قرآن مجید میں یہ صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ انسان کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اُٹھانی ہے، مزاحمت کرنی ہے۔ تو پھر کیوں ان قرآنی اصولوں کا بلوچ قوم پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا؟
#BalochFightForHumanRights#Balochistan
We are alarmed by the life sentence handed down to prominent Baloch rights activist and Baloch Yakjehti Committee leader Gulzadi Baloch. The use of baseless charges against peaceful activists raises serious concerns about the misuse of laws to silence and criminalise dissent.
Those in power must understand that the criminalisation of peaceful activism will not remain restricted to Balochistan. When the fundamental rights of one community are denied, the rights of others across Pakistan are also put at risk.
I appeal to civil society and the media across Pakistan to stand in solidarity with Baloch rights activists, raise their voices against the blatant misuse of laws, and unite in the struggle to defend our fundamental rights. Your silence today could come at a much greater cost tomorrow for you all.
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (HRF) نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے صوابدیدی حراست میں بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی پاکستان میں عمر قید سزا کے خلاف درخواست۔
ظلم کے خلاف بغاوتیں ضرور جنم لیتے ہیں جب درندوں کو سزا دینے کے بجائے اسمبلیوں میں بٹھا کے مزید طاقتور بنایا جائے۔
ایسے قاتلوں کو ریاست نمائندہ کے طور پہ پیش کرتے ہیں جن کے ہاتھ بے گناہ لوگوں کی خون سے رنگے ہیں۔
ریاست اپنے بنائے ہوئے درندوں کو لغام دینے کے بجائے مزید یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ کسی کی بھی عزت پہ حملہ کریں یا کسی بے گناہ کو قتل کریں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔
کل سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اسمہ جتک کی ویڈیو گردش کر رہی ہے، مگر چونکہ اسمہ کا تعلق بلوچستان سے ہے، اس لیے نہ قومی میڈیا نے اسے اپنی ہیڈ لائن بنایا، نہ کسی بڑے نیوز روم نے اس کی فریاد کو سنجیدگی سے لیا۔ بلوچستان میں اگر ایک لڑکی اپنی اور اپنے خاندان کی جان کی بھیک مانگ رہی ہو، تو یہ بھی اس ملک کے لیے خبر نہیں بنتی۔
اسمہ جتک جنہیں 5 فروری کی رات خضدار میں اس کے گھر سے سردار ثنااللہ کی سرپرستی میں سرگرم اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ظہور جمالزئی نے صرف اس لیے اغوا کیا کہ اس نے شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ اسے تین دن تک جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا، ہراساں کیا گیا، اور دباؤ میں لا کر اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ اس کے خلاف اسمہ کے خاندان اور عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں اسے بازیاب کرایا گیا۔ بعد ازاں حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈز پر دستخط کرتے ہوئے اسمہ اور اس کے خاندان کو تحفظ اور ملوث افراد کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ مگر یہ وعدے بھی ہمیشہ کی طرح کاغذوں تک محدود رہے۔
کل اسمہ جتک ایک بار پھر قرآن ہاتھ میں لیے متعلقہ حکام سے فریاد کر رہی تھی کہ ظہور جمالزئی اور اس کا مسلح گروہ اسے اور اس کے خاندان کو دوبارہ قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے تحفظ دیا جائے۔ مگر چند ہی گھنٹوں بعد اس کے والد کو سرِعام گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے اس کے منگیتر اور ماموں کو بھی قتل کیا جا چکا تھا۔
اب سوال صرف ظہور جمالزئی جیسے مسلح عناصر کا نہیں، بلکہ اس ریاست اور یہاں کے قانونی نظام کا ہے جس کے سائے میں ایسے گروہ اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ اغوا کریں دھمکیاں دیں قتل کریں، مگر قانون ان تک نہ پہنچ سکے۔ بلوچستان کا اصل المیہ چند غنڈے نہیں، بلکہ وہ قانونی، سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ہے جو ایسے عناصر کو تحفظ دیتا اور انہیں قانون سے بالاتر بنا دیتا ہے۔
حکومتِ بلوچستان کو جواب دینا ہوگا کہ جنوری 2025 میں جس چارٹر آف ڈیمانڈز پر اس نے دستخط کیے تھے، اس کی حیثیت کیا تھی؟ اگر سرکاری ضمانت کے باوجود ایک خاندان کو تحفظ نہیں مل سکتا تو پھر حکومت کے دستخط، وعدے اور بیانات محض احتجاج ختم کرانے کے کاغذی حربے تھے۔
بلوچستان حکومت جو آئے روز اپنی کارکردگی اور گڈ گورننس کے دعوے کرتی ہے، کیا آج اسمہ جتک اور اس کے خاندان کو انصاف دے سکے گی؟ کیا وہ بااثر مسلح عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ثابت کرے گی کہ بلوچستان میں قانون طاقتور اور کمزور، دونوں کے لیے برابر ہے؟
اگر اس بار بھی انصاف نہ ملا اور تحفظ کے وعدے کاغذوں تک محدود رہے، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ نام نہاد سردار عوام کے نمائندے نہیں، بلکہ بلوچ سرزمین پر مسلط ایسے بااثر غنڈے اور کرائے کے قاتل ہیں جو ہر قسم کی قانونی جوابدہی سے محفوظ ہیں۔
خضدار: ’’کفن تیار کرلو‘‘ کی دھمکی کے چند گھنٹے بعد اسماء جتک کے والد قتل، خاندان کا ایک اور چراغ بجھ گیا
خضدار میں اسماء جتک کا معاملہ ایک بار پھر سنگین سوالات کے ساتھ سامنے آگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’’کفن تیار کرلو‘‘ کی دھمکی ملنے کے چند ہی گھنٹوں بعد اسماء جتک کے والد کو قتل کر دیا گیا۔
خاندان کے مطابق گزشتہ 13 سال سے اسماء جتک کو کسی دوسری جگہ رشتہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ آبائی علاقے سے نقل مکانی کے باوجود مبینہ طور پر دھمکیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
منگیتر اور ماموں کے بعد اب والد کا قتل—اس تنازع میں خاندان کے تیسرے فرد سمیت مجموعی طور پر چھ افراد جان سے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک رشتے سے انکار کی قیمت اتنی خوفناک کیوں بنتی جا رہی ہے؟
آخر اس سب کے پیچھے کون ہے؟
اگر ایک خاندان مسلسل دھمکیوں کی شکایت کرے، جان کے خطرے سے آگاہ کرے، حکام کو درخواستیں دے اور اس کے باوجود ایک کے بعد ایک افراد قتل ہوتے رہیں تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ قانون کی گرفت کہاں ہے؟
کیا اس معاملے کے پیچھے کوئی بااثر شخص یا منظم گروہ موجود ہے؟ اگر ہے تو وہ کون ہے؟ اور اگر نہیں، تو پھر مسلسل ہونے والے ان واقعات کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام کیوں رہے؟
خاندان کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو پانچ مرتبہ درخواستیں دی گئیں، مگر تاحال کوئی مؤثر شنوائی نہیں ہوئی۔
یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا سوال ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بلوچستان اس معاملے کا غیرجانبدارانہ، شفاف اور فوری تحقیقات کرائے، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور اسماء جتک اور اس کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔
آخر چھ قیمتی جانیں لینے کے بعد بھی یہ سلسلہ کب رکے گا؟
اور کب تک ایک خاندان انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے گا؟
🧵 خضدار واقعہ: ایک لڑکی کی اغوا، دھمکیوں اور اس کے والد کا قتل ایک ۔تفصیلی تھریڈ
گزشتہ سال خضدار سے ایک لڑکی کے اغوا کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بلاک کی اور دھرنا دیا، جس کے بعد انتظامیہ دباو میں آگیا ڈرامی انداز میں لڑکی کی بازیابی عمل میں آئی۔
I’m pleased to share that three renowned and highly respected international human rights organizations, the Human Rights Foundation (@HRF), @freedomhouse, and @Hindus4HR, have filed a petition with the UN Working Group on Arbitrary Detention (WGAD) on behalf of my incarcerated sister, the renowned Baloch human rights defender Dr. Mahrang Baloch, who is serving a life sentence in Pakistan.
#ReleaseMahrangBaloch
https://t.co/hphUIZL9B7
𝗕𝗬𝗖 𝗖𝗲𝗻𝘁𝗿𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗺𝗯𝗲𝗿, 𝗦𝗮𝗺𝗺𝗶 𝗗𝗲𝗲𝗻 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗘𝗻𝗴𝗮𝗴𝗲𝘀 𝗨𝗡 𝗦𝗽𝗲𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗥𝗮𝗽𝗽𝗼𝗿𝘁𝗲𝘂𝗿𝘀 𝗮𝘁 𝗔𝘀𝗺𝗮 𝗝𝗮𝗵𝗮𝗻𝗴𝗶𝗿 𝗖𝗼𝗻𝗳𝗲𝗿𝗲𝗻𝗰𝗲
Sammi Deen Baloch attended the #AJCONF2026 where she engaged with various Ambassadors, political figures, journalists, and reporters, raising critical human rights concerns and advocating for the voices of the Baloch people.
She met with Ms. Gina Romero, the UN Special Rapporteur on the Rights to Freedom of Peaceful Assembly; Ms. Reem Alsalem (Jordan), @UNSRVAW the UN Special Rapporteur on violence against women and girls; and Ed O’Donovan, Senior Advisor to the UN Special Rapporteur on Human Rights Defenders, Mary Lawlor. During these meetings, she briefed them on the situation in Balochistan, where freedom of assembly and freedom of expression have been criminalised, and where people are denied the right to protest or voice opposition to state repression.
She further highlighted state violence against Baloch women, including the enforced disappearances of women and underage girls, as well as the illegal arrests of Baloch women, including Dr. Mahrang. She also discussed the systematic targeting of human rights defenders through threats, harassment, enforced disappearances, arbitrary arrests, and killings, including the cases of Dr. Mahrang Baloch, Beebow Baloch Gulzadi Baloch, and others. The UN representatives expressed serious concern and assured her that they would play an active role in addressing these grave human rights violations and raise these issues on UN platforms.
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
#EndEnforcedDisappearances
𝗙𝘂𝗹𝗹 𝗗𝗮𝘆 𝗫 𝗖𝗮𝗺𝗽𝗮𝗶𝗴𝗻
It’s been more than a month since Nazar Marri son of Said Ali, a prominent member of Baloch Yakjheti Committee (BYC) and Political worker, was forcibly disappeared from Quetta, Balochistan. In response the BYC has announced a full Day campaign on X (formerly Twitter) to demand his immediate safe release.
We request and urge people from everywhere to play their part by joining our campaign.
#ReleaseNazarMarri
#ReleaseBYCLeaders
Date: 2 October 2025
Day: Thursday
مھر کہ وفا ئے نام اِنت،
مھر کہ وتی سنگت ءُ ہمراہ ئے گُما اُشت ایگ ئے نام اِنت،
مھر کہ اے ظالم ایں نا سور اے پیش داراگ ایں کہ ما انگا نپروشت اگیں۔
#ReleaseBYCLeaders#StopBalochGenocide
جنید کو 8 اکتوبر 2024 اور یاسر کو 11 اکتوبر 2024 کو جبراً لاپتہ کیا گیا۔ ایک سال گزر جانے کے باوجود وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ایک ہی گھر سے دو افراد کا جبری لاپتہ ہونا اہلِ خانہ کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی قیامت بن چکا ہے۔ وہ مسلسل اذیت، بے یقینی اور انتظار میں زندگی گزار رہے ہیں۔
جنید اور یاسر کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
#ReleaseJunaidAndYasirHameed
جبری طور پر چار ماہ سے لاپتہ یونس بلوچ بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں، تاہم یونس کی بہن ماہ جبین بلوچ تاحال جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ ماہ جبین کو، یونس کی جبری گمشدگی کے صرف تین دن بعد، سول اسپتال کوئٹہ کے ہاسٹل سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، ان کی گمشدگی کے بعد سے آج تک ان کی زندگی اور خیریت کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی اطلاع نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اب خواتین تک جا پہنچے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے، جو اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔
ہم تمام انسانی حقوق کے اداروں، تنظیموں اور کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ماہ جبین بلوچ کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
#ReleaseMahjabeenBaloch
میں اس بات پر بہت محتاط ہوکر بات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ ہماری ریاست سمیت سب کو مجھ سے بلاوجہ کا خار چڑھا میری ہر بات زہر لگتی ہے۔ اب ڈاکٹر ماہرنگ کے بہن @NadiaBaloch99 کا ٹویٹ دیکھا کہ اس نے لکھا تھا ڈاکٹر ماہرنگ سمیت بیبو بلوچ ، گلزادی، شاہ جی، بیبرگ کا کیس اب جیل ٹرائل کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ میرا بلوچستان بار میں رہنے والے ان تگڑے وکلاء سے سوال ہے کہ الیکشن میں آپ بڑی بڑی باتیں کر رہے ہے مگر آپکے ناک کے نیچھے قانون و انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہے ، مجھ سمیت سب اپنا دامن بچا بچا کر چکتے ہے کچھ خاندان کے مجبوریوں کی وجہ سے کچھ سسٹم میں اپنا حصہ مانگنے کی وجہ سے کہ عدلیہ میں کوئے جسٹس آئے کوئی پراسیکیوٹر آئے۔ یہ لالچ یہ خود غرضی اگر آپکو لگتا ہے کہ آپکو فائدہ دیں گی تو یہ آپکی خوشفہمی ہے۔ باقی اسٹبشمنٹ سمیت سب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا ڈاکٹر صاحبہ یا اسکا ٹیم احسان اللہ احسان سے زیادہ خطرناک ہے جنکی آپ جیل ٹرائل کر رہے ہے؟ اور اب جبکہ انکا جوڈیشل ہوگیا ہے تو ۱۸ تاریخ سے انکے وکلاء نے انکی ضمانت کے درخواست جمع کی سے سرکار ریکارڈ پیش کرنے میں تاخیر کیوں کر رہے ہے۔اب تو نہ کوئی ریمانڈ ہے نہ فردر انکوائری اب تو ضمانت انکا حق ہے۔ پھر یہ حق کن کے ایماء پر چھینا جارہا ہے؟
یہ کیس ایک نہیں اگر ایسے ہے انصاف کا قتل ہوتا رہے گا تو مجھے بتائیں کل کس کو انصاف ملے گا؟ اگر ریاست ، ججز اور وکلاء کی قانون کا خود مذاق بنائیں گے تو کل ان عدالتوں کے دروازے پر کون آئے گا؟ بار میں سب خود کو سیاسی کارکن کہتے ہے تو پھر سیاسی کارکنوں کے لئے کھڑا کیوں نہیں ہوتے؟
باقی اچھا ہے میں وہاں سے نکل گئی کیونکہ جس نوعیت کا سماج وہاں وقوع پذیر ہورہی ہے انسانیت بھی شرما جائے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا مقدمہ اور نئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے سنگین اثرات
ایک سرکاری وفد نے کل ہدہ ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کی دیگر قیادت کی سماعت جیل میں ہوگی یعنی عدالتی ٹرائل کے بجائے جیل ٹرائل۔ یہ فیصلہ آئینِ پاکستان، شفاف عدالتی نظام، اور عدلیہ کی آزادی پر کھلا حملہ ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ,اور بی وائی سی کی باقی قیادت کو عوام سے چھپانے کی کوشش دراصل ریاست کے خوف اور کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی عدالت میں موجودگی نے عوام میں نئی امید، حوصلہ اور مزاحمت کی روح پھونک دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست چاہتی ہے کہ ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کی باقی قیادت کو عوام کے سامنے نہ آئیں کیونکہ ان کا وجود ہی عوامی بیداری کی علامت بن چکا ہے۔
عوام کو حق ہے کہ وہ جانیں کہ ماہ رنگ بلوچ اور دیگر قیارت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ جیل ٹرائل، خفیہ عدالتیں اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے
فیصلے انصاف نہیں ظلم کی توسیع ہیں۔
#ReleaseBYCLeaders