میڈرڈ کے پلازا سیبیلیس میں جشن کا ایسا سماں ہے کہ ہر طرف خوشیوں کی روشنی بکھری ہوئی ہے۔ 🇪🇸✨
ہزاروں ڈرونز نے آسمان کو ایک جیتے جاگتے شاہکار میں بدل دیا، اور چیمپئنز کے اعزاز میں پیش کیا جانے والا یہ شاندار لائٹ شو ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہا ہے۔ واقعی، اسپین میں فتوحات کا جشن کچھ یوں منایا جاتا ہے۔ 🏆
کراچی کماڑی سکندراباد سے دو سالہ بچی نام زینب گم ہوئی ہے تین مہینے ہو گئے ہیں جس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ان کے گھر والے بہت پریشان ہیں وہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کی بچی کو جلد بازیاب کرایا جائے اور انہوں انصاف دیا جائے انہوں نےنشاندہی بھی کرائی ہے مگر پولیس نے ان سے بھاری رقم لے کے ان کو رہا کر دیا خدارا کب تک ایسے معصوم بچے اغوا ہوتے رہیں گے۔
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
بخدمت خدمت جناب کنٹرول روم وا کینٹ
گزارش ہے کہ میں ایک معذور ہوں اور وہاں جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی کرتا ہوں اور روز میرا بستی شریف ہسپتال والا بیریل سے گزرنا ہوتا ہے مجھ کو ایک اوارہ لڑکا دو تین دن سے تنگ کر رہا ہے جو میری معذوری کا مذاق اڑاتا ہے اور مجھے تنگ بھی کرتا ہے اج میری شور ڈالنے پر اس نے مجھے روک کے تھپڑ بھی مارا بالکل بستی بیریل کے پاس شریف ہسپتال والا جو ایچ بی ایل بینک کی طرف ہے ۔ میں نے اج چوکی نمبر تین میں درخواست دی ہے پولیس والے کہتے ہیں اس نامعلوم لڑکے کی سی سی کیمرہ نکال کے لے کے اؤ تاکہ ہم اس لڑکے کو تلاش کر کے اس کے خلاف ایکشن لے سکیں برائے مہربانی اپ سے گزارش ہے تشریف اسپتال ایچ بی ایل بینک کی طرف جو بستی والا بریل ہے اس کی سی سی ٹی وی کیمرہ نکال کے دیا جائے ٹائم اور وقت 18 جولائی 2026 ٹائم صبح کے اٹھ بج کے پانچ سے لے کر 12 منٹ کے کے درمیان ہے شکریہ اپ کی عین نوازش ہوگی
@Rporwp@OfficialDPRPP
آج دل نے فرمائش کی کہ دنبے کا گوشت کھایا جائے۔ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ کا رخ کیا، جہاں برسوں سے ایک “معروف” اور “صاف ستھری” گوشت کی دکان براجمان ہے۔ ریٹ پر نظر پڑی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دکاندار کو آواز دی: “بھائی جان، یہ میری نظر کا دھوکہ ہے یا واقعی ڈیڑھ کلو گوشت ساڑھے سات ہزار کا ہے؟” جواب ملا: “جی جناب، بالکل درست فرمایا۔” میں نے حساب لگایا، تین کلو لیا جائے تو پندرہ ہزار سے اوپر بنتا ہے۔ اس نے مسکرا کر تصدیق کر دی، جیسے یہ کوئی معمولی سی بات ہو۔
میں نے پوچھا: “یہ ریٹ صرف آپ کی دکان کا ہے یا پورے اسلام آباد کا؟” جواب آیا: “نہیں جناب، یہ ہمارا اپنا ریٹ ہے۔”
سن کر خیال آیا کہ ہمارے پسماندہ علاقوں کی طرح، دارالحکومت میں بھی کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں امیروں کے شہر میں شام تک مٹن، بیف، چکن، لیمب — سب بک جاتا ہے، بغیر کسی روک ٹوک کے۔ نہ کوئی قیمت پوچھنے والا، نہ کوئی حساب لینے والا۔
سچ یہی ہے: ساکوں رج کے لٹ، ساڈا کوئی کائنی
@dcislamabad@ccislamabad@ICT_Police@CDAthecapital
جو یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست اتنی مایوس ہو گئی ہے نا امید ہو گئی ہے کہ فیلڈ مارشل کو ایک نمائندہ نامزد کرنا پڑ گیا کعدم ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کے لئے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ٹی ایل پی والے فیض آباد میں بڑی تقریریں کرتے تھے جب وہ غلط سمیت پہ گئے تو اب سعد رضوی کا پتہ نہیں وہ کہاں ہے ریاست کے مسائل ہیں لیکن وسائل بھی ہیں حکومت پس پردہ مذاکرات کرتی ہے بہت اچھی بات ہے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے کشمیر کے نوجوانوں کو بھی سوچنا چاہیے کیا اچھا ہے کیا برا ہے طعلت حسین
مظفر گڑھ سے شروع ہونے والا "سانجھی سبزی" منصوبہ عوامی فلاح کا ایک منفرد ماڈل بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سرکاری اراضی پر موسمی سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں جہاں سے ضرورت مند خاندانوں کو مفت سبزیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ عوام کی رضاکارانہ شمولیت نے اس منصوبے کو مزید مؤثر بنایا، جس کے بعد وزیراعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں بھی "سانجھی سبزی" منصوبہ شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
روس میں میٹرو ریل اسٹیشن پر تیس بیٹھکیں نکالیں۔اور ٹرین کی فری ٹکٹ لیکر سفر کریں یہ طریقہ روسی حکومت نے عوام کو ورزش کی ترغیب دینے کیلئے اور ھیلتھ بجٹ کنٹرول کرنے کے لئے اختیار کیا ھے۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
اس نوجوان کا نام کاشف علی ہے اور والد کا نام خالد ہے۔
کاشف کا کہنا ہے کہ وہ لاہور کے قریب کسی گاؤں کا رہائشی ہے۔والد بھینسیں چراتا تھا۔کام سے بھاگ جایا کرتا تھا والد اسے پکڑ کر گھر لےآتا۔
آخری بار جب گھر سے بھاگا تو ایک شیلٹر کے ہاتھ لگ گیا،وہاں سے کراچی منتقل کردیا گیا۔
کاشف کا کہنا ہے جب جڑا ہوکر شیلٹر سے نکلا اپنا گھر ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے علاقے کا نام یاد نہیں ہے۔
کاشف علی کو اپنے والد خالد کا نام یاد ہے،والدہ کا نام نجمہ یاد ہے۔ دو بھائی تھے انکے نام یاد نہیں ہیں۔تین بہنیں ہیں،ایک کا نام کومل یاد ہے۔قوم دیندار بتاتا ہےمادری زبان پنجابی ہے۔
اپنے علاقے میں نمبر دار اصغر کا نام یاد ہے۔
فائل میں گاؤں کا نام "باکوال" سے ملتا جلتا لفظ لکھا ہے۔
سال 2010 میں گھر سے نکلا تھا۔
تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں،کاشف کو اسکے خاندان سے ملاکر ڈھیروں دعائیں سمیٹیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
8 july 2026
#waliullahmaroof #punjab #PakistanZindabad
ایک بہن آپ سے کیا فریاد کررہی ہے ضرور پڑھیں۔۔!!
"بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ،
میرا نام فردوس ہے، میرے والدین نے میرا نام ببلی رکھا، اور وہ مجھے اسی نام سے پکارتے تھے، ہم ایک بہن اور ایک بھائ یعنی ہم دو تھے، بھائ مجھ سے 2 سال بڑا تھا، میری کہانی بھی عجیب رہی ہے کہ جب میں 2 ماہ کی تھی تو میرے والدین کے درمیان گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے آپس میں طلاق ہوگئی، اور ہم بہن بھائی اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے نانا اور نانی کے گھر آگئے، پھر کچھ ماہ بعد جب میں 6 ماہ کی تھی تو میری والدہ بھی انتقال کرگئیں، یوں ہم بہن بھائی اپنی نانی کے پاس اکیلے رہ گئے، اور ہماری پرورش نانی کے گھر ہونے لگی، ہم جب بچپن میں تھے اور ہوش سنبھالا تو ہم اپنے نانا نانی کو ہی اپنے والدین سمجھتے تھے کیونکہ ہم اپنے والدین سے لاعلم تھے، ہمارے والد نے بھی کبھی ہمیں نہیں تلاش کیا، وقت گزرتا گیا اور پھر خاندان کے لوگوں سے پتہ چلا کہ یہ ہمارے والدین نہیں بلکہ نانا اور نانی ہیں، جسکا بہت گہرا اثر ہم بہن بھائی کے ذھنوں پہ ہوا، ہمیں والدہ کے متعلق تو پتہ چل ہی گیا تھا کہ انکا انتقال ہو گیا تھا، لیکن ہمیں اپنے والد کی کوئ خبر نہ ہوئی کہ وہ کہاں ہیں، کیونکہ ہمارے والد نے بھی کبھی ہماری خبر ہی نہ لی تو ہمیں کیسے انکی کوئ خبر ہوتی، نانا نانی اور خاندان کے دیگر لوگوں نے بھی انکے متعلق ہم سے چھپایا، بہرحال خاندان کے ہی کچھ لوگوں سے والد کے متعلق تھوڑا بہت پتہ لگ سکا، پھر جب بھائی 18 سال کا ہوا تو اسکا بھی ایک حادثے میں انتقال ہوگیا اور میں اس دنیا میں بلکل تنہا رہ گئ،
پھر چند سال بعد میرے ننہیال والوں یعنی میرے نانا نے میری شادی بھی کر دی، میرے شوہر سے میرے 3 بچے جن میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، پیدا ہوئے، پھر 2015 میں میرے شوہر کینسر کی بیماری کے سبب انتقال کرگئے، پھر جیسے تیسے محنت مزدوری کرکے پچوں کی پرورش کی، ماشاءاللہ اب
تینوں بچے جوان ہو چکے ہیں، ایک بیٹے کی شادی بھی کردی ہے، الحمدللہ سب بچے تعلیم سے فارغ اور صاحب روزگار ہیں، کسی چیز کی کو کمی نہیں بس ایک یہی خواہش رہ گئ ہے کہ ایک مرتبہ اپنے باپ سے مل لوں انکو دیکھ لوں، اور ان سے پوچھوں کہ کیا وجہ تھی کہ آپ نے ہمیں کبھی کیوں نہ ڈھونڈا ؟
اگر میرے جو بھائی بہن انکو تلاش کرنے میں مدد کریں گے تو میں زندگی بھر انکا احسان یاد رکھوں گی، میرے والد کا سابقہ پتہ درج ذیل لکھ دیا گیا ہے، لیکن اب انکی رہائش اس پتہ پر نہیں ہے۔
میرے والد کا سابقہ پتہ : جمیل احمد ولد: محمد یونس
مکان، ڈبل اسٹوری نمبر 10 بسم اللّٰہ مارکیٹ، نزد چراغ ہوٹل لانڈھی نمبر 5 کراچی۔والسلام ۔"
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
ایک تنہا خاتون کو انکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
8 july 2026
#waliullahmaroof #karachi
ان صاحب کا نام علی اصغر ہے اور والد کا نام محمد ابراہیم ہے
علی اصغر صاحب کراچی کے علاقے ناظم آباد گول مارکیٹ کے رہائشی ہیں۔
علی اصغر صاحب کچھ عرصے سے ذہنی تناؤ کا شکار تھے،،انکا بیٹا انہیں ماہر نفسیات کے پاس علاج کے لئے بھی لیجاتا رہا ہے۔
گھر میں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔خود اپنا کام کاج بھی کرتے تھے جب بیمار ہوئے تو بچے بہت اچھی طرح سنبھال رہے تھے۔
دو جولائی 2026 کو اصغر صاحب گھر سے نکلے، چھوٹے بیٹے اور اہلیہ نے پیچھا کرکے ڈھونڈنے کی بھی کوشش کی لیکن کس رخ پر نکلے پتہ نہیں چلا
کراچی کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ انکی تلاش میں مدد کریں۔کسی ہنستے مسکراتے گھرانے پر اچانک اس طرح کی مشکل آئے تو سارا گھر ویران ہوجاتا ہے۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
7 july 2026
#waliullahmaroof
ایک اچھی خبر یہ کہ بلڈ کینسر کے علاج کے لیے بڑا بریک تھرو کیا ہے اور یہ پاکستان آرمی کے میڈیکل کور نے آرمی بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر نے کیا ہے پاکستان میں پہلی CAR T-cell therapy کا کامیاب تجربہ کیا ہے یہ بلڈ کینسر کا جدید ترین علاج جس میں خون کے وائٹ بلڈ سیل میں سے ٹی سیل لے کر ان کو جینٹیکلی انجئینریر کر کے جسم میں داخل کرتے اور وہ کینسر کے سیل کو تباہ کر دیتے اس کو living drug کہتے اور یہ بلڈ کینسر کے مریضوں کے لئے بہت بڑی خبر ہے
اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔ گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof #sindh #PakistanZindabad #MissingChild #sukkur #Sindhi
"السلام علیکم محترم!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگے
آپکی مدد کی ضرورت ہے
میں بچپن میں کھو گئی تھی تقریبا 4 یا 5 سال کی ہونگی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں آئی تھی وہاں سے باہر چیز کے لئے باہر نکلی تو میں گھر بھول گئی ایسے چلتے چلتے پھر کسی روڈ پر رکی تو وہاں ہوٹل تھا ایک شخص تھا وہ مجھے گھر لے گیا وہ کچھ پوچھ بھی رہا تھا شاید میں اسکی زبان نہیں جانتی تھی اسلئے کچھ نہیں بولا مجھے اپنا نام گھر والوں کے نام کچھ بھی یاد نہیں ہے بس یہ واقعہ یاد ہے
خیر پھر کچھ دن اس شخص نے مجھے اپنے گھر رکھا اس دن کی پک بھی بنوائی تاکہ ماں باپ کو ڈھونڈا جاسکے لیکن نہیں ملے کراچی نارتھ ناظم آباد یونین کونسل کے ذریعے میں ایک فیملی کے زیر نگہداشت میں آئی اب 21 سال کی ہوں انہوں نے ہی تعلیم و تربیت کی ابھی تک میرے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں چلا آپکی وال دیکھی آپ نے کتنے لوگوں کو انکے گھر والوں سے ملوایا مجھے اللہ سے امید ہے آپ کے ذریعہ وسیلہ بنے ان شاء اللہ تعالٰی میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایک دن اپنے گھر والوں سے ضرور ملوں گی بس آپکی مدد کی ضرورت ہے
میرے 3 بھائی تھے 2 بہت بڑے تھے ایک کی شادی ہوچکی تھی اور یہی انکو بجلی کا کام بھی آتا تھا اور ایک پانی کا ٹینکر چلاتے تھے اور ایک مجھ سے ایک سال بڑا ہوگا یا دو سال میری جیسی شکل کا تھا اور 3 ہی بہنیں تھی ایک شادی شدہ تھی اور دو ہم عمر تھی شاید جڑواں ایک کا رنگ کافی گورا تھا اور ایک سانولی گھر میں سب سے چھوٹی تھی
گھر سے تھوڑا دور شہر لگتا تھا جہاں سپیوں کی فیکٹری تھی ایک بار بہنوں کے ساتھ گئی تھی
اور گھر کے برابر میں قبرستان تھا اور اسی کے سامنے مسجد یا مدرسہ تھا قبرستان ایسا تھا کہ ہم دیوار سے جھانک لیا کرتے تھے گھر میں توری کی بیل تھی
یہ کنفیوژن ہے کہ جسکو میں بہن بھائی سمجھ رہی ہوں شاید رشتہ دار ہوں جوائنڈ فیملی سسٹم ہو ۔
امی کا چہرہ گول تھا جیسا میرا ہے والد کا لمبا قد تھا سفید داڑھی تھی ناک بھی لمبی تھی دبلے پتلے تھے ایک بار یاد ہے مجھے بخار ہوا تو والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا تھا تو روئی تھی والد صاحب نے کہا چیونٹی کاٹ کر چلی گئی وہ کندھوں پر بٹھا کر جھلاتے تھے جب شیو کرتے تھے تو ایک بار میں نے بھی انکی نقل کی تھی اور
گھر ہمارا فرش پکا مکان تھا گھر میں ٹینک بھی بنا تھا شاید باہر گھر کی دہلیز پر ہم نے سپیاں بھی لگائی تھی۔
جنکو بہن بھائی اور والد کہہ رہی ہوں شاید وہ کوئی اور ہوں
*کھونے کا دن*
اس دن ہم اپنے گھر سے اپنے ماموں کے گھر آئے تھے یا شاید کوئی رشتہ دار مجھے لگتا ہے کہ ماموں کی ٹانگ ٹوٹی تھی انکو دیکھنے آئے تھے ہم کسی بس میں سوار ہو کر آئے تھے جیسے کراچی میں w11 ہوتی ہے ویسی گھر پکا تھا گھر کے سامنے دوکان تھی پہلے ہم بچے ساتھ مل کر چیز لینے گئے اسکے بعد میں نے امی سے ضد کی کہ مجھے دوبارہ چیز لینی ہے انہوں نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی پھر انہوں نے سکہ دیا میں باہر گئی ننگے پیر کیونکہ سامنے دوکان تھی اور یہ ذہن میں رکھا تھا کہ گھر کے دو دروازے ہیں براؤن یا مہرون یہی کلر تھا پھر میں چیز لے کر مڑی تو مجھے ہر گھر کے دو دروازے دکھے اور وہ بھی ایک ہی کلر کے جو گھر دیکھتی دو دروازے اور ایک جیسے کلر پھر چلتے چلتے کافی دور ہوگئی اندھیرا ہونے لگ گیا تھا پہلے دن تھا اور ایک جگہ ڈھال سے جیسے پہاڑی سے نیچے اترے ایسی جگہ تھی اور شاید کوئی ندی کی طرف کوئی علاقہ تھا میں بس دیکھا لیکن وہاں گئی نہیں سیدھی سیدھی چلتے چلتے شہر کی طرف آگئی جہاں ہوٹل اور ٹریفک تھا وہاں سامنے ایک پٹھان لڑکا میرے پاس کچھ بولتا ہوا کچھ پوچھ رہا تھا میں نے شاید جواب دیا پھر وہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا انہوں نے ایک ہفتہ رکھا تصویر بنائی اور بہت ڈھونڈا ان کے گھر کبوتر تھے جو پٹھان لڑکا تھا ایک بار انکے گھر سے بھی نکلی تھی تو بیچ میں چورنگی تھی اور چار راستے تھے پھر وہ پٹھان انکل مجھے لینے اگئے کیونکہ زیادہ دور نہیں تھا اور انکا گھر میں روڈ پر تھا بڑے بڑے گھر تھے پھر کچھ دن بعد یا موجودہ والد مجھے لینے اگئے اور جب میں باہر کمرے سے نکلی تھی میرے پاس وہی فراک تھی جس دن کھوئی تھی وہ کپڑے پہنے تھے انہوں نے باندھ کر دی تھی ان کے گھر سے پیلے رنگ کا سوٹ پہن کر نکلی تھی (پٹھان کے گھر سے) باہر انکا لان بنا تھا وہاں میرے موجودہ والد کسی پیپر پر سائن کر رہے تھے پھر انکے ساتھ میں گھر آگئی
والسلام علیکم"
یہ تصویر گمشدگی کے روز کی ہے 2008 میں
اپنی بہن سمجھ کردنیا بھر میں اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
یہ کیسی وزیراعلی ہے کہ نا گالم گلوچ کر رہی ہے نا دھمکیاں لگا رہی ہے نا بھڑکیں لگا رہی ہے صرف اتنا کہہ رہی ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں لوگوں کے لیے کیا کر سکوں گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے وہ کیسے پتہ چلے گا یہ والدین کی بھی زمہ داری ہے
اس بچے کا نام ابوبکر ہے اور والد کا نام بابر ہے
ابوبکر کی عمر 9 سال ہے اور ذہنی طور پر مکمل ٹھیک نہیں ہے۔
آجبسے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل ابوبکر کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوا تھا۔آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کے والدین اپنی زندگی جینا چھوڑ چکے ہیں،صبح شام اپنے لخت جگر کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں ملا رہا۔
تمام دوست صرف اللہ کی رضا کے لئے دکھی ماں باپ کی زندگی بحال کرنے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر ابوبکر کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof