودہءِ خوں
میں نے عباس کو بے جاں لبِ دریا دیکھا
میں نے دیکھا علی اصغر کا گلا خون میں تر
میں نے زخمی علی اکبر کا کلیجہ دیکھا
ایک گٹھری شہِ دیں پشت پہ لائے اس میں
میں نے ٹکڑے ہوئے قاسم کا سراپا دیکھا
بے رِدا خلق نے اُس بی بی کے سَر کو دیکھا
جِس کی مادر کا کسی نے نہ جنازہ دیکھا
کہتی تھیں زینبِ مُضطر کے خدا خیر کرے
رات کو خواب میں عُریاں سرِ زہرا دیکھا
جاکے زینَب نے مَدینے میں کہا صُغرا سے
کہوں کِس مُنہ سے کہ پَردیس میں کیا کیا دیکھا
گِر پڑے سبطِ نبی تھام کے ہاتھوں سے جِگر
علی اکبر کو جو ریتی پہ تڑپتا دیکھا
ہاۓ کیوں ہو نہ گئیں کور کہ اِن آنکھوں نے
قید خانے میں سَکینہ کا جنازہ دیکھا
ظُلم اۓ مُجرئی سجّاد نے کیا کیا دیکھا
گھر لُٹا قید ہوئے باپ کا لاشہ دیکھا
میں نے دیکھا شہِ مظلوم کو خنجر کے تلے
میں نے نیزے پہ سرِ دِلبرِ زہرا دیکھا
بانو رو دیتی تھیں منہ ڈھانپ کے اَصغر کے لیے
کسی عورت کی جو آغوش میں بچہ دیکھا
ؔپھر گیا آنکھوں میں شہ کا رخِ پُر خوں مونس
جب کہیں مقتل شبیر کا نقشہ دیکھا