بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نا پارہ غان بلوچ لٹریسی کیمپئن نا بناء مروک مہم نا ردئٹ ”سکندر یونیورسٹی خضدار ءِ فعال کننگ“ نا بابت خضدار پریس کلب ئٹی اسہ انٹریکٹو سیشن اس اڈ تننگا۔ دیوان نا بشخ آتیٹ تران، ڈاکومنٹری، پینل ڈسکشن، ڈرامہ، ٹیبلو و کتاب مُچی اوار ئسر۔
بلوچستان یونیورسٹی میں مالی، تعلیمی اور انتظامی مسائل طالبعلموں کی تعلیمی کیرئیر کو مفلوج کرنے سمیت بلوچستان بھر میں اعلی تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں۔
Shahyaq and Farooq, Baloch students, were forcibly disappeared on May 28 in Quetta. Despite their families’ efforts, the police refused to lodge an FIR. This shows the injustice families face while the law favors powerful agencies.
Their families have announced a sit-in protest tomorrow on 3 June at 12 Am in front of the DC office in Quetta. Please Join and support their protest.
#ReleaseFarooqAndShayhaq
Baloch Literacy Campaign
The Baloch Students Action Committee is organizing activities to address the "Functionality of Sikander University Khuzdar" as part of the Higher Education Rights for Balochistan Campaign.
Interactive Session: "Non-Functionality of Sikander University Khuzdar"
Date & Time: 4th June 2024, 11:00 AM
Venue: Khuzdar Press Club
Educational Walk
Date & Time: 6th June 2024, 11:00 AM
Venue: From Azadi Chowk to DC Office, Khuzdar
We appeal to the people of Khuzdar and surrounding areas to participate in these activities and raise your voice for the functionality of Sikander University Khuzdar.
@BLC_BSAC
#BalochLiteracyCampaign
Baloch Students Action Committee
اسکندر یونیورسٹی خضدار میں تدریسی عمل کے اجراء کےلیے جاری کمپین کا حصہ بن کر اپنے اعلی تعلیمی حقوق کےلیے عملی جدوجہد کریں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
معدنی وسائل سے مالامال خطہِ بلوچستان انسانی بنیادی حقوق کی پامالیوں سمیت تعلیم جیسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے شائع کردہ لٹریسی رپورٹس اس بات کے شاہد ہیں کہ بلوچستان میں لٹریسی ریٹ 26 سے 30 فیصد تک ہوگی اور فیمل لٹریسی ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بساک کی جانب سے جو مختلف اسکولوں اور علاقوں کے سروے کیے گئے اور ڈیٹا کلیکشن کی گئی اس کے مطابق 80 سے زائد فیصد اسکول بند ہیں یا مکمل فنکشنل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اگر اعلی تعلیمی سہولیات پر نظر دوڑائی جائے تو بلوچستان کی آبادی، رقبے اور وسائل کی نسبت سہولیات آٹے میں نمک کے برابر ہیں یعنی نہ ہونے کے برابر۔ دنیا بھر میں تعلیم کو انسان کا بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے، بین الاقوامی قوانین، عالمی تعلیم سے متعلق تنظیموں کے مطابق ہر ریاست اپنے شہریوں کو بلا تقریق تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے لیکن بدقسمتی کے ساتھ بلوچستان اور خاص ملک کے بلوچ اکثریتی علاقہ جات تعلیم کے بنیادی سہولیات سے اس جدید دنیا میں بھی محروم ہیں۔ بلوچستان کو دانستہ طور پر تعلیمی میدان میں پسماندہ رکھ کر بلوچ عوام کو الٹریسی کے زریعے شناختی بحران کی طرف دھکیلا جارہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں آتا ہے۔
پچھلے ستر سالوں سے ریاست بلوچستان کے باشندوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح برتاو کرتی آرہی ہے۔ حالانکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 اے، آرٹیکل 37 بی اور سی، آرٹیکل38 ڈی ریاستی اداروں کو پابند کرتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بلاتفریق نسل، زبان اور علاقے تعلیم، انسانی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے پابند ہیں لیکن تعلیمی میدان میں ان محرومیوں اور دوغلے پالیسیوں کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملک بھر میں اس وقت 233 سے زائد رجسٹرد پلک یونیورسٹیاں فنکشنل ہیں جن میں سے 100 سے زائد پنجاب اور اسلام آباد میں جبکہ صرف 09 یونیورسٹیاں اس وقت بلوچستان میں فنکشنل ہیں۔ کراچی سے لے کر جیونی900سے زائد کلومیٹر پر محیط علاقے میں صرف ایک یونیورسٹی وہ بھی محدود وسائل میں کام کررہی ہے۔ اس کے علاوہ کیچ سے لے کر کوئٹہ تک، کوئٹہ سے لے کر ڈیرہ بگٹی ، کوہلو تک، رخشان اور پورے جھالاوان ریجن میں کتنی یونیورسٹیاں موجود ہیں؟ ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر چند ایک جامعات آپکو ملیں گے جو کہ خود بھی پوری طرح اعلی تعلیمی سہولیات کے فقدان سے دو چار ہیں۔
اسکندر یونیورسٹی جو کہ قلات ڈویزن کے دل خضدار میں واقع ہے جس کی منظوری سال 2017ء میں ہوئی اور 2021 ء میں اسکندر یونیورسٹی کے تمام عمارات مکمل تیار ہوگئے ہیں۔ اس وقت اسکندر یونیورسٹی خضدار کے اکیڈمکس بلاکس، ایڈمن بلاک، لائبرئیری ، چاردیواری سمیت تمام ضروری عمارات مکمل تیار ہیں۔ لیکن پورے چار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اسکندر یونیورسٹی میں کلاسز کے اجراء کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی سے کوئی ایکٹ پاس نہیں ہوئی اور نا ہی کلاسسز کا اجرا ء ہو سکا ہے۔ چار سال گزرنے کے بعد یونیورسٹی بلڈنگ فنکشنل نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہورہی ہے۔
اسکندر یونیورسٹی خضدار پورے قلات ڈویزن کے بلوچ عوام اور طالبعلموں کےلیے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن حکومتی عدم توجہی، سیاسی مداخلت اور یونیورسٹی کے تدریسی عمل کے اجراء میں بار بار منظم جاری سازشیں تعلیم دشمن قوتوں کے ہی شاخسانے ہیں۔ ہم خضدار اور قلات بھر کے بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اسکندر یونیورسٹی خضدار میں تردیسی عمل کی فعالیت کےلیے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری مہم کا عملی حصہ بن کر اپنے اعلی تعلیمی حقوق کےلیے آواز اٹھائیں۔
انٹریکٹو سیشن: 04 جون 2024 بمقام پریس کلب خضدار دن 11 بجے
ایجوکیشنل واک: 06 جون 2024 بمقام آزادی چوک تا ڈی سی آفس دن 11 بجے
Press Conference
Baloch Students Action Committee is about to hold a press conference to initiate the campaign "Higher Education Rights for Balochistan" under the Baloch Literacy Campaign.