وہ ائیر کموڈور نہ بھی ہوتے تو سینئر سیٹیزن کے طور پر انہیں وہ عزت اور احترام ملنا چاہئیے تھا جو ہر مہذب معاشرے میں ملتا ہے۔ پھر ایک خاتون کی موجودگی تو پولیس افسر پر مزید ذمہ داری عائد کر رہی تھی کہ رویے میں نرمی اور لہجے میں شائستگی رکھے۔ سیاسی جماعتوں کی کھینچا تانی میں شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہو سکتی۔ اس افسوس ناک رویے پر پولیس کو خود محکمانہ کاروائی کا آغاز کرنا چاہئیے۔
@SoldierViews شہریوں کو پیشہ ور قاتلوں کی طرح سر پر گولیاں مار کر شہید کرنے والے عوام کے محافظ اور خیرخوا نہیں ہو سکتے۔ اگر ان کو بھی چھوڑ دیا گیا تو ان کی حوصلہ افزائ کرنے کے مترادف ہوگا۔ عمران خان ہمیشہ عوام کو پر امن احتجاج کرنے کا سبق دیتا ہے۔ یہ وہی گلو بٹ ہیں جو بدمعاشیہ کے کارندے ہیں۔
کیا یہ حب اوطنی ہے کہ باجوہ نے ۱۲۰۰ کروڑ کی جائیدادیں بنائیں؟ اور اقرار بھی کیا، کیا ۱۳ آرمی آفیسرز کی چھپے پلاٹ نکلے اور کیس بھی چلا وہ بھی درست ہے، آرمی پبلک میں بچوں کو شہید کروایا جان بوجھ کر وہ جائز ہے؟ عاصم باجوہ کی ۱۰۰ Papa Johns نکلی وہ جائز ہے، یہ ملک لوٹ کر کھا گئے وہ سب جائز ہے؟ مت بھولو یہ پراپرٹی بھی ہماری ہے۔ کونسا آرمی چیف پاکستان میں بسر کررہا ہے سوائے اسلم بیگ کے؟
کیا احسان اللہ احسان کو بھگانے والے محب وطن ہیں۔ کیا پولیس سول لائنز کی مسجد میں پلانٹڈ دھماکہ کروانے والے محب وطن ہیں؟ کیا سال بھی لال مسجد میں شدت پسندوں کو جمع ہونے دینے والے محب وطن تھے۔ ہاں جی وہی لال مسجد جو آبپارہ والے نامعلوم سے 500 میٹر دور ہے۔ مقصد یہ پیغام دینا کے ہم ہیں تو تم سب ہے۔