میں د��د کا گاہک ہوں ، سو بہتان تراشو
بہتان بھی ایسا کہ کمر توڑ کے رکھ دے
اک درد اٹھے پیر کے ناخن سے اچانک
اور جسم سے ہوتا ہوا سر توڑ کے رکھ دے
#قومی_زبان
بساط سے کہیں بڑھ کر بڑی لگاتے ھیں
بچھڑنے والے بھی شرطیں کڑی لگاتے ھیں
کوئی بھی رُت ھو یہ آنکھیں برستی رھتی ھیں
تمہارے دکھ مرے اندر جھڑی لگاتے ھیں
#قومی_زبان