مولانا طارق جمیل کا پورا حق ہے کہ وہ کسی بھی عورت کو اسکی رضامندی سے ہاتھ ملائیں اور گلے لگائیں۔ چاہیں تو پہلو میں تکیہ بھی لگالیں۔
بس ایک مہربانی کریں
جب دوسروں کی باری آئے تو یہ نہ کہیں کہ یہ دنیا مچھر کا پر ہے، مکڑی کا گھر ہے اور کھوتے کا سر ہے۔
بس انجوائے کریں اور انجوائے کرنے دیں۔
یہ والی چالاکیاں بھی ختم کریں کہ ہم تو دین کی نسبت سے ملتے ہیں۔ یعنی زندگی کی نسبت سے دوسرا ہنسے بھی نہیں، اور خود دین کی نسبت سے چوڑیوں کی دکان میں گھس جاو۔ یہ اچھا ہے۔
باقی رہا وہ بچہ، جس سے مولانا طارق جمیل نے ہاتھ نہیں ملایا، اس کو بہت سارا پیار۔ اس تسلی کے ساتھ کہ شکر کرو کہ حضرت نے ہاتھ نہیں ملایا۔
حضرت نے جس سے ہاتتھ ملایا وہ پھیکا پڑ گیا۔ جس کام کیلیے وہ پیدا کیا گیا وہ اس کام سے ہی گیا۔
آرٹسٹوں فن کاروں اور کھلاڑیوں کو انہوں نے خامخائی کے گلٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ رضوان بیچارے کو دیکھو۔ کہتا ہے، کرکٹ اس لیے کھیلتا ہوں کہ فٹ رہوں، اور دجال کا مقابلہ کر سکوں۔ کرلو بات۔ خیر!!
حضرت کے ہاتھ ملانے سے آپکو دو ہی فائدے ہوتے ہیں۔ مذہب کے نام پر مہنگے ناڑے بیچ لیتے ہیں اور تںلیغی اجتماع میں خواص والے کیمپ میں جگہ مل جاتی ہے۔ دیٹس اٹ۔!!
فرنود
Great to see @MaryamNSharif providing oversight. It’s one thing to launch a project, but the real work is in the follow-up. This is where corruption hides—when officials fail to do their jobs. Accountability is key!
یہ دو مشہور سائنسدان نوجوان نسل کو فزکس پڑھا رہے ہیں ماشاءاللہ
چاند ٹوٹا اور پھر جوڑا کیسے
قیصر راجہ اور ساحل عدیم سے پوچھ لو بھائی۔
آپ کو پی ایچ ڈی، چالیس سال ریسرچ، ساری عمر کوائنٹم پر کام کر کے، کتابیں لکھ کر اور کوائنٹم کی بڑی بڑی تھیوریاں اور تھیورم دے کر بھی نہیں پتا اور ہمارے ان شہزادوں نے ایم اے اسلامیات، منہ ٹیڑھا کر کے آئیلٹس اور پرائیویٹ ایم بی کر کے کوانٹم بلیک ہول پر مہارت حاصل کر لی ہے۔
پھر لوگ کہتے ہیں پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ ٹیلنٹ کی کمی تو باقی ممالک میں ہے نکمے بیٹھے ہیں اتنی تعلیم اور تجربے کے بعد بھی کچھ نہیں پتا۔
قیام پاکستان سے پہلے کی بات ہے ایک گائوں میں کسی کے مویشی چوری ہو گئے۔پولیس نے چوروں کو مویشیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ لیکن چور بڑے طاقتور تھے اور علاقے میں ان کا دبدبہ تھا۔ چنانچہ مویشیوں کے مالکان ڈر گئے اور انہوں نے بیان دے دیا کہ نہ تو یہ مویشی ان کے ہیں اور نہ ہی ان کے مویشی چوری ہوئے ہیں۔ اب مقدمے کا نتیجہ واضح تھا کہ مجرمان نے بری ہو جانا تھا۔ چنانچہ پولیس نے اب ایک دوسرا راستہ اختیار کیا اور مویشیوں کے نئے جعلی مالکان ڈھونڈ نکالے۔ یہ نئے مالکان عدالت میں پیش ہو گئے اور انہوں نے اپنے مویشی بھی پہچان لیے۔چنانچہ مجرموں کو سزا ہو گئی۔ مویشی بیچ کر ان کی رقم ’’ جعلی مالکان‘‘ اور پولیس میں تقسیم ہو گئی۔اصل مالکان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ مصنف لکھتا ہے کہ اگر قانون کے مطابق ہی چلا جاتا تو چوروں کو کبھی سزا نہ مل سکتی۔ کیونکہ برطانیہ کا بنا یا ہوا قانون اتنا پیچیدہ ہے کہ اس خطے میں اس کے تحت انصاف ہو ہی نہیں سکتا۔
ایک اور واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے - ایک گائوں کے کچے مکان کی دیوار توڑ کر چوروں نے کچھ چوری کر لی۔ پولیس نے انتہائی محنت سے چند ہی دنوں میں چور ڈھونڈ نکالے۔ چوروں سے مال مسروقہ یعنی چوری کا مال بھی برآمد ہو گیا۔ مال ایک ایسی جگہ زمین میں دبایا گیا تھا جو غیر آباد تھی۔ اب یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ فرض کریں اب یہ کیس کسی جج کے سامنے پیش ہو ۔ چور بھی عدالت میں لے جا کر کھڑے کر دیے جائیں اور چوری کا مال بھی پیش کر دیا جائے ۔ جج بھی انتہائی ایماندار ہو تو اس صورت میں کیس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ کیونکہ قانون کے مطابق چوری کا مال چوروں کے قبضے سے برآمد نہیں ہوا۔ نہ ہی یہ ان کے زیر قبضہ یا زیر تصرف جگہ سے برآمد ہوا ہے۔بلکہ یہ سامان ایک ایسی جگہ سے نکلا ہے جہاں ہر شخص کی رسائی ہے۔ اس لیے شہادت کمزور قرار دی جائے گی اور ملزمان بری کر دیے جائیں گے۔
ان دونوں واقعات کا تذکرہ ہندوستان میں تعینات برطانوی افسر پینڈرل مون نے اپنی کتاب Strangers in India میں کیا ہے -
پینڈرل مون Strangers in India کے علاوہ بہت ساری کتابوں کے مصنف ۔ برطانوی افسر تھے ۔ ہندوستان میں تعینات رہے ۔ جج بھی رہے اور کمشنر بھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ جو قانون برطانیہ نے ہندوستان میں متعارف کرایا ہے اس سے انصاف نہیں ہو سکتا ۔ یہ نظام پیچیدہ ہے ۔ یہ یہاں کے ماحول کے لیے ناسازگار ہے . یہ عام آدمی کو ذلیل کر رہا ہے اور عدالتوں میں اتنے ظلم ہو رہے ہیں جتنے جنگوں میں بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہ وکیلوں کے مفادات ، پولیس کی غنڈہ گردی اور طاقتور لوگوں کے تحفظ کا ایک منحوس شکنجہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ کتاب 40کی دہائی میں لکھی گئی تھی لیکن زمینی حقائق آج بھی وہی ہیں کیونکہ قوانین وہی ہیں ۔ اس کتاب کو چھپے آج 80 سال ہو گئے ہیں ۔ نتائج آپ کے سامنے ہیں۔
منقول
UNO REVERSE !!!
Everything that this man says in the video which sounds so uncomfortable is asked so comfortably by women these days during groom hunting.
Watch till the end .....
پاکستانی کرکٹ کا بیڑہ غرق کرنے والے مولوی نما کرکٹر
ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے 50 سال عمر کے بعد آخرت میں عیاشیوں کی امید پر ایسا گیٹ اپ بنا لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اور عملی طور پر اپنے کردار اور اعمال کو بدلنے کی ہرگز کوشش نہیں کرتے۔ 🙏
رویت ہلال کمیٹی کا خاتمہ پہلی نشانی ہو گی کہ ملک درست سمت میں چل پڑا ھے-
ہر پلاننگ سے پہلے فیملی پلاننگ دوسری بڑی نشانی ہو گی کہ ہمیں عقل آ گئی ھے-
پولیو کا خاتمہ تیسری نشانی ہو گی کہ ہم مہزب دنیا کا حصہ بننے جا رہے ہیں -
اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی آخری اور سب سے بڑی خوشخبری یہ ہو گی کہ مولوی مسجد تک اور فوجی بیرک تک محدود ہو گیا ھے-
جب تک ان میں سے ایک بھی حماقت باقی ھے ، تب تک سحری تین گلاس لسی پی کر اور افطاری پکوڑے کے ساتھ، عشاء کو بیس تراویح پوری پڑھ کر اگلی سحری تک سو جائیں -
کج نی ہونڑاں!
حافظ حمداللہ کو اور زیادہ غصہ آ گیا تو اپنی سولہ سالہ لڑکی کی شادی مولانا فضل الرحمان سے بھی کر سکتے ہیں۔
خدا ان کے غلیظ غصے سے ہماری بچیوں کو محفوظ رکھے۔
مولوی واقعی اس کائنات کی پسند ترین مخلوق ہیں۔ یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جو دنیا کی ہر غلاظت اپنے مذہب کے چہرے پر مل دیتے ہیں۔