ہم ختمِ نبوت کی کانفرنسوں میں شیعہ سنی تمام مکاتب کی نمائندہ جماعتوں کو بُلاتے ہیں لیکن سپاہِ صحابہ والوں کو بُلانا بند کردیا ہے کیونکہ یہ محفل کو گندا کر دیتے ہیں۔
- شاہینِ ختمِ نبوت سرتاجِ اہلسنت مولانا اللہ وسایا
جو کافر کے فتوے لگا ہے میں اس کو انسان ہی مشکل سمجھتا ہوں
کافر وہ ہیں جنھیں قرآن میں خدا نے کافر کہا ہے کلعدم سپاہ صحابہ کے کہنے سے کوئی کافر نہیں ہوگا۔۔!!
اللہ وسایا کے بعد ایک اور دیوبند مولانا نے تکفیریوں کو آئینہ دکھا دیا
دو لاکھ سے زائد مسلمان یمن میں مارے گئے سعودی محاصرے کی وجہ سے کسی مولوی کا ایمان نہیں جاگا۔اللہ کے گھر کے جوار میں مجرے کروائے گئے شراب خانے کھولے گئے جفری اپسٹین کو غلاف کعبہ دیا گیا کسی کا ایمان نہیں جاگا۔جوں ہی یمن کے مظلومین اپنے حق کے لئے کھڑے ہوئے مولویوں کا ایمان جاگ گیا
محرم کی چھٹیوں میں مسلمانوں کا ایک طبقہ مری گھومنے جائے گا ۔ دوسرا طبقہ بار بی کیو بنائے گا تیسرا طبقہ رات کو گلیوں میں کرکٹ کھیلے گا چوتھا طبقہ ٹیپ میں قوالی لگا کر حلیم بنائے گا ۔ جبکہ بیچارے کچھ مسلمان اور کافر امام حسین (ع) کی محبت میں جاگ کر عزاداری کریں گے ۔
ہمارے گھر یکم محرم کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر آٹھ ربیع الاول کی عصر تک کسی بھی خوشی کی تقریب نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم کسی خوشی کی تقریب میں شرکت کے لئے جاتے ہیں ان ایام میں ہم سیاہ کپڑے ہی پہنتے ہیں دو مہینے آٹھ دن کا یہ سالانہ سوگ ہے اسے آپ ہماری جہالت کہہ سکتے ہیں قدامت پسندی تنگ نظری یا جو جی میں آئے کہہ سکتے ہیں ہم ایسے ہی ہیں آپ کو ہمارے یہ رسم رواج پسند نہیں تو قطع تعلق کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ ایسی بات کہیں جس سے دل آزاری ہو 🙏🏻
کیونکہ حسینؐ بادشاہ کے بغیر ہمارا کسی صورت گزارہ نہیں اگر ہم کسی کو دوست رکھتے ہیں تو حسینؐ کے لیے اور اگر کسی سے اَنا رکھتے ہیں تو وجہ حسینؐ ہے اس کے علاوہ کسی سے کوئی دشمنی نہیں کسی کو اچھا لگے تو سر آنکھوں پر نا لگے تو اللہ خوش رکھے ☝
حضرت علیؓ کا ایسا فیصلہ کہ آج بھی دنیا کے بڑے بڑے ریاضی دان دنگ رہ جاتے ہیں
ایک دن کا ذکر ہے، تین آدمی آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے چہروں پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی اور لہجے میں بے بسی نمایاں تھی۔ انہوں نے عرض کیا
“یا علیؓ! ہمارے درمیان سترہ اونٹوں کی تقسیم کا معاملہ ہے، لیکن ہم اسے حل نہیں کر پا رہے۔ ہم میں سے ایک کا حصہ آدھا بنتا ہے، دوسرے کا تہائی اور تیسرے کا نواں حصہ۔ ہم نے بہت کوشش کی، مگر سترہ نہ دو پر پورا تقسیم ہوتا ہے، نہ تین پر اور نہ ہی نو پر۔ ہم اونٹوں کو کاٹنا نہیں چاہتے، کیونکہ یہ ظلم ہوگا۔ اب آپ ہی کوئی ایسا فیصلہ فرمائیں کہ ہم سب راضی بھی ہوں اور انصاف بھی قائم رہے۔”
حضرت علیؓ نے ان کی بات نہایت سکون سے سنی۔ آپؓ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے مسئلہ آپؓ کے لیے مشکل نہ ہو بلکہ ایک آسان گرہ ہو جسے بس کھولنا باقی ہو۔ آپؓ نے فرمایا
“تم لوگ فکر نہ کرو، ان شاء اللہ اس کا حل نکل آئے گا، ایسا حل جس میں کسی پر ظلم بھی نہ ہو اور حق بھی پورا ملے۔”
پھر آپؓ نے بیت المال سے ایک اونٹ منگوانے کا حکم دیا۔ جب وہ اونٹ آیا تو آپؓ نے فرمایا:
“اب ہمارے پاس سترہ نہیں بلکہ اٹھارہ اونٹ ہیں۔ اب تقسیم آسان ہو جائے گی۔”
تینوں آدمی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، مگر خاموش رہے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ حضرت علیؓ جو کریں گے، انصاف کے مطابق ہوگا۔
حضرت علیؓ نے تقسیم شروع کی
پہلے شخص کو اس کا آدھا حصہ دیا — یعنی 18 کا آدھا = 9 اونٹ۔
دوسرے کو اس کا تہائی حصہ دیا — یعنی 18 کا تہائی = 6 اونٹ۔
تیسرے کو اس کا نواں حصہ دیا — یعنی 18 کا نواں = 2 اونٹ۔
جب تقسیم مکمل ہوئی تو سب نے گِنا:
9 + 6 + 2 = 17 اونٹ۔
یوں اصل سترہ اونٹ مکمل طور پر تقسیم ہو گئے، اور ایک اونٹ جو بیت المال سے آیا تھا، وہ بچ گیا۔ حضرت علیؓ نے وہ اضافی اونٹ واپس بیت المال میں بھیج دیا۔
یہ منظر دیکھ کر تینوں آدمی دنگ رہ گئے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی اور حیرت بھی۔ ان کا جھگڑا ختم ہو چکا تھا، کسی کا حق کم نہیں ہوا تھا، اور ایک بھی اونٹ کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔
وہ مولا علیؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ ان کے دل اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ حکمت، بصیرت اور عدل کا ایسا حسین امتزاج تھا جو صرف اللہ کے خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل دانائی صرف علم میں نہیں، بلکہ اس علم کو صحیح وقت پر، صحیح انداز میں استعمال کرنے میں ہے۔ اور حضرت علیؓ کی زندگی اسی حکمت و فراست کی روشن مثال ہے، جس کی روشنی آج بھی دلوں اور ذہنوں کو منور کرتی ہے۔
درجنوں بار لکھ چکا کہ تہتر فرقوں والی کوئی حدیث نہیں ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کوئی فرمان جاری نہیں کیا
یہ موضوع روایت کہیں بہت بعد میں گھڑی گئی اور اس کا واحد مقصد فرقوں کے وجود کو جواز فراہم کرنا ہے
یعنی جو لوگ اپنے ذاتی مفادات اور دھندے کیلئے فرقے، گروہ اور جماعتیں بناتے ہیں
وہ اپنی فرقہ واریت کا الزام بھی معاذاللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لگا دیتے ہیں
استغفرُللہ العظیم !
پہلے تو جان رکھیں کہ اللہ نے قرآن میں فرقہ پرستی سے صاف منع کیا ہے
دوسرا سورہ انعام میں فرمان جاری کر دیا کہ جو لوگ دین میں فرقے بنا لیں گے ان کا نبی کریم ﷺ سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا
تیسرا یہ جان لیں کہ دین اسلام کی تمام تر تعلیمات لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہیں
توڑنے والا کچھ ہے ہی نہیں تو دین اسلام میں فرقے کیوں بنیں گے ؟؟
یہ جو فرقے بناتے ہیں
وہ دراصل دین اسلام کے باغی ہیں
چوتھا یہ جان لیں کہ ہر فرقہ خود کو جنتی اور باقی بہتر فرقوں کو دوزخی کہتا ہے
یہ عجیب لطیفہ ہے کہ تہتر کے تہتر فرقے اپنے مطابق جنتی ہیں
اور دوسروں کے مطابق دوزخی ہیں
اور اس روایت کے جھوٹی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ سیدھا قرآن سے ٹکراتی ہے
دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ روایت درست ہوتی اور یہ واقعی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہوتا تو فرقے پھر تہتر ہی رہتے
جبکہ فرقے تو دو سو سے بھی بڑھ چکے ہیں
صرف بریلویوں کے رجسٹرڈ گروہ سترہ اور غیر رجسٹر ملا کر چالیس ہیں
میرے یوٹیوب چینل پر اس موضوع پر ایک ویڈیو موجود ہے کہ جس میں ، میں نے سو سے زیادہ فرقوں کے نام تو باقاعدہ بتائے ہیں
جو بن کر تاریخ کی گرد میں گم ہو گئے
ان کا تو شمار ہی نہیں ہے
اور ان سب فرقوں کے جھوٹا اور فراڈ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ آپ قرآن و سیرت النبی ﷺ سے ہر فرقے کو غلط ثابت کر سکتے ہیں
جبکہ یہ سارے فرقے مل کر بھی دین اسلام میں ایک معمولی سی خامی تلاش نہیں کر سکتے
اس سے واضح ہے کہ دین اسلام اللہ و رسول ﷺ کا ترتیب دیا ہوا دین ہے
جبکہ فرقے عیار مولویوں کے بنائے ہوئے ہیں
رسول اللہ ﷺ کا دین چھوڑ کر آپ جس کسی بھی فرقے پر رہنا چاہیں
آپ کی مرضی ہے
مگر خدا کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان مت باندھیں کہ فرقے بننے کی بات رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے
رسول اللہ ﷺ نے تو اہل بیت رسول ﷺ اور قرآن کا دامن تھامنے کا حکم دیا
تاکہ امت کبھی تقسیم نہ ہوا
اور تقسیم صرف وہی ہوئے کہ جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا فرمان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
امت کا وہ گروہ کہ جس نے اہل بیت رسول ﷺ اور قرآن کا دامن تھامے رکھا
ان میں کبھی کوئی فرقہ نہ بنا
وہ چودہ صدیوں سے متحد کیسے چلے آ رہے ہیں
اگر یہ روایت درست ہوتی تو پھر ان پہ اس کا اثر کیوں نہ ہوا ؟؟
فرقے صرف دین اسلام کے باغیوں اور نافرمانوں میں بنے ہیں
دین اسلام میں کوئی فرقہ نہیں ہے
اور جو فرقے میں ہے
ظاہر ہے وہ دین میں نہیں ہے
میں رائے مختار احمد الحمدللہ رب العالمین !
کسی فرقے کا حصہ نہیں ہوں
میں صرف مسلمان ہوں
میرا دین اسلام ہے
جو کہ دین محمد ﷺ ہے
میں نے اللہ کے فضل و کرم سے اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم اور قرآن کا دامن تھام رکھا ہے
مجھے دین کی تعلیم اور علم حاصل کرنے کیلئے کسی ملا کی ضرورت نہیں ہے
ثم الحمد اللہ !
#دین_اسلام
کہنے لگے :
آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بعد از انبیا افضل البشر نہیں مانتے ؟؟
عرض کیا :
اگر نہ مانوں تو کیا ہو گا ؟؟
اور مان لوں تو کیا فرق پڑے گا ؟؟
غیر متوقع جواب سن کر گڑبڑا گئے
آئیں بائیں شائیں کرنے کے بعد خاموش ہو گئے
انہیں بتایا کہ :
جو عقائد اللہ و رسول ﷺ نے نہیں دئیے
ان کو ثابت کرنے یا ان کی تبلیغ کی کوشش کیوں کرتے ہو ؟؟
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شمار السابقون الاولون صحابہ کرام میں ہوتا ہے
وہ اسلامی ریاست کے پہلے خلیفہ یعنی حکمران تھے، انہوں نے قرآن و سنت کی پیروی کی
اچھے کام کیے
اللہ نے انہیں اجر دے گا
بات ختم :
نہ تو ہمیں ان کی نیکیوں سے حصہ ملے گا
نہ ہم سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا
نہ ان سے ہمارے بارے میں سوال ہو گا
ہماری آخرت ہمارے ذاتی اعمال و افعال سے جڑی ہے، لہذا اپنے اعمال سنوارو
فرقہ پرست ملاؤں کے دھوکے میں مت آؤ
اچھے انسان بنو
اچھا انسان ہی اچھا مسلمان ہے
#دین_اسلام
شان ابو طالب علیہ السّلام اہل حدیث مرد مجاھد مولانا اسحاق کی زبانی۔
جو اسرائیلی خچر ابو طالب کے ایمان پر بات کرتے ہیں امید ہے اس کے بعد انہیں سکون ہو گا۔
ویسے تو تشریف جلے گی انکی۔😂😂😂
#حافظ_قوم_کا_محافظ#earthquake
چند گھنٹوں کے لیے صندوق نے معصوم نبی کو گود میں لے لیا سب سمجھ گئے کہ صندوق صاحبِ فضیلت ہے اور بارہ برس ابو طالبؐ، محمدؐ کو گود میں لیے بیٹھے رہا
آیت اللہ علامہ طالب جوہری قبلہ۔
ہم تہران گئے تو سپریم لیڈر خامنہ ای سے ہماری ملاقات تھی میری باری آئی تو میں دائیں بائیں ہو گیا اور میں نے ان سے ہاتھ نہیں ملایا اپنی طرف سے میں نے بہت بڑا کام کیا کیونکہ ہمیں اہل تشیع کے بارے میں غلط نظریات پڑھائے گئے تھے لیکن خامنہ ای امام حسین کے جملے کو دہراتے ہوئے دنیا سے گئے کہ میرا جیسا ٹرمپ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ۔۔