دھوپ کی دیوار سے مغربی دیوار تک
چند سال پہلے، بھارت نے کشمیر پر اپناقبضہ مضبوط کرنے کے لیے اس کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ کشمیر میں "اسرائیلی ماڈل" کی راہ ہموار کی۔ طویل محاصرہ کیا، انٹرنیٹ بند، اضافی نفری تعینات کی، اس کے خلاف مظاہرہے ہوئے، سینکڑوں کشمیری شہید ہوے، ہزاروں زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ کشمیر کی تاریخ کے بدترین باب میں سے ایک باب تھا۔
پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے پہلے تو نہ اس پر نہ کوئی عملی قدم اٹھایا نہ ہی اس پر کوئی تحریک چلنے دی۔ پہلے ایک بیان جاری کیا کہ ہم تو اس آرٹیکل کو پہلے سے مانتے نہیں تھے کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ یہ کشمیر کی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنے کے منصوبے کا پہلا قدم تھا۔ کشمر میں تحریک کھڑی کرنے کی بجائے اپنی عوام کو ہر جمعہ کے روز 15 منٹ دھوپ میں کھڑے کر دیا۔
پھر امریکی ڈکٹیشن پر 'جنگ بندی' پر دستخط کیے تاکہ ہندوستان کو ایل او سی سے ایل اے سی پر فوجیں منتقل کرنے کی آزادی دی جائے عوام کو 'امن' کے نام پر اسٹر یٹجک بلنڈر بیچا گیا۔
سید علی گیلانی مرحوم نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔ ان کے خطوط کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔
بھارت کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط کر رہا تھا، غیر مقامی لوگوں کو کشمیر میں آباد کر رہا تھا۔ اور
ادارے کی طرف سے 'دھوپ کے دیوار' کے تحت اماراتی سالسی سے مودی کے پاکستان دورے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
اس ہی دوران اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کے فضائل بیان کرنے اور اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے مختلف یو ٹیوبرز اور صحافیوں بشمول میرے، کو بھاری رقم کی پیشکش کی گئی۔ جن کے ضمیر زندہ تھے انہوں نے انکار کر دیا باقی جو 'حقیقت پسند ' تھے اس وقت کے ان کے یوٹیوب اور سوشل میڈیا اپ جا کر دیکھ سکتے ہیں
بعد میں حالات بدل گے۔ قوم کو دھوپ میں کھڑا کرنے والے کو بھی سمجھ آئی کہ بندوق کسی اور کی ہے اور کندھا اس کا۔ بعدازاں اس نے بھی اس نیک کام کا حصہ بن کر عوام کو مزید دھوپ میں کھڑا کرنے سے انکار کر دیا۔
اب یہ پراجیکٹ کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اور یہ حکمران اشرافیہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی امنگوں کے مطابق وہ چیز جو اسرائیلی افواج 2 سال میدان میں حاصل نہ کر سکیں اسے میز پر دینے پر لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اپنے یرغمالی لے کر، وہ ہی کرے گا جو وہ ہر 'امن' معاہدے کے بعد کرتا ہے۔ تب یہ سب ٹونی بلیر کی قیادت میں مغربی دیوار قائم کرنے پر لگے ہوں گے۔ جیسے مودی کے ساتھ مل کر 'دھوپ کی دیوار' پر لگے ہوئے تھے۔
بعید نہیں کہ یہ سرکاری ملازمین بھارت کے خلاف اسرائیلی اسلحہ کتنا کام ائے گا اس کے فضائل بیان کرنے لگیں ۔ حالانکہ کہ ابھی تو مئی میں اسرائیلی میزائلوں اور ڈرون سے شہید ہونے والے پاکستانیوں کا خون بھی خشک نہیں ہوا۔
نشیمن ہی کے لٹ جانے کا غم تو کیا ہوتا تھا۔
یہاں تو بیچنے والے نے گلشن بیچ ڈالا ہے۔
@ZulfiqarAhmed69 It could probably cost you less if you use veo 3, and more less if you rent an AWS server and run some open source AI video generation model on it.
We strongly condemn the indiscriminate Iranian attack on Israeli territory. Iran’s nuclear program violates the Non-Proliferation Treaty and poses a threat to the entire region – especially to Israel. @AussenMinDE 2/3
@Himat75 The war is not yet over. It is just diverted from the grounds to the table. If any party fails on it, it might return on the grounds to gain its lost credibility.