13 اپریل 2015 کو میرے والد ظہیر بلوچ حب چوکی جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بس سے اتار کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ۔
آج میرے والد کو لاپتہ ہوئے 9 سال ہو گئے ہیں۔
#ReleaseZaheerBaloch
ہم بہن، بھائی یتیم ہے، میرے والد کے جبری گمشدگی کے بعد میرے بوڈھی دادی ہماری واحد سہارہ ہے۔
بلوچ مائیں جن کے بیٹے انکے بڑھاپے کا سہارا بننے کے بجائے ریاستی ٹارچر سیلوں میں جبری گمشدگی کا عذاب سہہ رہے ہے۔
#BalochistanProtestOnEid#StopBalochGenocide
وائس آف سندھ میسنگ پرسن کی روح رواں سورٹھ لوہار اور سیسی لوہار کے والد ، سیاسی و سماجی کارکن اور استاد ہدایت لوہار کو سائیں جی ایم سید کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔
سندھ کی دو بیٹیاں سسئی اور سورٹھ لوہار نے اپنے والد کے جنازے کو کندھا دے رہی ہیں۔
جس نسل کشی اور جبر کا سامنا بلوچ کر رہا ہے ، اسکا دائرہ کار اس ریاست کے زیر انتظام باقی مظلوم اقوام میں پھیل رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
اس جبر کے روک تھام کا واحد راستہ اجتماعی مزاحمت ہے۔
#JusticeForHidayatLohar
ضلع گْوادر کنٹانی ہور میں ریاستی دہشتگرد قاتل فورسز کوسٹ گارڈ بلوچ مزدور کائیک والے پر سرعام اسپیڈ بوٹ چڈھا کر نہتے مزدور کو کائیک سے گرا کر بغیر کسی جرم قتل کر دیا ،ریاستی فورسز کی اس عمل سے بلوچ قوم۔کو یہ تاثر دیا جاتا ہے آپ کچھ نہیں کسی کا جی چاہیے بلوچوں کی نسل کشی کرے
میرا زندگی کا وہ بدبخت دن جو آب تک کل نہ لاسکا..۔13 اپریل 2015 سے لے کر اب تک میرا والد ظالم کی عقوبت خانون میں قید ہے پورے 9 افسردہ ،تلخ یادوں اور تجربوں سے بھری سال آپ کے بغیر ہی بیت گئے اور ہم 9 سالوں سے اسی اذیت سے چوکھٹ پر بیٹھے آپکےانتظار میں ہیں-
#ReleaseZaheerBaloch
@parigull_08 @Javed_Marri_@SFawaz911Baloch@BalochistanPost@BalochYakjehtiC آپ خدارا صبغت اللہ اور باقی جماعتیوں کو اک ترازو میں نہ تولیں ۔ شاہ جی واجہ مولانا عبدالحق کے سپوت ہیں ۔ شاہ جی کی قدر اور عزت کو ان کے ساتھ موازنہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا
خاران سے تین افراد جبری لاپتہ
جن میں ضعیف العمر گل خان شکاری، اسکا بیٹا میران اور زاھد ولد محمد اختر شامل ہیں
گل خان شکاری کا ایک بیٹا نواب عمران اور بھانجا نجیب ملازئی پہلے سے جبری لاپتہ ہیں، جنکی رہائی کیلئے گل خان شکاری اسلام آباد کے دھرنے میں بھی شریک رہے