جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، اُنہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دِفاع میں لڑیں) کیونکہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دِلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
﴿سورۃ الحج ، ۳۹﴾
زمانے کی قسم، انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اِیمان لائیں، اور نیک عمل کریں، اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔
سورۃ العصر
پھر ہوایہ کہ ہم نے ان کو (یعنی لوط علیہ السلام کو) اوران کےگھر والوں کو (بستی سے نکال کر)بچالیا، البتہ ان کی بیوی تھی جوباقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے)
اور ہم نےان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو ! ان مجرموں کاانجام کیسا(ہولناک) ہوا؟
﴿الاعراف، ۸۳۔۸۴﴾
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
(صحیح بخاری، ۳۳)