عمران خان کی ملاقات نہ کروانے کی وجہ سے فوج کو عوامی ہمدردی کا ایک “پھوا” تک نصیب نہیں ہو رہا۔
اس گرمی میں فوج ایک ایک قطرے کی طلبگار ہے لیکن انکو قطرے بھی عوام کے آلہ تناسل سے قطروں کی بیماری والے مل رہے ہیں۔
اخے قبولیت اور مقبولیت کی فوج کو ضرورت نہیں۔ ہمدردی کی بھی نہیں؟
مسئلہ حل ہوتے دیکھ کر اچھا لگتا ہے، سکون ملتا ہے۔۔۔
کیونکہ
“حل وہی ہے”
ڈی جی، او سوہنیا ہُن سینے تے دوہتڑ مار مار کے آکھ ناں کہ نہیں چھوڑیں گے، گھُس کے ماریں گے، وغیرۂ وغیرۂ۔
چونکہ فوج کے افسران 12 پاس ہوتے ہیں اور اگر ایف اے ہو تو ریاضی سے انکا واسطہ ہوتا ہی نہیں۔
عموماً سنا ہو گا کہ 20 فوج ہلاک 20 دہشت گرد بھی ہلاک۔ انکے خیال میں 6 لاکھ فوج ہے اور ایک کا تناسب ایک رہے تو دہشت گرد 10/15 ہزار ہونگے تو وہ ختم ہو جائیں گے۔
کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟
درویش نے 3 سال پہلے بتا دیا تھا کہ فوج اگر تحریک انصاف پر فوکس کرتی رہی تو ٹھکائی فوج کی ہی ہو گئ۔
فوج کو سمجھ ابھی تک نہیں آئی اور یہ خود کو Meat grinder کہتے تھے۔ اب فوجیوں کا قیمہ کون بنا رہا ہے؟
عمران خان یا کوئی اور؟
پشاور کے علاقے حیات آباد میں بم دھماکے کی شدید مذمت کرتا اور زخمیوں کی جلد اور مکمل شفایابی کے لئے دعاگو ہوں۔
جس انداز سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملے بڑھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہے۔
ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہدف بنایا جا رہا ہے اور وہ قربانیاں پیش کررہے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلنے کے جنون سے نکل کر جس میں یہ آج کل مبتلا ہیں، اسے (دہشت گردی کے انسداد کو) ہماری خفیہ ایجنسیوں کی ترجیح ہونا چاہئیے!
بلوچستان میں مذاکرات کا اعلان کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
قومی دہارے میں شمولیت کی آفر، ہتھیار ڈالنے والوں کو استثنا ، قومی حکومت وغیرہ۔ یہ چورن اب نہیں بکنے۔
عمران خان شاید ایک کوشش کر پائے۔
ورنہ
“حل وہی ہے”
کیوں فیر چنگی ہوئی؟
فوج کو مقبولیت سے فرق نہیں پڑتا تھا، اب جب لوکل لوگ دوسری پارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں، انکی سہولتکاری کرتے ہیں تو فوج کی چیخیں سنیں۔
مقبولیت صرف زبان نہیں، عمل میں بھی نظر آتی ہے لیکن فوج کو اتنی عقل ہی نہیں۔
اب مذاکرات کا چورن بیچنے کی ناکام کوشش ہو گی۔
@enkidureborn@THOMASdotEXE اور گوری کے بعد کاغذ پکے پھر پاکستان سے رشتہ دار سے شادی، پوری بات بتائیں۔
کبھی ٹرین کی کھڑکیاں اور پلیٹ فارم سے برف صاف کرنے کا اتفاق نہیں ہوا؟
جیسے آج کل لوگ اصلی و جعلی ورک پرمٹس پر برطانیہ دوڑ رہے ہیں ویسے ہی تب سٹڈی ویزے ہوتے تھے۔ دو کمروں کا کالج ، سال کا ویزہ ، آٹھ لاکھ کی بنک سٹیٹمنٹ ، نا کوئی لینگوئج ٹیسٹ اور نا کوئی رکاوٹ۔ برطانیہ پہنچ کر پتہ چلتا کہ فراڈ ہوچکا ہے۔ ڈگری نہیں یہ کوئی ڈپلومہ سا ہے اور جس پتے پر کالج رجسٹرڈ ہے وہاں پر کوئی دو درجن مزید کالج بھی رجسٹرڈ ہیں۔ اللہ تیری یاری۔ شومئی قسمت عین انہی سالوں میں عالمی مالیاتی بحران آگیا۔ جس کا ساٹھ ستر سو پاونڈ ہفتہ کا کوئی جگاڑ ہوا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اب تین رستے تھے۔ گھر واپسی ، گھر سے پیسے منگوا کر گزارا یا پھر حالات سے لڑائی۔ گھر واپس جاتا تو بڈھا ٹانگ میں گولی ماردیتا۔ گھر پیسے ہوتے تو یہاں امب لینے آتے ، حالات سے لڑنے کا آپشن بچا تھا۔
سات دن دس گھنٹے ایک کار واش پر نوکری ملی۔ کل تنخواہ دو وقت کی روٹی ، کار واش کے سٹورروم میں رہنے کی جگہ تھی۔ ٹپ کا کچھ خاص رواج نہیں تھا۔ جو ہوتی وہ بھی مالک کو دینا ہوتی تھی۔ ہاتھ کی صفائی سے کبھی دس بیس پینی پچاس پینی سائیڈ پر کرلیے جاتے اور بئیر کا ایک آدھ کین آجاتا۔ چھ سات دن بعد ایک جاننے والے آیا تو اس نے ترس کھا کر ایک واٹر پروف سوٹ لے دیا۔ اسکے باوجود ہاتھوں پیروں سے ماس اتر رہا تھا۔ ایک دو جگہوں سے گوشت نظر آنا شروع گیا تھا جس پر کپڑے لپیٹ لیتا۔ دوسرے تیسرے دن ہمت جمع کرکے گھر فون کرلیتا اور اگلی دو تین راتیں رو لیتا۔ نا سوچیں تو کچھ بھی نہیں سوچیں تو اذیتیں بہت۔
ہر وقت کے بھیگے ہوئے کپڑوں کی بدبو ، سٹور میں پڑے مختلف کیمیکلز کی بدبو ، سٹور سے جڑے کسٹمر ٹوائلٹ کی بدبو، لوگوں کی کاٹ کھاتی ہوئی نظریں ، مالک کی روک ٹوک ، ٹکا آمدن نہیں ، پیچھے جو خواب دیکھ کر اور دکھا کر آیا تھا وہ تو کرچی کرچی تھی اب تو جسم بھی ٹوٹتا تھا۔ ادھر ادھر کام ڈھونڈنے کے جتنے جتن تھے وہ کرلیے۔ کرائسسز بڑھتا رہا اور ملنے والی ہر نوکری سخت سے سخت تر۔ لہذا اسی پر گزارا کیا۔
وقت گزر جاتا ہے اور پھر اسکے نقوش بھی مدہم ہوجاتے ہیں۔ اس دور کی ایک ڈائری میرے پاس موجود ہے جو یادیں تازہ رکھتی ہے۔ اس میں وہ خط موجود ہیں جو میں نے ماں کو لکھے ، باپ کو لکھے ، اللہ میاں کو لکھے ، رانو کو لکھے ، اپنے کچھ دوستوں کو لکھے۔ لیکن کبھی پوسٹ نہ کیے۔ ایک تو پوسٹ کرنے کے پیسے نہیں تھے ، اللہ میاں کا ڈاک کا پتہ معلوم نہیں تھا اور ایک موٹی سی ڈائری میں لکھے گئے خط بھلا کیسے پوسٹ ہوسکتے ہیں۔ میں نے کچھ سال دو بس اسی کیفیت میں گزارے۔
پھر وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت کیساتھ ہوتا ہے۔ گزر جاتا ہے۔ اب اگر بتاؤں گا ایک کسٹمر گوری کو مجھ سے محبت ہوئی ، ہم نے شادی کرلی اور مجھے کارڈ مل گیا تو آپ کہیں گے بکواس کرتا ہے ، کروں گا ، میری بکواس میری مرضی۔ اب اس شہر میں میری دس بارہ ملین کی پراپرٹی ہے۔ میری پچھلی گاڑی ایک عدد رینج روور تھی۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ دو عدد مزید بیویوں کی کمی ہے۔ وہ بھی اللہ دے گا۔ ملک کے حالات سے دل اداس ہے۔ کرپشن کی بدبو ، ناانصافی کی بدبو ، عسکری ٹوائلٹ کی بدبو ، معصوموں کے خون کی بدبو ، میں برداشت بھی کرتا ہوں روتا بھی ہوں۔ لیکن مجھے پتہ ہے مشکل وقت کیساتھ ایک بڑا خوشگوار حادثہ ہوتا ہے ، یہ گزر جاتا ہے۔ یہ ساری بدبو ایک دن ختم ہوجائے گی اور ہم صاف ستھرے گھروں میں ، صاف ستھرے بستروں میں ، صاف ستھرے نظام اور صاف ستھری جمہوریت میں اٹھیں گے۔
اگر ہماری انفرادی زندگیاں بدل گئیں تو اجتماعی بھی بدل جائیں گی۔
گروپ کیپٹن صاحب کو سیٹ بیلٹ لگی ہوئی تھی جب انہیں گولی لگی یعنی وہ بیچ بچاؤ نہیں کررہے تھے بلکہ اپنی گاڑی کے اندر موجود تھے۔ معلوم نہیں اب گاڑی میں بیٹھے ہوئے گولی انہیں کیسے جالگی ، لیکن پاک فوج کو یہ معلوم تھا کہ اس حادثے کو بھی ہمدردیوں میں کیسے بدلنا ہے۔ اس سے پہلے پاک فوج ٹریفک حادثے میں مرنے والے رینجرز اہلکاروں کو چھبیس نومبر کے قتل عام کا جواز بنا چکی ہے۔ ان بے حس لوگوں سے کچھ بعید نہیں۔
اگر تبصرہ پاڑوں کا عمران خان سے سابقہ آرمی چیف کی ملاقاتیں والا شغل ختم ہوگیا ہو تو برائے یاد دہانی اطلاع ہے کہ عمران خان کئی مہینوں سے قید تنہائی میں ہے ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے کی اطلاع تین چار مہینے پہلے ایک مبہم سی ملاقات کے بعد آئی اور اب مکمل اندھیرا ہے۔
کچھ عرصہ قبل پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کو خصوصی دعوت پر پاکستان بلایا گیا۔ انکو ریٹرن ٹکٹس بھی دیے گئے ، ان کو ائیرپورٹس پر خصوصی پروٹوکول ملا ، ان کے لیے لاہور میں شاندار تقریبات ہوئیں۔ نہایت پڑھے لکھے ، خوشحال اور جہاندیدہ لوگ اس پر پگھل گئے اور اب اپنی تقریبات میں عمران خان کا چہرہ چھپا رہے ہیں۔ ان حالات میں یئیں یئیں ملک کے یئیں یئیں صحافیوں و تبصرہ پاڑوں پر کیسا افسوس۔
بکواس نسلیں
کبھی امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کا لائف سٹائل دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔ لیکن فوج نے انہیں بھی گھیر لیا۔ پروٹوکول ، پاکستان میں چھوٹے موٹے کام کاج اور ایک آدھ افسر سے تعلقات۔ یہ بس یہیں مر گئے۔ کیسے کیسے برج تھے جو رجیم چینج میں الٹ گئے دور سے کتنے معزز لگتے تھے۔ بڑے بڑے خان ، چوہدری اور وڈیرے فارم سینتالیس کا تھوک چاٹ کر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ تو نظریاتی تھے۔ اصول پرست تھے۔ وہ تو سب سے زیادہ گندے نکلے۔ جس چیز پر ساری زندگی تنقید کرتے رہے اسی کے حمایتی بن بیٹھے۔
زمین سے اٹھا اٹھا کر لوگ اقتدار کے آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ جو یہ ہیرے تراشتا رہا اسکی مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں۔ جن کو اقتدار حکومت مل گیا وہ مڑ کر اسکی خبر بھی نہیں لیتے۔ جس کو جہاں جتنا حرام کمانے کا موقع ملتا ہے وہ کما رہا ہے۔ با عدلیہ سے کوئی بوجھ اٹھاپارہا ہے، نہ انتظامیہ سے ، اس ملک کے کسی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی غیرت نہیں۔
کھلی آنکھوں سے ناانصافی دیکھتے ہیں ، ظلم دیکھتے ہیں خاموش رہتے ہیں۔ جس کے سینے میں خنجر چلتا ہے وہ ایک چیخ نکالتا ہے جو باقی سب سنتے بھی نہیں اور وہ خنجر پھر اپنا نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔ نہ علماء سے کچھ بن پایا نہ وکلاء سے۔ نہ عوام کچھ کرپائے نہ حکمران کچھ کر پائے۔ لیڈر شپ والے تو جیسے ساری کوالٹیز ہی اس ملک میں ناپید ہوچکیں۔ پھر ہم جیسے بچتے ہیں تو منہ چھپا کر چند لفظی نشتر چلا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق بھی ادا ہوا۔ یہ بکواس نسلیں ہیں۔