Congratulations,Daughter of Dr Deen M Baloch,on receiving this prestigious international award.This recognition is a testament to Ur courage,resilience, and tireless advocacy.May this honor empower U further in Ur mission and bring hope to those whose voices you amplify bravely.
Baloch women are symbol of resistance in Baloch history. From Banadi to Banuk Karima to Sammi Baloch and Mahrang Baloch, Baloch history is full of courageous women who dedicated their whole life to Baloch and Balochistan. This state did not listen to them, made baseless accusations against them and used several tricks to stop them from giving up their struggle, but these women were strong, full of hope and never backed from their struggle. Today, due to their tireless efforts, Baloch are getting world's attention.
Congratulations to Sammi Deen Baloch for being honoured with prestigious Front Line Defenders Award 2024 for Asia and the Pacific region. It is hoped that your efforts and strong voice will guide the Baloch people in every platform.
Congratulations both @MahrangBaloch_ and @SammiBaluch for their Great Achievements.
Congratulations to Sammi Deen Baloch for receiving the Front Line Defenders Award. Her continuous struggle for Baloch rights is a symbol of courage for the oppressed Baloch nation.
#MarchAgainstBalochGenocide
بلوچ نسل کشی کے خلاف عید کے روز پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کیے جائے گے۔ بی وائی سی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری تحریک کے پانچویں فیز کے سلسلے میں عید کے روز پورے بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا، احتجاجی مظاہروں کی شیڈول اور تفصیلات بہت جلد میڈیا میں شائع کی جائے گی۔ جبکہ کراچی اور کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرتے ہیں۔
بلوچ قوم اس وقت اپنی شناخت کے بنیاد پر باقاعدہ نسل کشی کا سامنا کررہی ہے جس میں جبری گمشدگیاں، ماروائے عدالت قتل، فوجی کاروائیاں، جبری بے دخلی، معاشی قتل عام اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ نسل کشی کے خلاف باقاعدہ ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس میں ریاست کے دارلحکومت اسلام آباد میں ایک طویل دھرنا بھی دیا تھا لیکن اس کے باوجود ریاست اپنی بلوچ نسل کشی کے پالیسی کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور جبری گمشدگیاں تیزی سے جاری ہیں جبکہ جبری گمشدگیوں کی شکار افراد کی ماروائے عدالت قتل بھی جاری ہے، گزشتہ دنوں لیاری سے جبری گمشدگی کے شکار دو بلوچ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیے گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بلوچ نسل کشی کے خلاف تحریک اس وقت پانچویں فیز میں جاری ہے۔ ہم بلوچ عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف اس مزاحمتی تحریک میں بھر پور انداز میں شامل ہوجائے اور عید کے روز اپنے گھروں سے نکل کر اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھر پور شرکت کریں۔
The teacher of Government Boys Primary School Inami Baint, Awaran is describing the lack of basic facilities in his school, especially the provision of books. Through #BalochLiteracyCampaign we demand to fulfil the basic educational requirements in the respective school.
میڈیکل کیمپ
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ھمسنتی مہم کے تحت کل بروز اتوار 31 مارچ ، پرائمری اسکول بزپیش بلیدہ میں دن کے 10:30 بجے ایک میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرے گی۔
بلیدہ بزپیش اور اردگرد کے علاقوں میں طبی مسائل کے شکار افراد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے میڈیکل کیمپ میں پہنچ کر ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروائے۔
ہماری بلوچ عوام سے درخواست ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں، تاکہ ضرورت مند لوگوں کو علم ہو سکے۔
جگہ: پرائمری سکول بز پیش بلیدہ
وقت: 10:30 Am
تاریخ: مارچ 31, 2024
#BalochUniteForSurvival
Enforced disappearances continue to devastate Balochistan, leaving families like those of Kabir Baloch, Atta Ullah Baloch, and Mushtaq Baloch in unimaginable agony. Their enduring wait is a poignant reminder of the urgent need to #EndEnforcedDisappearances
ایک ماں کے لیے کتنے تکالیف سے بھرا یہ سفر ہوگا جسکے جوان بیٹے گزشتہ پندرہ سالوں سے جبری گمشدگی کے بعد سے تاحال لاپتہ ہوں ؟ جنکے بارے میں عدلیہ سے لے کر کیمشن انسانی حقوق کی تنظیمں تک ایک ماں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے ہیں ۔
ان پندرہ سالوں میں آپ سب کے لیے کئی موسموں نے رنگ بدلے ہونگے مگر اس ماں کی زندگی اسی ہندسے میں رک گئی جہاں سے انکے بچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔۔
پاکستانی قانون کے مطابق آپ نے کتنا بڑا جرم کیا ہوا اسکی سزا اگر عمر قید بھی ہو تو وہ پندرہ سال سے زائد نہیں ہوتے ۔
مگر پندرہ سالوں سے ایک ماں کے لخت جگر بغیر مقدمات بغیر عدلیہ سے سزا پائے یوں غائب کیے گئے جیسے کہ وہ کھبی تھے ہی نہیں ۔
جبری گمشدگیوں پر جس طرح سے پروپیکنڈہ کیا جاتا ہے جس طرح سے ایک احساس اور انسانی حقوق کے مسلے کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہیں وہ ان ماؤں کے زخموں پر نمک پاشی ہے ۔
بلوچستان میں ریاست نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام تجربات کرکے دیکھے ہیں مگر نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔
بجائے اس مسلے کی احساسیت کو سمجھ کر سنجدگی کا مظاہرہ کیا جاتا جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے
#EndEnforcedDisappearances
Shoaib Baloch and Balach Baloch who are resident of Awaran Gishkore have been forcibly disappeared from kechTurbat Askani yesterday by the CTD.
we demand for the safe recovery
#releaseshaoibandbalachbaloch